Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Thursday, July 23, 2026

وقت رخصت

#نصیحت
#توحید
#حسن_خاتمہ

نصیحت
تحریر فیصل مقصود

مرنے سے چند لمحے پہلے وہ خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے۔ آنکھوں میں زندگی بھر کے تجربات تھے اور چہرے پر رخصت کا سکون۔ پھر دھیمی آواز میں بولے: "بیٹا! میری پوری زندگی کا نچوڑ یاد رکھنا۔ یہ دنیا فانی ہے۔ اس کی چمک، اس کی رونق، اس کی محبتیں، اس کی نفرتیں، اس کی کامیابیاں اور اس کی ناکامیاں، سب وقت کے ساتھ مٹ جانے والی ہیں۔ اس کے کسی بھی دھوکے کا شکار مت ہونا، کیونکہ دنیا ہمیشہ حقیقت کو نہیں، خواہشات کو خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہے۔"

چند لمحے توقف کیا، پھر گویا ہوئے: "سب سے بڑھ کر یہ یاد رکھنا کہ اللہ وحدہٗ لا شریک کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرانا۔ انسان اگر پوری دنیا بھی جیت لے، مگر اپنے رب کو کھو دے، تو وہ سب سے بڑا خسارے والا ہے۔ یاد رکھنا، موت اختتام نہیں، واپسی ہے؛ اور ہر واپسی اپنے اصل مالک کی طرف ہوتی ہے۔ کوشش کرنا کہ اس کے حضور ایسے حاضر ہونا کہ تمہارا نامۂ اعمال تمہارے خلاف نہیں، تمہارے حق میں گواہی دے۔"

انہوں نے میری طرف دیکھا، جیسے آخری مرتبہ دل میں کوئی امانت رکھ رہے ہوں، اور فرمایا: "حق کو کبھی لوگوں کی تعداد سے مت پرکھنا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حق اکثر تنہا رہا ہے اور باطل کے گرد ہمیشہ ہجوم رہا ہے۔ اگر کبھی ایسا وقت آئے کہ پوری دنیا ایک طرف ہو اور حق دوسری طرف، تو ہجوم کا حصہ مت بننا، حق کا ساتھی بن جانا۔ تنہا ہونا ناکامی نہیں، باطل کے ساتھ کھڑا ہونا اصل محرومی ہے۔"

پھر بولے: "اپنے ضمیر کو کبھی فروخت مت کرنا۔ دنیا تمہیں ایسے مواقع دے گی جہاں سچ بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی اور خاموش رہنے کا انعام ملے گا، مگر یاد رکھنا، جو شخص اپنے ضمیر کی آواز دبا دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کی روشنی بجھا دیتا ہے۔ انسان کی اصل عزت لوگوں کی تعریف میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں ہے جب وہ اپنے رب کے سامنے سرخرو کھڑا ہو۔"

ان کی سانسیں مدھم ہونے لگیں، مگر الفاظ پہلے سے زیادہ روشن تھے۔ فرمانے لگے: "بیٹا! لوگوں کو راضی کرنے کی کوشش میں اپنے رب کو ناراض مت کر بیٹھنا۔ لوگوں کی رضا موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہے، مگر اللہ کی رضا ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ لوگ تمہیں تمہاری کامیابیوں تک یاد رکھیں گے، مگر اللہ تمہیں تمہارے اخلاص، تمہارے تقویٰ اور تمہارے اعمال سے پہچانے گا۔"

پھر آہستہ سے مسکرائے اور بولے: "وقت کی قدر کرنا۔ زندگی دراصل سانسوں کی گنتی کا نام نہیں، بلکہ ان سانسوں میں کیے گئے اعمال کا نام ہے۔ کل پر مت چھوڑنا، کیونکہ بہت سے لوگ کل کی امید میں سوتے ہیں مگر ان کی آنکھ قیامت کی صبح کھلتی ہے۔ نیکی میں تاخیر اور گناہ میں بے خوفی، دونوں انسان کو تباہ کر دیتے ہیں۔"

کمرے میں خاموشی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ میں ان کی ہر بات کو دل میں محفوظ کر رہا تھا۔ پھر ان کے لب ہلے، زبان پر کلمۂ طیبہ جاری ہوا، چہرہ اطمینان سے روشن ہو گیا، اور اگلے ہی لمحے روح اپنے خالقِ حقیقی کی طرف پرواز کر گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ایک جسم نہیں، بلکہ ایک پوری زندگی اپنی گواہی دے کر رخصت ہو گئی ہو۔

اس دن مجھے معلوم ہوا کہ انسان مرتے وقت اپنی جائیداد، کاروبار، شہرت یا تعلقات کی وصیت نہیں کرتا؛ وہ صرف وہی باتیں دہراتا ہے جنہیں وہ اپنی نجات کا سرمایہ سمجھتا ہے۔ خوش نصیب وہ نہیں جو دنیا سے بہت کچھ لے کر جائے، بلکہ وہ ہے جو دنیا میں حق، توحید، کردار اور نیک نصیحت کی ایسی میراث چھوڑ جائے جو اس کے بعد بھی دلوں کو زندہ رکھے۔ آخرکار انسان کی اصل پہچان اس کی چھوڑی ہوئی دولت نہیں، بلکہ وہ سچ ہوتا ہے جو اس کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Wednesday, July 22, 2026

خواہشوں کے اسیر

#خواہشوں_کے_اسیر
#قناعت_ہی_دولت_ہے
#اصلاح_نفس

خواہشوں کے اسیر
تحریر: فیصل مقصود

"مجھے یہ نہیں، وہ چاہیے تھا۔"
"ایسا نہیں، ویسا چاہیے تھا۔"

