Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Sunday, September 6, 2026

جو ہونا ہے، اسے ہونے دو

#قبولیت_اور_ضبط
#زندگی_کے_تلخ_سچ
#خاموش_مزاحمت

جو ہونا ہے، اسے ہونے دو
تحریر فیصل مقصود 

انسان کے اندر جب طوفان اٹھتا ہے اور سامنے والا اسے سمجھنے سے عاری ہو جائے تو ایک وقت آتا ہے جب انسان کو شور سے زیادہ خاموشی عزیز ہو جاتی ہے۔ پھر چیخنے، رونے، لڑنے یا کہیں دور بھاگ جانے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن سے فرار ممکن نہیں ہوتا۔ وہ تمہاری طرف آتی ہیں، تم انہیں روک نہیں سکتے، اور تمہاری بے بسی تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہیں یہ سکھاتی رہتی ہے کہ ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خاموش ہو جانا ہی آخری مزاحمت ہوتا ہے؛ موت سی خاموشی، طوفان سے پہلے کی خاموشی، جیسے انسان نے شور کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ اپنی بے بسی کو تسلیم کر لیا ہو۔

ہماری سب سے بڑی اذیت اکثر مصیبت نہیں ہوتی، بلکہ یہ ضد ہوتی ہے کہ مصیبت ہماری مرضی کے مطابق کیوں نہیں ٹل رہی۔ ہم ان چیزوں کو بدلنے میں اپنی جان کھپا دیتے ہیں جن پر ہمارا اختیار ہی نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کو بدلنا ہمارے بس میں نہیں، جن حالات کو روکنا ہمارے اختیار میں نہیں، جن فیصلوں کا رخ ہم موڑ نہیں سکتے، ان کے خلاف اندر ہی اندر جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ پھر خود ہی ٹوٹتے ہیں، خود ہی گھٹتے ہیں اور آخر میں خود ہی پوچھتے ہیں کہ سکون کہاں چلا گیا؟ سکون کہیں نہیں گیا ہوتا، ہم نے اسے ایسی جگہ تلاش کیا ہوتا ہے جہاں وہ موجود ہی نہیں تھا۔

فرض کرو تمہیں معلوم ہو کہ ایک مصیبت تمہاری طرف آ رہی ہے۔ تم جانتے ہو کہ نہ تم اس سے بھاگ سکتے ہو، نہ اسے روک سکتے ہو، نہ کوئی ایسا دروازہ ہے جس کے پیچھے چھپ کر تم اس سے بچ جاؤ گے۔ پھر کیا ساری زندگی اس کے آنے کے خوف میں جلتے رہو گے؟ یا ایک دن اپنے اندر بیٹھ کر یہ فیصلہ کرو گے کہ جو ہونا ہے، اسے ہونے دو؛ میں کم از کم اس کے آنے سے پہلے خود کو تو نہیں ماروں گا۔

محاذ پر کھڑا سپاہی بھی جانتا ہے کہ موت کہیں بہت دور نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے سامنے جو میدان ہے، وہاں کسی لمحے کوئی گولی اس کے نام کی بھی ہو سکتی ہے۔ مگر وہ ہر لمحہ موت سے بحث نہیں کرتا۔ وہ موت کے امکان کو تسلیم کرکے اپنی جگہ کھڑا رہتا ہے۔ شاید زندگی بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ہر خطرے کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کچھ خطرات کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔ ہر زخم کو روکا نہیں جا سکتا، کچھ زخموں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہر نقصان سے بچا نہیں جا سکتا، کچھ نقصانات کے بعد انسان کو خود اپنے ملبے سے اٹھنا پڑتا ہے۔

تو زندگی کی ہر مصیبت سے لڑنے کی ضد چھوڑ دو۔ ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی خواہش آخرکار انسان کو حالات سے زیادہ خود اپنے اندر سے زخمی کرتی ہے۔ کچھ لوگ تمہیں سمجھیں گے ہی نہیں، کچھ رشتے تمہاری سچائی کے باوجود نہیں بچیں گے، کچھ دروازے تمہارے پوری قوت سے دھکیلنے کے باوجود نہیں کھلیں گے، اور کچھ فیصلے تمہارے حق میں کبھی نہیں ہوں گے۔ ہر بار چیخنا، ہر بار وضاحت دینا، ہر بار خود کو درست ثابت کرنا ضروری نہیں۔

