Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Tuesday, June 11, 2024

#عید #عیدالاضحٰی #قربانی #یاددہانی

#عید #عیدالاضحٰی #قربانی 
#یادیانی
شاید ہم عید الاضحیٰ کے معنی اور مفہوم سمجھنے سے بہت دور ہو چکے ہیں کہ اب صرف جانور کے گلے پہ چھری چلانے کا نام ہی قربانی رکھ دیا گیا ہے

ہر سال عید الاضحی آتی ہے اور چلی جاتی ہے
اور ہر سال لوگ قربانیاں کرتے ہیں
کچھ ایسے ہیں جو قربانی کے مقصد کو سرے سے سمجھتے ہی نہیں اور کچھ ایسے ہیں جو سمجھتے تو ہیں مگر جلد ہی بھول جاتے ہیں۔

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ (الحج: ٣٧)
اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔

اللہ تعالی کو نہ گوشت کی ضرورت ہے نہ خون کی۔
اسے تو بندوں کی اطاعت پسند ہے۔

افسوس بعض لوگوں کے نزدیک قربانی محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے
قربانی کرنے والے ہر شخص کے اپنے مقاصد ہیں،،، کوئی اس لیے قربانی کرتا ہے کہ انہیں دوسروں کے گھروں سے گوشت کا انتظار نہ کرنا پڑے، اور بعض مخیر حضرات اس لیے قربانی کرتے ہیں کہ دوسرے انہیں طعنہ نہ دیں، اور بعض جھوٹی شہرت کی غرض سے مہنگا جانور قربانی کرتے ہیں، اور بعض بخیل ایسے ہوتے ہیں جو کمزور اور عیب دار جانور ہی قربان کر دیتے ہیں
اسی کے ساتھ کچھ ایسے ہیں جن کے نزدیک جانور کی خریداری تو ضروری ہوتی ہے بھلے ہی جانور کی خریداری مال حرام سے ہو مگر ہمیں یہ فریضہ انجام دینا ہے، بدقسمتی سے تقوی تو جیسے ختم ہو چلا ہے۔
ایسے سب لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آیا اس بندے نے جو قربانی کی ہے وہ اللہ کی احسان مندی اور شکر بجا لاتے ہوئے شوق و محبت سے کی ہے یا نہیں۔
اگر کسی کی نیت ہی لنگڑی لولی ہو تو اگر وہ کوئی موٹا تازہ جانور بھی قربان کرے گا تو اس کا اسے کتنا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

آپ ہی فیصلہ کیجئے!!!

اور ہاں، اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے سروے کیجئے
ضرورت مند گھرانوں کی نشاندہی کریں
اور ارادہ کریں عید کے موقع پر ان تک گوشت خود سے پہنچائیں
بجائے ایسے لوگوں کے جن کا مقصد صرف اور صرف اپنے فریج بھرنا ہے جو بعد ازاں کہیں نہ کہیں فروخت ہو رہا ہوتا ہے۔


#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Wednesday, January 31, 2024

#رشتے #اعتراضات #ڈیمانڈ #جہیز قسط نمبر 2

قسط نمبر 2

اولاد کے حوالے سے سبھی والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد بہترین اور پرسکون زندگی گزاریں، جہاں اولاد کے رشتے ہوں وہاں بھی سکون میں رہیں، اولاد کو کوئی بھی پہنچنے والا دکھ انہیں مل جائے پر اولاد پر آنچ بھی نا آئے۔۔۔۔
اور اس سلسلے میں اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق انہیں اولاد کے حق میں جو صحیح لگتا ہے، وہی فیصلہ کرتے ہیں
پر ضروری نہیں ہمیشہ ایسا ہی ہو۔۔۔۔ بزرگوں کا اپنی عمر اور تجربات کا گھمنڈ اولادوں کی خوشیوں کی دیوار بن جاتا ہے
بسا اوقات بالوں کی چاندی (جو عموما ہمارے بزرگ حضرات تجربات کا حاصل سمجھتے ہیں) زندگی بھر کا روگ ثابت ہوتی ہے۔

یہاں لوگوں کا انسانوں کو پرکھنے کا جو معیار آج ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے وہ دیکھ کر دل افسردہ ہو جاتا ہے۔۔۔

دل کے میلے کچیلے لوگ اجلے لباس پہن کر اپنے اندر کے عیب چھپا لیتے ہیں،،، یہاں دولت کی نمائش ضروری ہے، یہاں فیشن سے اپ ڈیٹ رہنا ضروری ہے، یہاں تعلیم یافتہ شخص ہی وہی ہے جو مرد کو لبرل اور عورت کو بےلباس کر دے۔۔۔ یہاں عورت کی آزادی سے مراد اس پر پابندیاں نہیں درحقیقت اسے بےلباس ہونے میں تعاون اور گناہ کا ارتکاب کرنے پر شرمندگی سے بچانا ہے۔
یہاں معیار زندگی مذہب کی پیروی میں ناپید ہوتا جا رہا ہے
جہاں خشیت کی جگہ اب دنیا داری نے لے لی ہے
اولادوں کے رشتے اب پردہ داروں میں نہیں دیوث لوگوں میں ہونے لگے ہیں اور اس پر فخر بھی کیا جاتا ہے
داڑھی کو نت نئے طریقوں سے کاٹنے والا ہی ماڈرن اور امیر لگنے لگا ہے۔ عورت کا لباس کم سے کم تر ہونے کو ہی ماڈرن سمجھانا جانے لگا ہے۔۔۔۔