انسان کی زندگی کا شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ نعمتوں سے زیادہ محرومیوں کو گنتا ہے۔ جو اس کے پاس ہے، وہ اسے معمولی لگتا ہے، اور جو اس کے پاس نہیں، وہی اسے اپنی خوشی کی آخری شرط محسوس ہوتا ہے۔

کبھی اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا...
جو کچھ مجھے مل چکا ہے، آخر اس پر اطمینان کیوں نہیں؟ شکر کیوں نہیں؟

اگر کسی چیز کے ملنے میں چند دن، چند مہینے یا چند سال کی تاخیر ہو جائے تو کیا زندگی رک جاتی ہے؟ اگر وہ چیز کبھی نہ بھی ملے تو کیا سانسیں ختم ہو جاتی ہیں؟

ہرگز نہیں۔

اصل مسئلہ رزق کی کمی نہیں، قناعت کی کمی ہے۔ مسئلہ نعمتوں کی قلت نہیں، بلکہ اس نفس کی بھوک ہے جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔

نفس کی عجیب فطرت ہے؛ اسے ایک خواہش پوری کر دو تو وہ دوسری پیدا کر دیتا ہے، دوسری پوری ہو جائے تو تیسری، پھر چوتھی... یہاں تک کہ انسان پوری زندگی "اور... اور... اور..." کے تعاقب میں گزار دیتا ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ اگلی کامیابی، اگلا گھر، اگلی گاڑی، اگلا عہدہ یا اگلا کاروبار اسے سکون دے گا، مگر سکون منزل پر نہیں، قناعت میں ہوتا ہے۔

خواہشیں بری نہیں ہوتیں، مگر جب وہ انسان کی مالک بن جائیں تو وہ عبادت بھی چھین لیتی ہیں، رشتے بھی، اخلاق بھی، اور کبھی کبھی ایمان بھی۔

پھر انسان دولت نہیں کماتا، بلکہ دولت اسے استعمال کرنے لگتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں نکالتا، والدین کے لیے فرصت نہیں پاتا، دوستوں سے تعلق ٹوٹ جاتے ہیں، سجدے مختصر ہو جاتے ہیں، اور ضمیر کی آواز دھیرے دھیرے مدھم پڑنے لگتی ہے۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب حلال کم لگنے لگتا ہے اور حرام آسان۔

ایک جھوٹ...
ایک دھوکا...
ایک رشوت...
ایک سود...
ایک فراڈ...
اور انسان اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ "صرف اس بار..."

مگر حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کو ایک ہی بار میں جہنم تک نہیں لے جاتا، وہ صرف پہلا قدم اٹھواتا ہے۔

ذرا سوچو...

جس مال کو جمع کرنے کے لیے تم نے راتوں کی نیند قربان کی، بھوک برداشت کی، صحت برباد کی، دوسروں کے حقوق مارے، ضمیر کا سودا کیا، اور حلال و حرام کی سرحدیں مٹا دیں، کیا وہ مال ہمیشہ تمہارے پاس رہے گا؟

ہرگز نہیں۔

ایک دن موت آئے گی۔
وہ نہ تمہارے منصوبوں کی تکمیل کا انتظار کرے گی، نہ تمہارے خوابوں کی۔ وہ تمہاری زندگی کے بیچوں بیچ ایک ایسا فل اسٹاپ لگا دے گی جس کے بعد کوئی نیا جملہ نہیں لکھا جا سکے گا۔

پھر تم چلے جاؤ گے...

اور تمہارے گھر میں تمہاری الماریوں کی چابیاں تلاش کی جائیں گی، بینک اکاؤنٹس کا حساب ہوگا، جائیداد کے کاغذات کھلیں گے، وراثت تقسیم ہوگی، اور اگر مال زیادہ ہوا تو محبتیں کم اور مقدمے زیادہ ہوں گے۔

بھائی بھائی کے مخالف کھڑے ہوں گے۔
اولاد ایک دوسرے پر الزام لگائے گی۔
عدالتیں آباد ہوں گی۔
ایف آئی آر درج ہوں گی۔

اور ممکن ہے وہی لوگ، جن کے لیے تم نے اپنی پوری زندگی کھپا دی، چند برس بعد تمہارا نام بھی احترام سے نہ لیں۔

کتنی عجیب بات ہے...
ساری زندگی انسان ان چیزوں کو جمع کرتا رہتا ہے جو ایک دن اس سے جدا ہو جائیں گی، اور ان اعمال کو بھول جاتا ہے جو قبر میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

یاد رکھو...

تم اپنے مال کے مالک نہیں، چند دن کے امین ہو۔
اصل سوال یہ نہیں کہ تم نے کتنا کمایا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیسے کمایا؟

جس دن تمہارے جسم پر کفن لپیٹا جائے گا، اس دن نہ تمہارے کپڑوں میں جیب ہوگی، نہ بینک بیلنس ساتھ ہوگا، نہ پلاٹ، نہ گاڑیاں، نہ سونا۔

صرف اعمال ہوں گے...

اگر خواہشیں تمہارے آقا بن گئیں تو تم کبھی سکون نہیں خرید سکو گے، چاہے پوری دنیا تمہارے قدموں میں ڈال دی جائے۔

اور اگر شکر تمہارا مزاج بن گیا تو ممکن ہے خالی جیب کے باوجود تم دنیا کے امیر ترین انسان بن جاؤ۔

یاد رکھنا...