کبھی کبھی خاموشی اس اعتراف کا نام ہوتی ہے کہ ہاں، میں جان گیا ہوں؛ یہ میرے اختیار میں نہیں۔

اور شاید یہی ضبط کی آخری حد ہے کہ انسان اپنے دل کو سمجھا دے کہ ہر چیز کا انجام وہ نہیں ہوگا جو وہ چاہتا ہے۔ کچھ چیزیں چھنیں گی، کچھ لوگ بدلیں گے، کچھ خواب دفن ہوں گے، کچھ سوال بے جواب رہیں گے اور کچھ درد ایسے ہوں گے جن کا کوئی مرہم نہیں ہوگا۔ مگر زندگی پھر بھی تم سے ایک ہی مطالبہ کرے گی: اٹھو اور چلو۔

کیونکہ زندگی کا سب سے تلخ سچ یہ نہیں کہ مصیبتیں آتی ہیں؛ اصل سچ یہ ہے کہ تم چاہو یا نہ چاہو، کچھ مصیبتیں آ کر رہیں گی۔

اس لیے جو تمہارے اختیار میں نہیں، اسے اپنے سینے میں قیامت بنا کر مت رکھو۔
اسے تسلیم کرو۔

مان جاؤ کہ سب کچھ تمہاری مرضی سے نہیں چلے گا۔
مان جاؤ کہ کچھ چیزیں ایسے ہی ہوں گی۔
مان جاؤ کہ کچھ درد تمہیں برداشت کرنے پڑیں گے۔
اور پھر بھی جینا ہے۔

کیونکہ بعض اوقات فتح یہ نہیں ہوتی کہ تم نے طوفان کو روک لیا؛
فتح یہ ہوتی ہے کہ طوفان کو آتے دیکھ کر بھی تم نے خود کو بکھرنے نہیں دیا۔

بس اتنا سیکھ لو؛
جو ہونا ہے، اسے ہونے دو…
تم ہر چیز کو نہیں روک سکتے، مگر خود کو ٹوٹنے سے ضرور بچا سکتے ہو۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Saturday, September 5, 2026

اولاد کو بچاتے بچاتے، اپنا بڑھاپا نہ ہار دینا

#اولاد_کی_تربیت
#والدین
#تلخ_حقیقت

اولاد کو بچاتے بچاتے، اپنا بڑھاپا نہ ہار دینا
تحریر فیصل مقصود

ہمارے ایک دوست اکثر اپنے والدِ مرحوم کی ایک نصیحت سنایا کرتے تھے کہ اگر بچہ دس فرمائشیں کرے تو ان دس میں سے جو دو تین واقعی ضروری ہوں، وہ پوری کر دو۔ ہر خواہش پوری کرنے کی عادت نہ ڈالو، کیونکہ جس بچے کو ہر چیز مانگنے پر مل جائے، وہ آہستہ آہستہ چیزوں کی نہیں، محرومی کی قدر کرنا بھول جاتا ہے۔ اور اگر ہر جائز خواہش بھی مسلسل ٹھکرا دی جائے تو پھر وہ اپنی خواہشوں کے لیے گھر سے باہر راستے تلاش کرتا ہے۔ تربیت شاید اسی توازن کا نام ہے؛ محبت بھی ہو، مگر حدود کے ساتھ، سہولت بھی ہو، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔

اولاد کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ زندگی میں کیا حاصل کرنا ہے، اسے یہ بھی سکھانا پڑتا ہے کہ زندگی میں کیا برداشت کرنا ہے، کس کا احترام کرنا ہے، اپنی غلطی کہاں تسلیم کرنی ہے اور اپنی ذمہ داری سے کب بھاگنا نہیں۔ بچپن ہی سے اسے گھر کے کاموں میں شریک کرنا، عبادات کی عادت ڈالنا، بڑوں کے سامنے لہجہ درست رکھنا، اپنی چیزیں خود سنبھالنا اور اپنے عمل کے نتائج قبول کرنا سکھانا پڑتا ہے۔ کیونکہ جس بچے کو بچپن میں ذمہ داری سے بچایا جاتا ہے، وہ بڑا ہو کر ذمہ داری سے بھاگنے کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔

میں آج کل بعض بچوں کو راہِ راست سے دور ہوتا دیکھتا ہوں تو عجیب سی بےچینی محسوس کرتا ہوں۔ نہ ان کا بگڑنا میرے لیے کوئی نقصان ہے، نہ ان کا سدھرنا میرے لیے کوئی ذاتی فائدہ۔ مگر مجھے ان بچوں سے زیادہ ان کے والدین کا مستقبل دکھائی دینے لگتا ہے۔ مجھے وہ آج کا بگڑا ہوا بچہ نہیں، کل کا وہ بوڑھا ماں باپ دکھائی دیتا ہے جو اپنی اولاد کے سامنے بےبس کھڑا ہوگا اور سوچ رہا ہوگا کہ جس بچے کے لیے ہم نے دنیا سے لڑ کر اسے ہر مشکل سے بچایا تھا، آج وہی ہمارے لیے دو قدم چلنے کو کیوں تیار نہیں؟

مجھے ان کے بڑھاپے سے خوف آتا ہے۔ اس عمر سے جب انسان کو دولت سے زیادہ اپنائیت، سہولت سے زیادہ سہارا اور دنیا سے زیادہ اپنی اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے اس وقت کا خوف آتا ہے جب وہی والدین اپنی اولاد سے وہ محبت، احترام اور ذمہ داری مانگیں گے جو انہوں نے کبھی اپنے بچوں سے مانگنے کی ہمت ہی نہیں کی تھی۔ کیونکہ انہوں نے ساری عمر اولاد کی غلطیوں کو "بچپن" کہہ کر ٹالا، بدتمیزی کو "عمر کا تقاضا" سمجھا، نافرمانی کو "آج کل کے بچے" کہہ کر چھوڑ دیا اور ہر شکایت کے جواب میں دنیا کو قصوروار ٹھہرا دیا۔

سب سے خطرناک محبت وہ ہے جو بچے کو اس کی اپنی غلطی سے بھی بچا لے۔ ماں یا باپ جب ہر غلطی پر بچے کا دفاع کرتے ہیں، ہر شکایت پر دوسروں کو برا کہتے ہیں اور ہر بار اپنے بچے کو بےقصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ بچے کو دنیا کی سختی سے نہیں، اصلاح کے آخری موقع سے محروم کر رہے ہیں۔

بچے کو ہر بار بچا لینا محبت نہیں ہوتی۔ کبھی اسے اس کی غلطی کے سامنے تنہا کھڑا ہونے دینا بھی محبت ہوتی ہے۔ کبھی اس کی خواہش پوری نہ کرنا بھی محبت ہوتی ہے۔ کبھی اس کی بدتمیزی پر اسے روک دینا، اس کی غلطی پر اسے شرمندہ نہیں بلکہ ذمہ دار بنانا، اور اسے یہ بتانا کہ "تم ہمارے بچے ہو، مگر تمہاری ہر حرکت درست نہیں" — یہی وہ تربیت ہے جو کل اسے انسان بناتی ہے۔

ورنہ وقت بہت بےرحم استاد ہے۔ والدین جس سبق کو محبت کے نام پر آج پڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں، زندگی وہی سبق کل بہت مہنگی فیس کے ساتھ پڑھاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس وقت والدین کے پاس اپنی اولاد کو سمجھانے کی طاقت نہیں رہتی اور اولاد کے پاس انہیں سمجھنے کا وقت نہیں رہتا۔

اور شاید اس سے زیادہ خوفناک انجام کوئی نہیں کہ والدین اپنی اولاد کو زمانے کی ہر ٹھوکر سے بچاتے بچاتے اس قابل بنا دیں کہ آخرکار وہی اولاد ان کے بڑھاپے کی سب سے بڑی ٹھوکر بن جائے۔

تب شاید انہیں احساس ہو کہ وہ بچے کی غلطیاں نہیں چھپا رہے تھے؛
وہ دراصل آنے والے کل کی ایک ایسی حقیقت چھپا رہے تھے جس کا سامنا ایک دن انہیں خود کرنا تھا۔

کبھی کبھی والدین اولاد کو بچاتے بچاتے، جیتے جی اپنے بڑھاپے کی قبر کھود دیتے ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Friday, September 4, 2026