اور رشتے کرتے ہوئے والدین بس انہیں ظاہری اور ریاکاری پر مبنی چیزوں سے متاظر ہو کر بیٹوں یا بیٹیوں کو کھونٹے سے باندھ چھوڑتے ہیں۔

رشتہ دیکھنے جائیں تو بیٹوں یا بیٹیوں کے رشتوں کے لیے گھروں کی در و دیوار کا جائزہ، رشتے داروں کی زبان و بیان پر غور، لڑکے کے کردار اور اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔۔۔۔

ہر چیز کا بڑھ چڑھ کر دکھاوا کیا جاتا ہے کہ آنے والا شخص آپ کی ہر اک پسند ناپسند، گفتگو چال ڈھال اور رہن سہن دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔۔۔۔

بعد میں بھلے لیندار آپ کا جینا حرام کر دے۔۔۔
پر نہیں ریاکاری بہت ضروری ہے
ہر چیز کو بڑھا چڑھا کر بتانا بھی ضروری ہے
میک اپ کونسے برانڈ کا، لباس اور جیولری کس برانڈ کی، گاڑی کونسی ہے، کھانے میں مٹن اور کولڈ ڈرنک کے نام پر فریش جوس وغیرہ ہی چلتا ہے۔

میرے اک بہت قریبی دوست کی بہن کا نکاح ہوا، رخصتی ہوئی لڑکی کی ساس کہا کرتی تھیں، انہیں ریڈ میٹ میں مٹن کے علاوہ کوئی اور چیز پسند نہیں،،، یعنی بتلانا مقصود یہ تھا جب بھی دعوت کا ارادہ ہو تو مٹن کا ہی اہتمام کیا جائے،،، پر مجال ہے ساس نے پورے اک سال میں اپنے گھر مٹن کے نام پر بکرے کے کان بھی پکوائے ہوں 😂۔۔۔۔
جو آپ نہیں ہو سکتے، یا بن نہیں سکتے تو اس کا دکھاوا کیوں کیا جائے
آپ جو ہیں جس حال میں ہے اور جیسی زندگی جی رہیں ہیں یقینا ہزاروں، لاکھوں سے بہتر ہیں
موازنہ کرنا ہی ہے تو خود سے اوپر لوگوں میں نہیں کم تر میں کر کے دیکھیں کم سے کم بےچین طبیعت کو کچھ لمحات راحت کے بھی میسر ہوں گے۔
---------------