خواہشیں انسان کو کبھی امیر نہیں بناتیں، صرف مزید محتاج بنا دیتی ہیں۔

اور دنیا کا سب سے مفلس انسان وہ نہیں جس کے پاس کم مال ہو، بلکہ وہ ہے جس کے نفس کی بھوک کبھی ختم نہ ہو۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

قیامت کا گزرنا

#انسان_ہونے_کا_حق
#اخلاق_سے_معاشرہ
#خود_احتسابی

قیامت کا گزرنا
تحریر فیصل مقصود

"قیامت گزرنا" کوئی محاورہ نہیں، نہ ہی جذبات کی مبالغہ آرائی ہے۔ یہ دراصل انسان کی برداشت کی وہ آخری حد ہے جہاں پہنچ کر اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس سے بڑا صدمہ، اس سے زیادہ بے بسی، اس سے گہری اذیت اور اس سے کڑی آزمائش شاید اس کی زندگی میں کبھی نہیں آئی۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں جسم زندہ رہتا ہے مگر روح تھک جاتی ہے، آنکھیں کھلی ہوتی ہیں مگر خواب مر جاتے ہیں، اور انسان بول سکتا ہے مگر اس کے درد کے لیے الفاظ ناکافی ہو جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے دنیا انسان کے زخموں سے زیادہ اس کے ردِعمل کو دیکھتی ہے۔ لوگ آپ کی خاموشی کو غرور، آپ کی تلخی کو بدتمیزی، آپ کی تنہائی کو تکبر اور آپ کی بے بسی کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی یہ جاننے کی زحمت نہیں کرتا کہ جس شخص پر وہ تبصرہ کر رہا ہے، اس کے دل کے اندر کتنی جنگیں جاری ہیں، کتنی امیدیں دفن ہو چکی ہیں اور کتنی راتیں اس نے بے خوابی اور بے بسی کے درمیان گزاری ہیں۔

ایک لمحے کے لیے اس شخص کا تصور کیجیے جو تیرنا نہیں جانتا اور اچانک گہرے پانی میں گر جاتا ہے۔ وہ پوری طاقت سے ہاتھ پاؤں مارتا ہے، ہر سانس زندگی کی بھیک مانگتی ہے، ہر لمحہ موت اور زندگی کے درمیان جھول رہا ہوتا ہے۔ دوسری طرف کنارے پر کھڑا شخص بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ "اگر یہ یوں کرتا تو بچ جاتا۔" اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ کنارے پر کھڑے ہو کر عقل کی بات کرنا آسان ہے، مگر ڈوبتے ہوئے انسان کے فیصلے عقل سے نہیں بلکہ خوف، بے بسی اور زندہ رہنے کی آخری خواہش سے پیدا ہوتے ہیں۔

زندگی کا سب سے بڑا ظلم یہی ہے کہ ہم دوسروں کے حالات کو اپنے حالات کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ہم اپنی آسانیوں کو دوسروں کی ذمہ داری بنا دیتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کو دوسروں کی ناکامی کا معیار۔ حالانکہ ہر انسان کی کہانی الگ ہے، اس کے زخم الگ ہیں، اس کی تربیت، وسائل، مجبوری، نفسیات، ماحول اور قسمت الگ ہے۔ جس راستے پر چلنا آپ کے لیے آسان تھا، ممکن ہے وہ کسی دوسرے کے لیے کانٹوں سے بھی زیادہ دشوار ہو۔

زندگی کبھی دو انسانوں کو ایک جیسے حالات، ایک جیسی آزمائشیں اور ایک جیسے مواقع نہیں دیتی، اس لیے دو انسانوں کے فیصلوں کا موازنہ بھی مکمل انصاف نہیں ہو سکتا۔ انصاف صرف قانون کا نام نہیں، بلکہ حالات کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔ جو شخص صرف عمل دیکھتا ہے وہ قاضی بن جاتا ہے، مگر جو عمل کے پیچھے چھپی مجبوری کو بھی دیکھ لیتا ہے، وہ انسان بن جاتا ہے۔

اسی لیے میں ہمیشہ اپنے حلقۂ احباب سے ایک گزارش کرتا ہوں کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کیا کریں۔ کسی کو اپنی عقل کے پیمانے سے ناپ کر بیوقوف نہ سمجھیں، کسی سے بلاوجہ نہ الجھیں، اور ہر انسان کو انسان ہونے کا مارجن دیں۔

اسے غلطی کرنے کا مارجن دیں، سیکھنے کا مارجن دیں، سنبھلنے کا مارجن دیں، وقت کے ساتھ بدلنے کا مارجن دیں، خاموش رہنے کا مارجن دیں، اور اپنی زندگی کو اپنی سمجھ اور اپنی استطاعت کے مطابق گزارنے کا مارجن دیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کا وہ باب پڑھ رہا ہوتا ہے جسے آپ نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔

کسی کے لیے زندگی تنگ نہ کریں۔ اس کی سانسوں کی روانی نہ چھینیں۔ اس کے رزق کے نوالوں پر سانپ بن کر نہ بیٹھیں۔ کسی کی عزت کو اپنی انا کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ کسی کی لغزش کو اس کی پوری شخصیت کا تعارف نہ بنا دیں۔ یاد رکھیے، بعض اوقات ایک سخت جملہ، ایک بے بنیاد الزام، ایک ذلیل کرنے والی نگاہ یا ایک ناانصاف فیصلہ کسی انسان کو عمر بھر کے لیے اندر سے توڑ دیتا ہے۔

اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں؛ آپ کو لوگوں کے اعمال کا نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ آپ نہ کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، نہ جہنمی ہونے کا۔ آپ نہ کسی کے گناہوں کے مالک ہیں، نہ اس کی نیکیوں کے۔ جزا و سزا کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، انسان کے پاس نہیں۔ جب انسان یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لینے لگتا ہے تو وہ انصاف نہیں کرتا، بلکہ اپنی خواہشات، تعصبات اور انا کی غلامی کرنے لگتا ہے۔

ہم اکثر دوسروں کے کردار کے قاضی اور اپنے نفس کے وکیل بن جاتے ہیں۔ دوسروں کی غلطیاں ہمیں دور سے دکھائی دیتی ہیں، مگر اپنی لغزشوں پر ہم دلیلیں تراش لیتے ہیں۔ حالانکہ مہذب انسان وہ نہیں جو ہر وقت دوسروں کا حساب لیتا پھرے، بلکہ وہ ہے جو ہر رات سونے سے پہلے اپنا حساب خود کر لیتا ہے۔

ہاں، اگر آپ کو کسی میں ایسا عیب نظر آئے جو اخلاقی معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہو تو خاموش تماشائی بھی نہ بنیں۔ اسے حکمت، محبت، نرمی اور اس کی سمجھ کے مطابق نصیحت کریں۔ خیرخواہی ایمان کا حصہ ہے، لیکن جبر ایمان کا طریقہ نہیں۔ نصیحت کا مقصد انسان کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ اس کے اندر شعور بیدار کرنا ہے۔ اگر وہ بات مان لے تو اللہ کا شکر ادا کریں، اور اگر نہ مانے تو اپنا فرض ادا کرنے کے بعد اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ آپ دلیل دے سکتے ہیں، راستہ دکھا سکتے ہیں، دعا کر سکتے ہیں، مگر کسی کے دل پر قبضہ نہیں کر سکتے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی کھیل کا میدان نہیں بلکہ امتحان کا میدان ہے۔ یہاں ہر لفظ لکھا جا رہا ہے، ہر عمل محفوظ ہو رہا ہے، ہر نیت کا وزن کیا جا رہا ہے۔ جو انسان زندگی کو محض خواہشات، انا، ضد اور وقتی لذتوں کا نام سمجھ لیتا ہے، وہ آخرکار اپنے ہی فیصلوں کے ملبے تلے دب جاتا ہے۔ زندگی کو اس حق کے ساتھ جینا چاہیے جس حق کے ساتھ اللہ نے ہمیں زندگی عطا کی ہے؛ ذمہ داری کے ساتھ، انصاف کے ساتھ، رحم کے ساتھ اور اصولوں کے ساتھ۔

انسان اور جانور کے درمیان بنیادی فرق صرف عقل نہیں، بلکہ اخلاق ہے۔ جانور جبلّت کے مطابق جیتا ہے، مگر انسان کو اصولوں، شعور، عدل، رحم، برداشت اور جواب دہی کے ساتھ جینا سکھایا گیا ہے۔ اگر انسان بھی اپنی خواہش، غصے، حسد، لالچ اور طاقت کے پیچھے چلنے لگے تو پھر اس کے اور جانور کے درمیان فرق صرف شکل کا رہ جاتا ہے، کردار کا نہیں۔

لہٰذا فیصلہ سنانے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کیجیے، ردعمل دینے سے پہلے سوچنے کی عادت اپنائیے، اور کسی انسان کو اس کی ایک غلطی، ایک کمزوری یا ایک آزمائش کی بنیاد پر مت پرکھیے۔ ہو سکتا ہے کل وہی شخص آپ سے بہتر ثابت ہو، اور ہو سکتا ہے کل آپ خود اسی آزمائش سے گزر رہے ہوں جس پر آج آپ کسی اور کو ملامت کر رہے ہیں۔

یاد رکھیے، ایک مہذب معاشرہ قانون سے پہلے اخلاق پر کھڑا ہوتا ہے، اور اخلاق کی پہلی سیڑھی یہ ہے کہ ہم انسان کو انسان سمجھیں، مقدمہ نہیں؛ اور اس کے دل کو امانت سمجھیں، شکار نہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks


Sunday, July 19, 2026

ضمیر کی موت

ضمیر کی موت
تحریر فیصل مقصود

مجھے حیرت نہیں ہوتی، بلکہ خوف آتا ہے۔ خوف اس بات کا کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان کے جسم زندہ ہیں مگر ضمیر آہستہ آہستہ مر رہے ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جہاں زبان پر انسانیت کا نام ہے مگر دلوں میں نفرتوں کے قبرستان آباد ہیں۔

ہم بظاہر انسانیت کا دم بھرتے ہیں، حقوقِ انسان کی باتیں کرتے ہیں، محبت، رواداری، اخوت اور خیر خواہی کے درس دیتے ہیں۔ بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں، وعدے کرتے ہیں اور اپنے کردار کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں کہ گویا ہم سے زیادہ نیک، متقی، زاہد اور پرہیزگار کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن جب ہمارے دلوں کے پردے ہٹتے ہیں تو وہاں اخلاص کم اور نفاق زیادہ نظر آتا ہے، محبت کم اور حسد زیادہ، عاجزی کم اور انا زیادہ۔