ظاہر کی نیکی، باطن کا اندھیرا

#خود_احتسابی
#ظاہر_اور_باطن
#اللہ_کا_خوف

ظاہر کی نیکی، باطن کا اندھیرا
تحریر فیصل مقصود

ناجانے یہ اعمال کی کیسی دوڑ ہے کہ انسان ایک طرف نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری، دھوکہ، فراڈ، شراب اور خواہشِ نفس سے وابستہ ہر اس کام میں مبتلا رہتا ہے جس سے اسے باز رہنے کو کہا گیا، جبکہ دوسری طرف اسی حرام سے کمائے ہوئے مال، حرام سے مزین زندگی اور انہی گناہوں کے بوجھ کے ساتھ مذہب کو بھی اپنی زندگی میں شامل رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے انسان اپنے اندر کے اندھیرے کو باہر کی عبادتوں سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔

مطلب، کیا تم کسی ایسے شخص کی ایمانی کمزوری کو سمجھ سکتے ہو جو کسی سے آٹھ، دس یا پندرہ لاکھ کا فراڈ کر کے پھر حج و عمرہ جیسی عبادات بھی انجام دے؟ جو زنا کا عادی ہو اور لوگوں کو زنا سے بچنے کی تلقین کرے؟ جو دین و دنیا کا چور ہو اور دوسروں کو چوری سے باز رہنے کی بات کرے؟ جس کی اپنی زندگی دنیا بھر کے عیبوں سے بھری ہو مگر وہ دوسروں کو انہی عیبوں سے بچنے کی نصیحت کرتا پھرے؟ سوال یہ نہیں کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی نصیحت درست ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ وہ خود اپنے الفاظ کے سامنے کہاں کھڑا ہے؟

لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہم کسی انسان کی عبادات اور اعمال کو دیکھ کر اس کی آخری جزا و سزا کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہم کسی کو جنتی یا جہنمی قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتے، نہ یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ کس کی کون سی نیکی اللہ کے ہاں قبول ہوئی اور کس کا کون سا عمل رد کر دیا گیا۔ حقیقی حساب، نیتوں کا علم اور آخری فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ہمارا کام کسی کے انجام کا فیصلہ سنانا نہیں، البتہ ہم اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا ظاہر اور باطن ایک دوسرے کے بالکل برعکس نہیں ہونا چاہیے۔

اگر زبان پر تقویٰ ہے تو کردار میں بھی اس کی کچھ جھلک ہونی چاہیے۔ اگر ہم دوسروں کو حرام سے بچنے کی نصیحت کرتے ہیں تو خود بھی حرام سے بچنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اگر ہم لوگوں کو حقوق العباد کا درس دیتے ہیں تو کسی کا حق کھاتے ہوئے ہمارا دل بھی بے چین ہونا چاہیے۔ انسان کامل نہیں، اس سے گناہ بھی ہوتے ہیں، وہ کمزور بھی پڑتا ہے اور نفس کے ہاتھوں شکست بھی کھا سکتا ہے؛ مگر گناہ پر شرمندہ ہونا اور گناہ کو زندگی کا معمول بنا کر پھر دوسروں کو محض زبان سے نصیحت کرتے رہنا، دونوں ایک جیسی چیزیں نہیں۔

ممکن ہے اس کی نصیحت اچھی ہو، ممکن ہے کوئی اس کی ایک بات سے راہِ راست پر آ جائے، ممکن ہے اس کے الفاظ کسی کی زندگی بدل دیں۔ مگر ایسے انسان کو خود بھی ایک لمحے کے لیے رک کر یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ دوسروں کو جس راستے کی طرف بلا رہا ہے، خود اس راستے پر کہاں کھڑا ہے؟ اور کیا وہ یہ پسند کرے گا کہ اس کا مسلمان بھائی اس کی زبان سے جنت کا راستہ سن کر خود اس راستے پر چل پڑے، جبکہ وہ اپنی ہی زندگی کے اعمال سے اپنے لیے آخرت کا خسارہ مول لے رہا ہو؟ کیا یہ عجیب المیہ نہیں کہ انسان دوسروں کو جنت کا راستہ دکھاتا رہے، مگر اپنے نفس کے پیچھے چل کر خود کو جانے انجانے میں جہنم کے راستے پر ڈال دے؟ کیونکہ دوسروں کو گناہ سے روک دینا شاید آسان ہے، مگر اپنے نفس کو اسی گناہ سے روکنا اصل امتحان ہے۔