زاہد ہماری فیکٹری میں ملازم تھا اور خراد کا کام جانتا تھا
تھا تعلق اک متوسط گھرانے سے تھا، موصوف جوتوں کی دکان پر ملازم تھے، اور ماہانہ آمدن 25 سے 30 ہزار کے قریب تھی اور کمیشن الگ سے جو ملازمین کو فی جوڑا سیل کرنے پر دی جاتی تھی،،،، موصوف نے جوانی میں قدم رنجا فرمائے تو والدہ محترمہ کو اولاد کے سر پر سہرا سجانے کی فکر ستانے لگیں،،، رشتے والی سے کہا تو رشتہ والی نے بطور تفتیشی (اکثر ایف آئی آر کی تفتیش کے لیے ملازمین کو پیٹرول وغیرہ کا خرچہ دینا پڑتا ہے) آغاز کے لیے کچھ مال حاصل کیا اور نکل پڑیں سیاہ کو سفید کرنے_____
لوگ سیاستدانوں کے حوالے سے جنت اور جہنم کے فیصلے کرتے ہیں
پر مجھے لگتا ہے یہ رشتہ کروانے والے ڈیلروں کا بھی الگ سے حساب ہوگا،،،، رشتہ کرواتے ہوئے لڑکے یا لڑکی یا ان کی فیملی سے متعلق اتنے جھوٹ بول دیتی ہیں کہ بندے کو لگنے لگتا ہے،،،، اس سے پرفیکٹ میچ کوئی ہو ہی نہیں سکتا!!!
زاہد کے چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔۔۔۔ دو بھائی اور دو بہنیں شادی شدہ،،، بہنیں بڑی تھیں تو ان کی شادیاں پہلے ہو گئیں،،، پھر بہنوں نے کے باقی دونوں بھائیوں کی۔۔۔۔ باپ تو بچپن میں ہی فوت ہو چکا تھا سارے بچوں کی پرورش ماں نے کی۔۔۔۔
زاہد اور اس سے چھوٹا عدنان دونوں کی محنت مزدوری کی رقم سے اور ان کی کمیٹیوں سے دونوں بڑے بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں، شادی پر ٹھیک ٹھاک فضول خرچی ہوئی۔۔۔
زاہد کی باری تھی تو بھائیوں اور بھابھیوں نے منہ بنا لیا کہ کسی قسم کا مطالبہ نہ کر سکیں،،، تو بہنوں نے آگے بڑھ کر بھائی کا رشتہ پکا کیا اور شادی کروا دی۔۔۔۔
اب باری تھی عدنان کی،،،، گھر چھوٹا تھا، آمدن کم تھی، سب کے حصے میں ایک ایک کمرہ آیا۔۔۔۔ اب چوتھے کی شادی تھی اور کمرے چار۔۔۔ تو اک بہن نے مشورہ دیا سب بھائی مل کر اس کی مدد کرو یا اسے کمرہ بنا کر دو یا گھر فروخت کر دو تاکہ گروی گھر لے کر یا کرائے پر بیٹھ سکے اور اپنی شادی کرے۔۔۔۔
بھائی اس بار بھی وہی روش منہ بنا کر سائیڈ پر ہو گئے، حالانکہ قصور ان کا بھی نہیں حالات ایسے ہیں کہ 40 ہزار سے بھی پوری نہیں پڑتی،،، خیر عدنان نے آس پاس سے رقم پکڑ کر کمرہ تعمیر کروایا اور شادی کے لیے رقم جمع کی۔۔۔۔
ابھی اک معرکہ سر ہوا ہی تھا،،، جہاں بات پکی ہوئی تھی
رشتہ دونوں خاندانوں کے ہم پلہ تھا دونوں کے حالات اک دوسرے سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔۔۔ لڑکا جہیز کا مطالبہ بھی نہیں کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ سسر کی ڈیمانڈ تھی شادی ہال میں ہوگی، ہر رسم ادا ہوگی، حق مہر کی مد 3 تولے سونا اور کچھ رقم نقدی لکھی جائے گی، لڑکا سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اب میں کیا کرو۔۔۔۔
یہ کہاں کی بھلائی ہے
میں کسی بھی فضول رسم کا حصہ نہ بنتے ہوئے سنت طریقے سے نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں تو آپ کیوں رسموں کی غلامی کر رہے ہیں، جبکہ سسر صاحب کا کہنا تھا دنیا داری بہت ضروری ہے ہمارا ملنا ملانا اونچے گھروں میں ہے ہماری فیملی کے کچھ لوگ امیر ہیں تو ہم نہیں چاہتے ہماری بدنامی ہو۔۔۔۔
مڈل کلاس شخص ساری زندگی اپنے امیر رشتے داروں سے تعلق کا بھرم جتاتا ہے کہ فلاں شخص، فلاں عہدے پر، فلاں امیر رشتے دار ہمارا جاننے والا ہے جبکہ امیر کی ایسی کوئی مجبوری نہیں جو وہ غریب رشتے کو ڈسکس کرے،،، اگر ایسا موقع آتا بھی ہو تو کسی مثبت مثال کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا!!!
اور نتیجہ یہ بنا لڑکے کی سادگی سے نکاح کی ضد پر سسر نے شادی سے انکار کر دیا!!!!
بھلے ہی آپ بیٹی یا بیٹے کے والدین ہیں،،، قدر کے لائق وہی شخص ہے جو کچھ بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یا کرنا چاہتا ہے
مخالفت اور مذمت کرنے والے لوگ ہی بھلائی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

#AwanTalks

#like #follow #share #foryou #foryoupage #watch #poetry #quotes #malik #awan #ملک_فیصل_اعوان 