ہم نے دین کو الفاظ میں اور دنیا کو دل میں جگہ دے دی ہے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس حد تک منافق اور دوغلے کیسے ہو گئے کہ دوسروں کو مصیبت، پریشانی، نقصان یا ذلت میں دیکھ کر ہمارے دلوں میں سکون اترنے لگتا ہے۔ کسی کی کامیابی ہمیں بے چین کرتی ہے اور کسی کی ناکامی ہمیں خوشی دیتی ہے۔ اگر کسی کا کاروبار تباہ ہو جائے، گھر بکھر جائے، عزت خاک میں مل جائے یا اس کا خون بہہ جائے تو افسوس سے پہلے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ گویا انسان کی تکلیف نہیں، ہمارے لیے ایک تماشا بن گئی ہو۔

ارے اللہ کے بندو! ہوش کے ناخن لو۔ ضد، انا، تعصب اور نفرت میں اس قدر بھی آگے مت بڑھو کہ تمہیں اپنے ہی بھائی کا نقصان خوشی دینے لگے۔ یاد رکھو، دوسروں کے زخموں پر مسکرانے والا انسان سب سے پہلے اپنے ہی کردار کو زخمی کرتا ہے۔

المیہ صرف یہ نہیں کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم جھوٹ کو ذہانت سمجھنے لگے ہیں۔ منافقت کو مصلحت، غیبت کو تبصرہ، بہتان کو خبر اور کردار کشی کو آزادیِ اظہار کا نام دے دیا گیا ہے۔

آج کسی کی عزت ہمارے پاس امانت نہیں رہی۔ کسی کی کمزوری ہمارے لیے اصلاح کا موقع نہیں بلکہ تفریح کا سامان بن گئی ہے۔ اگر کسی کی اولاد اس کے قابو میں نہ رہے تو ہم خاندانوں میں افسانے گھڑنے لگتے ہیں۔ اگر کسی کے گھر آزمائش آ جائے تو ہم مدد کرنے کے بجائے قصے سنانے لگتے ہیں۔ اگر کسی کی لغزش سامنے آ جائے تو ہم اس کی پوری زندگی کو اسی ایک لمحے میں قید کر دیتے ہیں۔

ہمیں لوگوں کے راز معلوم کرنے کا شوق ہے، مگر اپنے عیب دیکھنے کی فرصت نہیں۔

ہم زندہ لوگوں کی کردار کشی کرتے ہیں، اور جب وہ دنیا سے چلے جائیں تو ان کے عیب بیان کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ مرنے والا اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتا، مگر ہماری زبانیں اس کی خاموشی پر بھی وار کرتی رہتی ہیں۔

پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ گھروں سے سکون کیوں اٹھ گیا؟ دعاؤں میں تاثیر کیوں باقی نہیں رہی؟ رشتوں میں اعتماد کیوں ختم ہو گیا؟ شاید اس لیے کہ ہم نے گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔

میں بطور ایک لکھاری، بطور ایک مسلمان، اور اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان رکھنے والے ایک معمولی انسان کے، سب سے پہلے اپنی فکر کرتا ہوں، پھر اپنے معاشرے کی۔ میں یہ تحریر کسی منبر سے فتویٰ دینے کے لیے نہیں لکھ رہا، نہ خود کو کسی سے بہتر سمجھتا ہوں۔ میں صرف اپنے نفس سمیت ہم سب کو ایک آئینہ دکھانا چاہتا ہوں۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں کچھ ایسے گناہ خون کی روانی کی طرح ہماری رگوں میں دوڑ رہے ہیں جن کا ہمیں احساس تک نہیں رہا۔ غیبت... بہتان... جھوٹ... حسد... تجسس... پردہ دری... کردار کشی... کسی کی ناکامی پر خوش ہونا... کسی کی عزت کو اپنی زبان کی خوراک بنا لینا... یہ سب ہماری روزمرہ کی عادتیں بنتی جا رہی ہیں، اور ہم انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ انسان کو بڑے گناہ سے نہیں گراتا، وہ پہلے چھوٹے گناہ کو معمول بناتا ہے، پھر معمول کو عادت، عادت کو طبیعت اور آخرکار طبیعت کو کردار بنا دیتا ہے۔ جب کردار بدل جائے تو پھر انسان کو گناہ، گناہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔

المیہ یہ نہیں کہ ہم خطاکار ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے خطاؤں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔

یہ تحریر کسی ایک شخص، کسی ایک جماعت یا کسی ایک طبقے کے خلاف نہیں۔ یہ میرے اپنے نفس سمیت ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ پسند نہیں آتا تو آئینہ توڑنے کے بجائے اپنے کردار کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

یاد رکھیں، معاشرے صرف معیشت سے نہیں، کردار سے زندہ رہتے ہیں۔ قومیں صرف قانون سے نہیں، ضمیر سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور جب کسی قوم کا ضمیر مر جائے تو اس کے زوال کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔

اللہ ہمیں دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے، دوسروں کی عزت کو اپنی عزت سمجھنے، اور دوسروں کے دکھ پر خوش ہونے کے بجائے ان کے لیے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

کیونکہ جس دن انسان دوسروں کی رسوائی میں لطف محسوس کرنے لگے، سمجھ لیجیے اس دن اس کا ضمیر دفن ہو چکا ہوتا ہے، صرف اس کا جسم چل پھر رہا ہوتا ہے۔

اور مردہ ضمیر رکھنے والے لوگ، زندہ معاشرے کبھی تعمیر نہیں کر سکتے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Friday, July 17, 2026