اور شاید ہم سب کو دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ زبان سے تقویٰ کا درس دیتے ہیں مگر تنہائی میں اپنے نفس کے سامنے ہار جاتے ہیں؟ کتنے ہیں جو دوسروں کے عیب بڑی آسانی سے دیکھ لیتے ہیں مگر اپنے کردار کے داغ نظر انداز کر دیتے ہیں؟ شاید سب سے خطرناک کیفیت یہ ہے کہ انسان اپنی ظاہری نیکیوں سے اتنا مطمئن ہو جائے کہ اسے اپنے باطن کی خرابی دکھائی ہی نہ دے۔ ممکن ہے ہم بھی کہیں نہ کہیں اسی کیفیت کا شکار ہوں۔

اسی لیے دعا ہے کہ اللہ ہمیں صرف نصیحت کرنے والا نہیں بلکہ اپنی نصیحت پر عمل کرنے والا بھی بنائے، صرف دوسروں کے عیب دیکھنے والا نہیں بلکہ اپنے عیب پہچاننے والا بنائے، اور ہماری زبان، ہمارا ظاہر اور ہمارا باطن ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں۔ کیونکہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ آج کے فتنوں کے اس دور میں وہی شخص خود کو گناہ سے بچا سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو، جسے یقین ہو کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، کوئی جان پائے یا نہ جان پائے، انسان کے لیے یہی احساس کافی ہونا چاہیے کہ ایک نگاہ ایسی ہے جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔

شاید اصل نیکی بھی یہی ہے کہ انسان لوگوں کے سامنے نیک بننے کے بجائے تنہائی میں بھی اللہ کا بندہ رہ سکے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Thursday, September 3, 2026

پیسہ، بہادری اور حکمت

#پیسہ_اور_کردار
#آزمائش_اور_صبر
#انسان_کی_حقیقت

پیسہ، بہادری اور حکمت
تحریر فیصل مقصود

سیانوں سے سنا تھا: "پیسہ دینا بہادری ہے، اور لینا حکمت ہے۔" وقت نے اس ایک جملے کا مفہوم کچھ اس طرح سمجھایا کہ اب لگتا ہے مال صرف جیب نہیں آزماتا، یہ انسان کا صبر، ظرف، تعلق، اعتماد اور کردار بھی آزماتا ہے۔ میں اسے بارہا سمجھاتا رہا کہ دیکھو، تمہاری یہ وقتی ضرورت یا خواہش، جسے تکمیل تک پہنچانے کے لیے تم قرض لے رہے ہو، کل ہماری دوستی کے درمیان ایسی دراڑ ثابت ہو سکتی ہے جسے پھر کوئی تعلق پُر نہ کر سکے۔ مگر وہ بضد تھا؛ کبھی قسمیں دیتا، کبھی گھر والوں کی مجبوریاں سناتا، کبھی اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتا اور کبھی ڈپریشن سے مر جانے تک کی باتیں کرتا۔ آخرکار جیسے تیسے کر کے وہ مجھ سے سات لاکھ روپے لینے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے رقم دیتے ہوئے ایک اسٹامپ بھی جاری کروایا، واپسی کی ایک مقررہ مدت طے کی اور اسے پابند کیا کہ دیکھو، یہ رقم مقررہ وقت پر واپس کرنا ہوگی۔ وہ آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے رقم لے گیا اور میں اس اطمینان کے ساتھ رہ گیا کہ شاید میں نے ایک ضرورت مند کا ہاتھ تھاما ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں رقم کے ساتھ اپنے سکون کا ایک حصہ بھی اس کے حوالے کر چکا ہوں۔