Profile · 4.3K followers 
Malik Faisal Awan 
Faisal Maqsood   

https://www.facebook.com/share/p/hQs3hRydai6H2ghN/?mibextid=oFDknk

#رشتے #اعتراضات #ڈیمانڈ #جہیز قسط نمبر 1

قسط نمبر 1

والدین بیٹی کے لیے رشتہ دیکھ رہے تھے، باپ مزدوروں کے ساتھ دیہاڑی لگاتا تھا دیہاڑی کبھی لگتی اور کبھی نہیں، ماں گھر داری سنبھالتی تھی۔ ایک بھائی جو کسی کے پاس ملازم تھا روزانہ دیہاڑی کی مد میں 500 سے 600 کما لیتا تھا اور جس لڑکی کا رشتہ دیکھا جا رہا تھا معاشی حالات کی وجہ سے دینی و دنیاوی تعلیم بلکل بھی نہیں تھی، گھر کرائے کا تھا گزر بسر ہو رہا تھا۔
ماں کی خواہش تھی بیٹی کا رشتہ کسی اچھے گھر میں ہو جائے،،، یقینا ہر والدین کی ایسی خواہش ہوتی ہے اور یہ خواہش کرنا کوئی بری بات نہیں۔ بشرطیکہ مزید خواہشات کا اضافہ نہ کیا جائے۔
اسی سلسلے میں رشتے والی سے رجوع کیا گیا
رشتے والی نے کچھ رشتے ذات، مسلک، اور ان کے حسب نسب کے اعتبار سے دکھائے
کہیں لڑکے کی پکی رنگت پر اعتراض ہوتا، کہیں فیملی بڑی ہونے پر، کہیں گھر چھوٹا ہونے پر، کہیں چھوٹے قد پر، کہیں لڑکے کی ماں چالاک ہونے پر اور کہیں تنخواہ کم ہونے پر!!!
رشتے والی نے سمجھایا کہ جو ڈیمانڈ آپ نے رکھی ہیں اور جو نقص آپ نکال لیتی ہیں ہر رشتے میں ایسے حالات میں بیٹی بیاہنا محال ہو جائے گا، آپ خود سے اونچے لوگوں میں رشتہ دیکھیں گی تو آپ کی اتنی حیثیت نہیں کہ آپ ان کی ڈیمانڈ بھی پوری کر سکیں!
یہ بات کوئی 3 یا 4 سال پرانی ہے اور خاتون ابھی تک بیٹی کیلئے معقول رشتہ ڈھونڈ رہی ہیں اور انہیں کوئی مناسب رشتہ نہیں مل رہا۔ 
بالفرض خود سے اونچا رشتہ دیکھتے ہوئے اگر کوئی ان سے کسی طرح کی ڈیمانڈ کر لے تو یہی بات انہیں ناگوار بھی گزرے گی اور معاشرے میں سو عیب بھی نظر آنے لگیں گے۔۔۔
لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ
زندگی اگر ڈھنگ سے جینی ہے تو اس کے لیے حقیقت پسند ہونا کتنا ضروری ہے
خوابوں کی دنیا حقیقی زندگی سے بلکل الگ تھلگ ہے
اسے صحیح وقت میں سمجھ جائیں گے تو خود کے لیے بھی آسانی ہو جائے گی اور دوسروں کے لیے بھی۔

حقیقت بھی یہی ہے
بیٹیاں اور بیٹے بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے سبب بڑھاپے کی طرف چل پڑتے ہیں اور پھر مطلقہ، بیوہ یا رنڈوا یا دوسری شادی والے پر آ کر سمجھوتہ کر لیتے ہیں اگر سہی وقت پر ڈیمانڈ کم کر لی جائیں تو اک خوشحال زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

بڑی حیرت ہوتی ہے کچھ خواتین سے یہ سن کر کہ انہیں بیٹی کے رشتے کے لیے لڑکا چاہیے بھی 20، 22، 25 27 کی عمر کا،،،
اور وہ ویل سیٹلڈ بھی ہو،
فیملی سے الگ بھی ہو،
رنگ بھی صاف ہو،
قد بھی ٹھیک ہو۔۔۔۔
پاکستان میں ویل سیٹلڈ تو پھر 35 سے 45 سال کی عمر کے مرد ہی مل سکتے ہیں پھر ان عمر کے افراد سے بیٹیاں بیاہ دیں۔
اور اگر 20، 22 یا 25 سال سے بیاہنے کا رسک لے بھی رہے ہیں تو بھروسہ رکھیں 35 یا 45 تک پہنچنے پر وہ بھی ویل سیٹلڈ ہو ہی جائے گا
خواتین 22 25 سال کے لڑکوں سے وہ تمام سہولیات کا مطالبہ کر دیتی ہیں جو ان کے اپنے والدین کو دیتے کئی سال لگ گئے۔

#MFA
#AwanTalks

#like #follow #share #foryou #foryoupage #watch #poetry #quotes #malik #awan #ملک_فیصل_اعوان 

Malik Faisal Awan 
Malik Faisal Awan  
Faisal Maqsood  

https://www.facebook.com/share/p/TqUcPs6C4iwntwgq/?mibextid=oFDknk

Saturday, January 20, 2024

#جہیز_نہیں_وراثت قسط نمبر 5

#جہیز_نہیں_وراثت
(قسط 5)