فراڈیے کا سرمایہ تمہارا لالچ ہے

#شعور_کی_بات
#فکر_و_آگہی
#اعوانیات

فراڈیے کا سرمایہ تمہارا لالچ ہے
تحریر فیصل مقصود

سیانے کہتے ہیں، "لالچی زندہ ہو تو فراڈیا کبھی بھوکا نہیں مرتا۔" پہلے یہ جملہ محض ایک کہاوت محسوس ہوتا تھا، مگر زندگی کے تجربات نے بتایا کہ یہ دراصل انسانی نفسیات کا وہ قانون ہے جس پر صدیوں سے معاشرے تعمیر بھی ہوئے اور تباہ بھی۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ فراڈیے کی سب سے بڑی طاقت اس کی چالاکی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فراڈیے کی اصل طاقت اس کی ذہانت نہیں بلکہ انسان کی لالچ، بے صبری، کم علمی اور بغیر محنت کامیاب ہونے کی خواہش ہے۔ اگر دنیا سے لالچ ختم ہو جائے تو بے شمار فراڈیے اگلے ہی دن اپنا پیشہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں۔

مچھلی کبھی کانٹا نہیں کھاتی، وہ تو دانے کی طرف لپکتی ہے۔ کانٹا تو بعد میں اس کے حلق میں اترتا ہے۔ انسان بھی پہلے فراڈیے پر یقین نہیں کرتا، پہلے اپنے خوابوں، خواہشوں اور شارٹ کٹ پر یقین کرتا ہے، پھر فراڈیہ انہی خواہشوں کو تجارت بنا لیتا ہے۔

یہ دنیا ایک عجیب بازار ہے؛ یہاں صرف اشیاء نہیں بکتیں، یہاں امیدیں فروخت ہوتی ہیں، خواب نیلام ہوتے ہیں، شخصیتیں برانڈ بنتی ہیں، اور جذبات سرمایہ کاری کا سب سے منافع بخش ذریعہ بن چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ سچ خریدنے سے پہلے خواب خرید لیتے ہیں۔

فراڈ صرف وہ نہیں جو کسی کی جیب خالی کرے، فراڈ وہ بھی ہے جو کسی کا شعور خالی کر دے۔ دولت کا نقصان وقتی ہوتا ہے، مگر شعور کا نقصان نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔

آج فراڈ نے بھی ترقی کر لی ہے۔ کبھی وہ سیاست کے لباس میں آتا ہے اور عوام کو نعروں، وعدوں اور جذبات کے سہارے اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔ کبھی وہ مذہب کی آڑ میں سوال کرنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے اور شخصیت پرستی کو ایمان کا نام دے دیتا ہے۔ کبھی وہ علم کے منصب پر بیٹھ کر تحقیق کے بجائے تقلید، دلیل کے بجائے تعصب اور حقیقت کے بجائے اپنی پسند کو علم بنا کر پیش کرتا ہے۔ اور کبھی وہ کامیابی کے نام پر ایسی امیدیں بیچتا ہے جن کی قیمت صرف تمہاری جیب نہیں بلکہ تمہاری عقل بھی ادا کرتی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر موٹیویشنل اسپیکر، ہر مذہبی مقرر یا ہر سیاست دان فراڈیہ ہو، لیکن یہ ضرور ضروری ہے کہ ہر دعوے کو عقل، علم اور دلیل کے ترازو میں تولا جائے۔ شخصیتیں کبھی دلیل کا متبادل نہیں ہوتیں، اور مقبولیت کبھی سچائی کی سند نہیں بنتی۔

یاد رکھو، سب سے کامیاب فراڈ وہ ہے جس میں متاثر ہونے والا خود کو متاثر سمجھنے کے بجائے خود کو خوش قسمت سمجھنے لگے۔ جب انسان اپنی زنجیروں کو ہی آزادی سمجھنے لگے تو فراڈیے کو مزید کسی ہتھکنڈے کی ضرورت نہیں رہتی۔

ہر پُراعتماد لہجہ سچائی کی دلیل نہیں ہوتا، ہر وائرل چہرہ قابلِ تقلید نہیں ہوتا، ہر مہنگا کورس علم کی ضمانت نہیں ہوتا، اور ہر خوبصورت جملہ حکمت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات الفاظ بھی ہتھیار ہوتے ہیں، جو جسم نہیں بلکہ عقل کو زخمی کرتے ہیں۔

کامیابی خریدی نہیں جاتی، کمائی جاتی ہے۔ کردار وراثت میں نہیں ملتا، تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ بصیرت کسی سیمینار کی سوغات نہیں بلکہ مسلسل مطالعے، مشاہدے، محاسبۂ نفس اور تلخ تجربات کا حاصل ہوتی ہے۔

اس لیے اگلی بار جب کوئی تمہیں بغیر محنت دولت، بغیر علم دانائی، بغیر کردار عظمت، یا بغیر قربانی کامیابی بیچنے آئے تو اپنی جیب سے پہلے اپنے شعور کی حفاظت کرنا۔

یاد رکھو! فراڈیے کی دکان اس کے جھوٹ سے نہیں چلتی، بلکہ لوگوں کی خواہشات، کم علمی اور لالچ سے چلتی ہے۔ جس دن انسان اپنی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے اپنے شعور کا محافظ بن گیا، اسی دن فراڈیے کا بازار ویران ہونا شروع ہو جائے گا۔ کیونکہ فراڈ وہاں نہیں پنپتا جہاں عقل زندہ، کردار بیدار اور ضمیر آزاد ہو۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Thursday, July 16, 2026