وقت گزرتا رہا۔ میں اکثر باتوں ہی باتوں میں اسے احساس دلاتا کہ رقم واپس کرنی ہے، مگر وہ ہر بار کسی نہ کسی حیلے، بہانے یا نئی بات کے پیچھے چھپ کر راستہ بدل لیتا۔ میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا کہ تعلق خراب نہ ہو، لیکن وقت جیسے جیسے مقررہ تاریخ کے قریب آتا گیا، میری ٹینشن بڑھتی گئی اور اس کی بے فکری بڑھتی گئی۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ شاید اس نے رقم مقررہ وقت پر واپس نہیں کرنی۔ تب احساس ہوا کہ اسٹامپ پیپر بھی ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ کاغذ میرے پاس تھا، حق میرا تھا، مگر عملی بے بسی بھی میری ہی تھی۔ گھر پہلے ہی گروی ہے، دکان کرائے پر ہے، پاس کوئی ایسا اثاثہ نہیں جس پر قبضہ کر کے اپنی رقم وصول کر سکوں، اور قانون بھی رقم کے بدلے کسی کے گردے، پھیپھڑے یا دل بیچنے سے رہا۔ یوں ایک شخص کا قرض صرف رقم کا قرض نہیں رہتا؛ وہ آپ کے وقت، سکون، تعلق اور عزت کو بھی اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔

پیسے دینے سے پہلے وہ میرے پیچھے پیچھے تھا اور میں اسے نظر انداز کرتا تھا؛ پیسے لینے کے بعد اب میں اس کے پیچھے پیچھے ہوں اور وہ مجھے نظر انداز کر رہا ہے۔ بلکہ باتوں ہی باتوں میں متعدد مرتبہ مجھے یہ باور کروانے کی کوشش بھی کر چکا ہے کہ اگر پیسے نکلوا سکتے ہو تو نکلوا لو۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ پیسہ کسی کو ہمیشہ بدلتا نہیں، کبھی کبھی صرف اس کا اصل چہرہ دکھا دیتا ہے۔ جس شخص کی مجبوری دیکھ کر آپ نے اپنی جیب کھولی تھی، وہی شخص بعد میں آپ کے حق کو ایسے دیکھنے لگتا ہے جیسے آپ اس سے اپنا مال نہیں، کوئی احسان مانگ رہے ہوں۔ پیسے دینے سے پہلے تعلق سامنے ہوتا ہے، پیسے لینے کے بعد مفاد سامنے آ جاتا ہے۔ اور بعض اوقات سات لاکھ روپے کی قیمت سات لاکھ نہیں ہوتی؛ اس کے بدلے آپ کو کسی انسان کے کردار کی وہ حقیقت دکھائی دیتی ہے جو شاید برسوں کی دوستی بھی نہ دکھا سکتی۔

سچ کہوں تو یہ دنیا ان لوگوں کے لیے اور بھی عجیب امتحان گاہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، جو اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی پر زیادتی کرنے سے بچتے ہیں۔ ان کے لیے ہر آزمائش بیماری، غربت یا مصیبت کی صورت میں نہیں آتی؛ کبھی آزمائش ایک انسان کی صورت میں آتی ہے۔ آپ "صراط الذین انعمت علیہم" پر چلنے کا عہد کرتے ہیں، مگر سیدھا چلنا اتنا آسان کہاں؟ راستے میں روڑے اٹکانے کے لیے "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" جیسے لوگ قدم قدم پر کھڑے ملتے ہیں۔ آپ حق پر ہوتے ہوئے بھی خود کو روکتے ہیں، غصہ پیتے ہیں، الفاظ نگلتے ہیں، کیونکہ آپ نہیں چاہتے کہ کسی دوسرے کی بدکرداری آپ کو بھی بدکرداری کی طرف دھکیل دے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ صبر صرف خاموش رہنے کا نام نہیں؛ کبھی صبر یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہو اور آپ پھر بھی اپنے ہاتھ کو زیادتی سے روک لیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ رقم کبھی واپس نہیں آ سکتی۔ شاید آ جائے، شاید کسی نہ کسی طرح نکل آئے۔ میں اسے کسی بھی تھانے کچہری میں لے جاؤں، پھر بھی مجھے معلوم ہے کہ شاید وہاں بھی میں اسے لا کر بے بس ہی کھڑا رہوں گا، کیونکہ میں رقم دے چکا ہوں اور وہ رقم استعمال کر چکا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسا اثاثہ نہیں جسے پکڑ کر اپنی رقم پوری کی پوری وصول کر سکوں۔ اب شاید میرے پاس کسی مقررہ وقت تک مزید انتظار کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ ہو، یا پھر وہ میری رقم کو اتنے حصوں میں تقسیم کر دے کہ کبھی سکوں میں، کبھی ہزاروں میں، میرے منہ پر مارتا رہے۔ دونوں صورتوں میں رقم سے زیادہ ذلت کا احساس میرے حصے میں آئے گا۔ عجیب تماشا ہے؛ مال میرا، حق میرا، تقاضا میرا، انتظار میرا اور بے چینی بھی میری—جبکہ بے فکری اس شخص کے حصے میں ہے جس کے ہاتھ میں میرا مال ہے۔