کسی جاننے والے کی بیٹی کا رشتہ پکا ہوا، لڑکے کی والدہ کہنے لگیں اگر آپ کو اعتراض نا ہو تو ہمیں شادی جلدی چاہیے،،، لڑکی کے والدین نے کہا ہم اتنے کم عرصے میں تیاری کیسے کریں گے، بہت سے معاملات ہیں
سامان، فرنیچر، لین دین وغیرہ، ہمیں تھوڑا وقت چاہیے
لڑکے کی والدہ نے کہا ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے،
آپ چاہیں تو دو جوڑوں میں بیٹی کو رخصت کریں،
ہمیں قبول ہے
لڑکی کے والدین بڑے متاثر ہوئے اور رضامندی ظاہر کرتے ہوئے نکاح کی تاریخ فائنل کر لی
مقررہ تاریخ پر نکاح ہوا
بیٹی گھر سے رخصت ہوئی
رخصتی کے کچھ دن بعد ساس، سسر، نند اور شوہر کے مزاج بدلنے لگے
باتوں باتوں میں جتایا جانے لگا کہ لڑکی کی والدین نے جہیز اور دنیا داری کی دیگر فضول رسمیں نا نبھا کر کتنی بڑی بیوقوفی کی
ساس اپنی سہیلیوں کے سامنے بتانے لگی یہ بہو جہیز یا تحائف کے نام پر کوئی سامان ساتھ نہیں لائیں
بیٹی کو مینٹلی ٹارچر کیا جانے لگا
پھر شوہر سے کسی بات پر ان بن ہوئی تو بیوی کو مار پیٹ کر اس کے گھر بھیج دیا
اور شرط رکھی بیوی کے لینے تب ہی آئے گا جب لڑکی کے والدین جہیز کا سامان اور نقدی دے کر بھیجے گے
لڑکی کے والدین نے لڑکے کے والدین کو بلایا
اور ان سے استفسار کیا کہ آپ ہی نے خود کہا تھا کہ آپ کو نکاح جلدی چاہیے اور سامان کی ضرورت نہیں تو اب بیٹی کو ٹارچر کیوں کر رہے ہیں
لڑکے کی والدہ نے کہا ہم نے آپ سے اخلاقا کہا تھا
اور آپ نے ہماری اسی بات کو زہن میں بٹھا لیا،،،،
خیر نتیجہ یہ نکلا کہ والدین نے بیٹی پر ٹارچر کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں مزید کسی ایسے حادثے سے بچنے کے لیے لالچی گھرانے سے بیٹی کی خلاصی کروائی اور خلع دلوائی۔۔۔۔
دیکھا جائے تو فتنوں کے اس دور میں جہاں کلمہ گو مسلمان بھی مشر کین کی رسومات کو اسلام کا حصہ سمجھے بیٹھے ہیں، انہیں سمجھانا مشکل ترین کام ہے
اور پھر ان رسموں کی مخالفت کرنا بھی بڑے جگرے کا کام ہے
آپ مخالفت کریں گے تو آپ کے اپنے ہی ساتھ دینے کے بجائے آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا ہی کسی سے سن رہا تھا کہ بیٹی کی بات پکی ہوئی تو لڑکے والے کہنے لگے
ویسے تو ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے
پر آپ نے جو دینا ہے
اپنی بیٹی کو دینا ہے
جو آپ دیں گے وہی اسے استعمال کرے گی
بستر دیں گے اس پر آرام کرے گی،
پنکھا یا اے سی دیں گے اس سے ہوا لے گی، 
فریج دیں گے ٹھنڈا پانی پیے گی
چولہا دیں گے تو اس پر کھانا پکائے گی،
برتن دیں گے اس میں کھائے گی، جو کچھ آپ اپنی بیٹی کو دیں گے وہی اسے استعمال کرے گی ہم نے تو کام پر ہونا ہے۔

یہ سب سن کر بڑی حیرت ہوئی اور دل چاہا ایسے شخص کو جوتے لگائے جائیں پھر والدین کو بیٹی بیاہنے کی ضرورت ہی کیا ہے اگر اسے بیاہ کر بھی اس کی کفالت اور سکون کی ذمہ داری والدین کے سر پر ہے یہ تو گویا ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے والدین کرائے کے سانڈ کا بندوبست کر رہے ہوں (ناگواری کی صورت میں معذرت)۔۔۔۔
مطلب ایسے شخص کی غیرت کا کیا ہی معیار ہو سکتا ہے جو جہیز لینا یا ایسے معاملات کے لین دین پر بڑے فخر کا اظہار کرتا ہے۔

اکثر لوگ جہیز کی حمایت میں نبی کریم ﷺ کا اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما کو ضروریات زندگی کا کچھ سامان دینے سے جہیز کے اثبات میں دلیل دیتے ہیں۔
جو سراسر غلط ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد ابو طالب انتہائی مفلس آدمی تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کی مدد کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی کفالت میں لے لیا، جب وہ جوان ہوئے تو اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے کر دیا، اس موقع پر ان کا الگ گھر بسانے کے لئے ضروری سامان زندگی انہیں مہیا کر دیا گیا، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مالی حالت بھی انتہائی کمزور تھی چونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زیر کفالت تھے، اس لئے آپ نے مذکورہ سامان ایک نیا گھر آباد کرنے کے لئے دیا، اس کا رائج الوقت جہیز سے کوئی تعلق نہیں۔

اور دیکھا جائے تو جہیز کی آڑ میں درحقیقت بیٹیوں کو ان کے وراثت کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے، اگر اس فضول رسم پر لاکھوں روپے برباد کرنے کے بجائے بیٹیوں کو ان کا مکمل حق ادا کر دیا جائے تو یقینا یہی ان کے ساتھ بہترین بھلائی ہے۔ 

وَّ ذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (الذاریات)
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی۔

Thursday, January 18, 2024

#جہیز_نہیں_وراثت قسط نمبر 4

بیٹیاں تو رحمت بن کر پیدا ہوتی ہیں، اور ماں باپ ان کی پیدائش سے لے کر جوانی تک ان کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے جہیز کہ فکر کے ساتھ ساتھ ان کا سامان بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
تعجب ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ لوگ رسم و رواج اور روایات کے اس حد تک غلام بن چکے ہیں اور افسوس یہ ہے اس کے خلاف مزاحمت کرنا بھی انہیں بغاوت معلوم ہوتا ہے۔