تجربہ عاقل کی میراث ہے

#تجربہ_کی_دانش
#فکر_و_شعور
#اعوانیات

تجربہ عاقل کی میراث ہے
تحریر فیصل مقصود

معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس علم کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے تجربے کی توقیر کھو دی ہے۔ ہر نئی نسل اپنے آپ کو تاریخ کا آغاز سمجھتی ہے، گویا اس سے پہلے نہ کوئی زمانہ گزرا، نہ کسی نے غلطیاں کیں، نہ کسی نے ان غلطیوں کی قیمت اپنے خون، آنسوؤں اور عمر سے ادا کی۔

جب کوئی سیانا کہتا ہے کہ "ہم نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے" تو وہ اپنی عمر کا حوالہ نہیں دیتا، بلکہ ان زخموں کی شہادت پیش کرتا ہے جو وقت نے اس کے وجود پر ثبت کیے ہوتے ہیں۔ اس کے سفید بال سورج کی تپش سے نہیں، زندگی کی بھٹی سے نکلے ہوتے ہیں۔ ان میں شکستوں کی راکھ بھی شامل ہوتی ہے، کامیابیوں کی گرد بھی، دھوکوں کی تلخی بھی اور زمانے کی بے وفائیوں کا رنگ بھی۔

بدقسمتی یہ ہے کہ آج کے دور میں ہر شخص استاد بننا چاہتا ہے، مگر شاگرد کوئی نہیں بننا چاہتا۔ ہر زبان نصیحت کرنا جانتی ہے، مگر ہر کان نصیحت سننے سے انکاری ہے۔ عقل سے پہلے رائے پیدا ہو جاتی ہے اور مطالعے سے پہلے فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے افراد کو بھی کمزور کیا اور قوموں کو بھی۔

سیاسی میدان اس المیے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ہر چند برس بعد قوم پرانے دھوکوں کو نئے نعروں کے ساتھ قبول کر لیتی ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، نعرے بدل جاتے ہیں، جماعتوں کے رنگ بدل جاتے ہیں، مگر فریب کی بنیاد وہی رہتی ہے۔ وجہ صرف ایک ہے؛ قوم نے اپنے بزرگوں کے تجربات کو بوجھ سمجھا، سرمایہ نہیں۔ جنہوں نے تاریخ پڑھی نہیں، وہ تاریخ کو بار بار دہراتے رہتے ہیں، اور جنہوں نے بزرگوں کی نصیحتوں کا مذاق اڑایا، انہوں نے وہی زخم دوبارہ کھائے جن کی نشان دہی پہلے ہی کر دی گئی تھی۔

تجربہ کتابوں میں بند کوئی باب نہیں، بلکہ وقت کی عدالت کا وہ فیصلہ ہے جس پر زندگی کی مہر ثبت ہوتی ہے۔ کتاب غلط ہو سکتی ہے، تقریر جذباتی ہو سکتی ہے، نعرہ جھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن ایک سچا تجربہ اپنے اندر حقیقت کا وہ وزن رکھتا ہے جسے وقت بھی جھٹلا نہیں سکتا۔

آج کا انسان معلومات کے انبار پر کھڑا ہے، مگر حکمت سے خالی ہے۔ اس کے ہاتھ میں دنیا بھر کی خبریں ہیں، مگر اپنے بزرگ کے ایک جملے کی قدر نہیں۔ وہ ہزاروں اجنبیوں کی رائے کو اہم سمجھتا ہے، مگر اپنے گھر کے اس شخص کی بات کو نظر انداز کر دیتا ہے جس نے نصف صدی زندگی کے نشیب و فراز میں گزاری ہوتی ہے۔ یہی جدید جہالت ہے؛ معلومات کی فراوانی اور بصیرت کی کمی۔

یاد رکھنا چاہیے کہ نصیحت ہمیشہ میٹھی نہیں ہوتی۔ جو بات نفس کو اچھی لگے، وہ اکثر خواہش ہوتی ہے، اور جو بات نفس پر گراں گزرے، وہی اکثر حقیقت ہوتی ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش کی گفتگو بعض اوقات تلخ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو خوش کرنے کے لیے نہیں، بچانے کے لیے بولتے ہیں۔

اختلاف کرنا حق ہے، مگر تجربے کو حقیر سمجھنا حماقت ہے۔ جو قومیں اپنے بزرگوں کی دانش کو فرسودہ قرار دیتی ہیں، وہ آخرکار اپنے دشمنوں کے تجربات سے سبق سیکھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے کہ جو قوم اپنے ماضی سے سبق نہیں لیتی، مستقبل اسے سزا ضرور دیتا ہے۔

اس لیے جب کبھی کوئی صاحبِ تجربہ تمہیں ٹوکے، نصیحت کرے یا کسی راستے سے روکے، تو فوراً یہ نہ سمجھو کہ وہ تمہاری آزادی چھین رہا ہے۔ ممکن ہے وہ تمہیں اس کھائی سے بچانا چاہتا ہو جس میں وہ خود کبھی گر چکا ہو۔ دانائی یہ نہیں کہ ہر زخم خود کھا کر عقل حاصل کی جائے؛ دانائی یہ ہے کہ دوسروں کے زخموں کو اپنی رہنمائی بنا لیا جائے۔

یاد رکھو، وقت صرف عمر نہیں بڑھاتا، اگر انسان شعور کے ساتھ جئے تو وہ اسے بصیرت بھی عطا کرتا ہے۔ اور بصیرت ہی وہ میراث ہے جو نسلوں کو تباہ ہونے سے بچاتی ہے۔

تجربہ عاقل کی میراث ہے، اور جو قومیں اپنی اس میراث کو کھو دیتی ہیں، وہ پھر اپنی تاریخ نہیں لکھتیں، صرف دوسروں کے لکھے ہوئے انجام کا حصہ بن جاتی ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Wednesday, July 8, 2026

گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں (حصہ آخری)

#کردار_کی_تعمیر
#ازدواجی_زندگی
#اصلاح_معاشرہ

گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں
تحریر فیصل مقصود

(حصہ سوم)

انسان کی سب سے بڑی جنگ کسی دوسرے انسان سے نہیں، اپنے نفس سے ہوتی ہے۔ باہر کے دشمن کو شکست دینا نسبتاً آسان ہے، مگر اپنے غرور، اپنی ضد، اپنی بےصبری اور اپنی خواہشات کو زیر کرنا ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دنیا جیت لیتے ہیں، مگر اپنے گھر ہار جاتے ہیں۔

نفس کی ایک عجیب فطرت ہے؛ وہ ہمیشہ لینے کی فہرست بناتا ہے، دینے کی نہیں۔ شوہر سوچتا ہے مجھے کیا ملا، بیوی سوچتی ہے مجھے کیا ملا، اولاد سوچتی ہے مجھے کیا ملا، مگر بہت کم لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ میں نے اس رشتے کو دیا کیا ہے؟ یاد رکھیے! جس دن رشتے لین دین کے حساب میں تبدیل ہو جائیں، اسی دن محبت کی روح کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو بھی اپنا حق سمجھنے لگے۔ نفس کی سب سے خطرناک بیماری یہی ہے کہ وہ ہر قصور کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے، مگر کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال نہیں کرتا۔ حالانکہ اصلاح ہمیشہ آئینے سے شروع ہوتی ہے، کھڑکی سے نہیں۔

معافی صرف دوسروں کو آزاد نہیں کرتی، انسان کو بھی آزاد کر دیتی ہے۔ جو شخص ہر تلخی کو دل میں دفن کرتا رہتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنے ہی غموں کا قیدی بن جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک گھر اس لیے نہیں ٹوٹتا کہ وہاں اختلاف نہیں ہوتے، بلکہ اس لیے قائم رہتا ہے کہ وہاں انا سے زیادہ معافی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

خاموشی بھی ایک اخلاق ہے، لیکن ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموش رہ جانا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک لمحے کا غصہ پوری زندگی کی ندامت نہ بن جائے۔ یاد رکھیے، ہر سچ ہر وقت بولنا حکمت نہیں، اور ہر جواب دینا بہادری نہیں۔ دانائی یہ ہے کہ انسان جان لے کہاں بولنا ضروری ہے اور کہاں خاموش رہنا زیادہ مفید ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگوں نے کامیابی کو دولت، آسائش اور نمود و نمائش سے ناپنا شروع کر دیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب وہ نہیں جس کا گھر بڑا ہو، بلکہ وہ ہے جس کے گھر میں سکون بڑا ہو۔ سکون بازار سے نہیں خریدا جا سکتا؛ یہ احترام، اعتماد، برداشت، قناعت اور حسنِ اخلاق کی کمائی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بچے والدین کی نصیحتوں سے کم اور ان کے رویّوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں والدین ایک دوسرے کی عزت کریں گے، زبان میں شائستگی ہوگی، اختلاف میں بھی وقار باقی رہے گا، تو یہی تہذیب اگلی نسل میں منتقل ہوگی۔ لیکن اگر گھر کا ماحول طعنوں، چیخ و پکار، تحقیر اور بدزبانی سے بھرا ہوگا تو پھر اولاد سے بہتر معاشرے کی امید رکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

شاید اسی لیے تہذیبیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔ قومیں اسلحے سے کم اور اخلاق سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ اور خاندان دولت سے کم، برداشت سے زیادہ قائم رہتے ہیں۔ جس معاشرے میں زبان کی حفاظت ختم ہو جائے، وہاں قانون بھی ہر گھر کو نہیں بچا سکتا۔

آخر میں صرف ایک بات یاد رکھیے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد آپ کی عزت کرے تو صرف اس کے لیے مال نہ چھوڑیے، بلکہ ایسا کردار چھوڑیے جس پر اسے فخر ہو۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گھر آباد رہے تو صرف سہولتیں جمع نہ کیجیے، بلکہ صبر، برداشت، شکرگزاری، معافی اور احترام کی روایت قائم کیجیے۔ کیونکہ رشتے وراثت میں نہیں ملتے، ہر روز اپنے اخلاق سے کمائے جاتے ہیں۔

اور شاید زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ...

تقدیر انسان کو صرف ایک گھر عطا کرتی ہے، مگر اسے "جنت" یا "ویرانہ" بنانا انسان کے کردار کے اختیار میں ہوتا ہے۔ قسمت دروازے تک ضرور لے جا سکتی ہے، لیکن اس دروازے کے اندر محبت، سکون اور عزت کے ساتھ داخل صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو اپنی خواہشات کا بادشاہ نہیں بلکہ اپنے کردار کا خادم بنایا ہو۔

یاد رکھیے! گھر اینٹوں سے نہیں، اخلاق سے بنتے ہیں؛ دولت سے نہیں، قناعت سے چلتے ہیں؛ محبت سے نہیں، احترام سے قائم رہتے ہیں۔ محبت تو ایک احساس ہے، مگر کردار وہ بنیاد ہے جس پر پوری زندگی کی عمارت کھڑی رہتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو آندھیاں بھی گھر نہیں گراتیں، اور اگر بنیاد کمزور ہو تو بہترین نصیب بھی اسے زیادہ دیر سنبھال نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں آج بھی یہی کہتا ہوں: گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
WhatsApp