کپڑوں اور تحائف کا لین دین، قیمتی زیورات، گھر اور ہاں بائک اور گاڑیاں بھی۔۔۔
سمجھ سے بالاتر ہے،
آخر اتنی ریاکاری کیوں ہے؟

اور بیٹی والے تو اکثر اپنی جھوٹی شان و شوکت کے چکر میں اپنا آپ تک گروی رکھ دیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاننے والے ہیں، والدہ سے رجوع کیا کہ کسی سے کہہ کر ہماری بیٹی کے لیے جہیز اور کھانے کا ارینج کروا دیں، والدہ نے کہا کہ آپ سادگی سے کیوں نہیں اس ذمہ داری کو ادا کر لیتیں، والدہ کے جواب میں جو ان خاتون نے کہا سن کر بڑی حیرت اور دکھ ہوا (کہنے لگیں): باجی میری بیٹی شکل سے بھلی نہیں لگتی اور بہت مشکل سے رشتہ ہوا ہے تو میں چاہتی ہوں کسی طریقے سے جہیز اور کھانے کا اہتمام ہو جائے تاکہ میری فکر ختم ہو جائے، رشتہ میرے بہنوئی نے کروایا ہے اور وہ کہتا ہے اگر قرض لے کر بھی آپ کو انتظام کرنا پڑے تو ضرور کریں رشتے داروں میں آپ کا ہی نام ہوگا، لڑکے والوں کو ہمارے معاشی حالات کا بھی علم ہے اس کے باوجود انہوں نے ساڑھے تین سو افراد (350) کے کھانے کا انتظام کرنے کو کہا ہے۔
رشتہ ختم کرنے کا سوچتی ہوں تو بہنوئی کی ناراضگی اور بہن کی فکر ہوتی ہے اور اپنے حالات دیکھتی ہوں تو رونا آتا ہے۔۔۔۔
اس سارے معاملے کو سن کر ہم نے کہا اول تو انہیں بات پکی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی اگر انہیں علم ہو گیا ہے لڑکے والے اتنے لالچی ہیں بیٹی کے لیے آج درست فیصلہ کر لیں گی تو کل کے پچھتاوے اور دکھ سے بہتر ہی ہوگا 
اک رشتے کو بچاتے بچاتے دوسرے رشتے کو مت بگاڑیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کچھ ہی دن پہلے آفس میں اک نوجوان مسلہ لے کر آیا
نوجوان مذہبی تھا اور خواہش رکھتا تھا مذہبی طریقے سے ہی سادگی کے ساتھ اس کا نکاح ہو جائے، اچھی جاب تھی، اپنا گھر تھا، سیونگ تھی، جہیز کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ ہونے والی اہلیہ کے لیے 5 مرلے کا پلاٹ خرید رکھا تھا۔۔۔
بس خواہش یہی تھی نکاح سنت طریقے سے ہو جائے
جبکہ لڑکی والوں کی طرف سے دباؤ تھا
شادی کسی بہترین ہال میں کی جائے
اچھے اہتمام کے ساتھ
جہاں خلاف سنت ہر رسم کو ادا کیا جائے گا
ڈی جے، ڈرون کیمرے سے مووی، کپل کا فوٹ شوٹ، دودھ پلائی، جوتا چھپائی، اور ہال میں انٹری پر جو فیس ادا کی جاتی ہے لڑکے کی طرف سے۔۔۔۔ اب اس میں بھی مزید شرائط یہ تھی جو شادی سے دو تین پہلے طے کرنا تھیں
کہ دودھ پلائی پر 50 ہزار ادائیگی کرنی ہے لڑکے نے، جوتا چھپائی پر 20 سے 30 ہزار، ٹول پلازے پر یعنی رستہ رکائی پر 40 ہزار ادا کرنے ہے۔
کسی نے کہا رشتہ توڑ دو اگر یہ ابھی سے اتنی شرائط رکھ رہے ہیں تو آگے کیا حشر کریں گے، کسی نے کہا بیٹی بیاہ رہے ہیں یا فروخت کر رہے ہیں، اور مزید طرح طرح کے تبصرے کیے گئے۔۔۔۔ اور بعید نہیں رشتہ ختم ہو بھی جائے۔

پر غور طلب بات یہ ہے ہم نے آسان چیزوں کو اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ اب اس آسان پر چلنا ہی ہمیں ناگوار معلوم پڑ رہا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں زنا مشکل اور نکاح آسان تھا، اور آج اس صدی میں نکاح مشکل اور زنا آسان کر دیا گیا ہے۔
حلال کا رشتہ بنانے کے لیے لاکھوں روپوں کو پانی کی طرح بہانا ضروری ہے جبکہ حرام کو بستر تک لانے کے لیے چند ہزار ہی کافی ہیں۔

اپنے آس پاس ماؤں بہنوں بیٹیوں بیٹوں کی ذہن سازی کریں، ان کی تربیت کریں، انہیں مادی چیزوں سے محبت کے بجائے رشتوں کی قدر و قیمت کا درس دیں۔
حلال کا تھوڑا حرام کے بہت زیادہ سے بہتر ہے!!!

الحمد للہ!
ہم نے اپنی ویلفیئر کے توسط سے اب تک 13، 14 شادیوں کا ارینج کروایا ہے جس میں جہیز کی مکمل طور پر مذمت کی گئی اور سنت طریقے کو فروغ دیا، اور اگر کہیں ضرورت پڑی بھی تو وہاں لڑکی کے بجائے لڑکے کو جو باشعور ہو اور جہیز کا مکمل طور پر انکاری ہو، کے لیے ضروریات زندگی کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا، جن میں سے کچھ نوجوان ایسے تھے جنہوں نے اس سامان کی رقم کو واپس مزید خیر کے کام کے لیے وقف کر دیا۔۔۔

Monday, January 15, 2024

#جہیز_نہیں_وراثت قسط نمبر 3

باپ کے انتقال کو ابھی کچھ ماہ ہی ہوئے تھے، دکھ تھا کہ سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا، زندگی ہے کتنی ہی مشکل، کٹھن یا دشوار کیوں نہ ہو گزرانی پڑتی ہے، رویے دیکھنے پڑتے ہیں ضبط لانا پڑتا ہے۔
مجھے ایسا لگتا ہے
ننھیال ماں کے ساتھ اور ددھیال باپ کے ساتھ ہوتا ہے
ان کی زندگی میں یہ خوشنما چہرے، ان کے گزر جانے کے بعد امتحان بن جاتے ہیں
دونوں نہ رہیں تو رشتوں کی مضبوط کڑیاں بھی وقت کی الجھنوں کے ساتھ کمزور پڑنا شروع ہو جاتی ہیں
اور یتیمی کا دکھ تو ہوتا ہی ایسا ہے کہ اچھے اچھے رشتے دار بھی دامن چھڑا کر وقت سے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں کہ کہیں کوئی ذمہ داری نہ اٹھانی پڑ جائے۔
دین یتیموں کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہے ان کی کفالت کا حکم دیتا ہے ان کی بہترین پرورش کی تلقین کرتا ہے جبکہ یہ نام نہاد مسلمان تو یتیموں کے لیے ان کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی کھانے میں لگ جاتے ہیں،،، ذمہ داری اٹھانا تو بہت دور کی بات ہے۔
اب ماں کے سر پر بچوں کی پرورش کا بوجھ تھا، چاہتیں تو دوسری شادی کرتیں اور اپنی نئی زندگی آباد کر لیتیں، مگر بچوں کا کیا ہوتا؟ اس فکر سے خود کو آزاد نہ کر پائیں تو لاکھ مشوروں کے باوجود اس خیال کو رد کیا اور بچوں کی بہترین پرورش کے لیے دنیا کی سختیوں کو میں خود کو جٹا لیا، تعلیم یافتہ تھیں تو گھر ہی میں ٹیوشن سینٹر سے آغاز کیا، ضرورت مند ہوں اور اللہ پر توکل ہو تو اللہ بھی مشکل راستوں سے آسان رستے بنا دیتا ہے۔
ہاں بلکل، ویسے ہی جیسے موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اک ناممکن راستے کو آسان سا راستہ بنا دیا، لیکن یہ راستہ صرف انہیں متقین کے لیے تھا جنہوں نے موسی کے رب پر توکل کیا۔
والدین نے اپنی زندگی میں اک اچھا فیصلہ کیا تھا کہ بیٹی کو جہیز نہیں بلکہ اس کے لیے ایک زمین کا رقبہ لے رکھا تھا جس کی مالیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی، جہیز کا سامان ہوتا تو دربدر ہو رہا ہوتا، بیچنا پڑ جاتا، ٹوٹ جاتا، دیمک کھا جاتی، زنگ لگ جاتا،
سمجھداری وراثت سے تو نہیں ملتی البتہ خود سے اور دوسروں کی زندگیوں سے تجربات لے کر ان سے سیکھ لیتے ہوئے کیے گئے درست فیصلے ہی سمجھداری ہے۔
اولاد جوان ہے، بیٹیوں کی شادیاں اچھے خاندان میں کی جہیز کے نام پر ایک لاکھ روپے تک خرچ نہیں کیے، حتی کہ مالدار ہونے کے باوجود نکاح کے لیے ریاکاری پر سادگی کو ترجیح دی
سادگی سے رخصتی ہوئی اور ریاکاری سے بچی ہوئی رقم کو بیٹی کے اکاؤنٹ میں ڈیپازٹ کروا دیا۔
بیٹوں کی شادی کی تو جہیز یا رسموں کے نام پر ایک بھی سوٹ کا تبادلہ نہیں ہوا نہ ریاکاری ہوئی نہ ہی بڑھا چڑھا کر جھوٹ بولا گیا
سنت طریقے پر نکاح ہوا، اور فضول رسومات سے بچی ہوئی رقم سے عمرے پر چلے گئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے غیر شرعی رسومات کی غلامی کرنا اور پھر خیر و برکت کی توقع رکھنا کس قدر حماقت ہے۔
اور آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یہاں نقل کرنا ضروری سمجھوں گا، جو ہر ذی شعور کو ذہن نشین کرنی چاہیے 
کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین نکاح آخر کس کو کہا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً."
"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔"
( مسند احمد(6/82۔145)ابن ابی شیبہ(4/189) حاکم(2/178) بزار فی کشف الاستار (2/158) مسند شھاب(1/105)

اس معنی کی ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں:

"خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ "
"بہترین نکاح وہ ہے جو(مہر کے لحاظ سے) آسان ہو۔"( صحیح ۔صحیح ابوداود(1859) کتاب النکاح باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا حتی مات،ارواء الغلیل (1924) ابو داود(2117) السلسلۃ الصحیحہ(1842) صحیح الجامع الصغیر(3300)

Sunday, January 14, 2024

#جہیز_نہیں_وراثت قسط نمبر 2

کسی سے سن رہا تھا کہ فلاں شخص نے اپنی بیٹی کو وراثت نہیں دی، دوسرا شخص بولا لیکن اس نے اپنی بیٹی کو جہیز دینے میں کوئی کمی بھی تو نہیں چھوڑی 15 20 لاکھ کا جہیز دیا، زیورات دیے اس کے سسرالیوں کو لاکھوں کے تحائف دیے۔۔۔
اب بیٹی اگر وراثت کا مطالبہ کرتی ہے تو زیادتی کرتی ہے
دنیا داری کے معاملات میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کر چکر میں ہم نے اپنی آخرت بھی خراب کر لی اور دنیاوی معاملات بھی بگڑے پڑے ہیں۔۔۔
وراثت بیٹی کا حق تھا، جس سے اسے محروم کر دیا جاتا ہے
جبکہ جہیز جو درحقیقت لڑکے کی ذمہ داری ہے اسے لڑکی کے والدین کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
اس روش کے خلاف کھل کر جہ اد کریں
اس کی کھل کر مخالفت کریں
اگر آپ بیٹی والے ہیں
یا آپ بیٹے والے ہیں تو بھی آپ کو ان فرسودہ رسومات کے خلاف بولنا چاہیے۔

کچھ ماہ پہلے ایک فیملی نے کسی عزیز کے ریفرنس سے ہم سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ بیٹی کے جہیز کے لیے رقم درکار ہے، یا فرنیچر لے دیں یا حسب استطاعت مدد کریں
بہت سمجھانے کے بعد وہ کہنے لگے، بیٹا ہماری اپنی سوچ بھی یہی ہے
ہم نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر بہت خرچ کیا ان کے بہتر مستقبل کے لیے، میرے اپنے بیٹے جہیز کے بلکل خلاف ہیں اور بیٹیاں بھی۔۔۔۔
مگر بیٹیوں کی عمر بڑھتی جا رہی ہے تو جو مناسب رشتہ ملا اسے میں کیسے انکار کر دوں۔۔۔۔
اور نہایت افسوس کے ساتھ کہنے پڑے گا جہیز لینے والا شخص مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، اور ساتھ ہی ساتھ مالی طور پر اتنا مستحکم بھی تھا کہ جہیز لیے بغیر اگر خود سے ارادہ کرتا تو بغیر کسی مشکل کے وہ سامان کا ارینج کر سکتا تھا۔۔۔۔
بہرحال یہ صرف ایک نہیں ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں
اور بعض جگہوں پر بیٹیوں کے والدین اس مجبوری کے ساتھ بھی اس کڑوے گھونٹ کو حلق سے نیچے اتار لیتے ہیں کہ کہیں سامان نا ملنے پر ساری زندگی ساس، نند، بھابھیاں اور دیگر عورتیں یا شوہر اسے طعنے نہ دے۔۔۔
کسی جاننے والے نے بیٹی کا رشتہ پکا کیا
لڑکی کی ساس نے کہا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں
لڑکی کے والدین بھی استطاعت نہیں رکھتے تھے تو نہیں دیا
شادی کے بعد کمرہ تو دے دیا لیکن بستر کے نام پر زمین پر بچھانے کے لیے کپڑا تک نہیں دیا اور کہا تم لاتی تو اس کمرے میں کچھ لگنا تھا، نا برتن استعمال کرنے دیے جائیں کپڑے دھونے کے لیے واشنگ مشین کے طعنے، ٹھنڈے پانی کے لیے فریج کے،،،
اگر آپ معاشرہ سے اس برائی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اس برائی کے ساتھ اچھائی کا بھی اضافہ ضروری سمجھیں تاکہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اپنایا جا سکے۔

بیٹیوں کو ان کی وراثت ان کے حق سے محروم نہ کریں
اور بیٹوں کو اس قابل بنائیں کہ چند ہزار یا لاکھوں کے سامان کے لیے اسے بھیک مانگنی پڑے۔ 

WhatsApp