میں کاروبار کر رہا ہوں؛ نفع و نقصان کے ساتھ۔ کاروبار میں کبھی مال ڈوبتا ہے، کبھی فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے اور کبھی انسان کو کسی انسان کو پہچاننے میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ممکن ہے یہ بھی میرے کاروبار کا ایک نقصان ہو، اور ممکن ہے یہ رقم کبھی واپس بھی آ جائے۔ مگر میں یہ سوچ کر خود کو تسلی دیتا ہوں کہ شاید یہ آزمائش اور اس پر صبر کہیں نہ کہیں میرے لیے نجات کا سبب بن جائے۔ شاید اللہ مجھے یہ سکھا رہا ہو کہ آئندہ کسی کی مجبوری پر رحم ضرور کرنا، مگر اپنی بصیرت کو قربان نہ کرنا؛ کسی کا ہاتھ ضرور تھامنا، مگر اپنے اعتماد کو اندھا نہ کرنا۔ ہر نقصان خسارہ نہیں ہوتا؛ بعض نقصانات انسان کو وہ سبق دے جاتے ہیں جو دولت، کتابیں اور تجربات بھی نہیں دے پاتے۔

اور اب میری دعا صرف یہ نہیں کہ میرا مال مجھے واپس مل جائے۔ میری دعا یہ ہے کہ اس آزمائش کے دوران میں اپنا دل، اپنا اخلاق اور اپنے رب سے تعلق نہ ہاروں۔ جانے انجانے میری زبان سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو، میرے ہاتھ یا میرے کسی عضو سے کسی پر زیادتی ہوئی ہو تو اللہ مجھے اس کی سزا سے محفوظ رکھے۔ جو غلطیاں جانتے بوجھتے مجھ سے ہوئیں، ان پر میری ندامت کبھی ختم نہ ہو، اور جو انجانے میں ہوئیں، ان کے لیے میں اپنے رب سے عفو و درگزر کا طلب گار ہوں۔ اگر کسی نے میرا حق دبایا ہے تو اللہ مجھے اپنا حق لینے کی توفیق دے، مگر اس حق کی تلاش میں مجھے خود ظالم بننے سے بھی بچائے۔

کیونکہ شاید آخرکار اصل حساب سات لاکھ روپے کا نہیں ہوگا۔ اصل حساب یہ ہوگا کہ سات لاکھ کے اس امتحان میں میرا مال کتنا بچا، یہ تو وقت بتائے گا؛ مگر میرا ایمان، میرا اخلاق، میرا صبر اور میرے رب کا خوف کتنا بچا—فیصلہ شاید وہیں ہونا ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Tuesday, September 1, 2026

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ چہارم)

#پاکستان_کا_مستقبل
#عوام_کا_پاکستان
#اصلاح_نظام

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ چہارم)
تعلیم، صحت اور نوجوان — ملک کا اصل سرمایہ کہاں جا رہا ہے؟

کسی بھی ملک کی اصل دولت اس کی عمارتیں، موٹر ویز یا بڑے بڑے منصوبے نہیں ہوتے۔ اصل دولت اس کے انسان ہوتے ہیں۔ اگر انسان تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنرمند، باکردار اور معاشی طور پر فعال ہوں تو محدود وسائل رکھنے والا ملک بھی ترقی کر سکتا ہے، لیکن اگر ایک ملک اپنے انسانوں کو معیاری تعلیم، صحت اور روزگار فراہم نہ کر سکے تو اس کے پاس کتنے ہی منصوبے کیوں نہ ہوں، ترقی کا سفر ادھورا رہتا ہے۔

ہماری تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف مہنگے نجی اسکولوں کا نظام ہے اور دوسری طرف بہت سے سرکاری اسکول بنیادی معیار اور سہولیات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ غریب والدین اپنے بچے کو بہتر تعلیم دینے کے لیے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں۔ فیس، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ، ٹیوشن اور دیگر اخراجات ایک ایسے خاندان پر مسلسل بوجھ بنتے ہیں جس کی آمدنی پہلے ہی محدود ہو۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایسے سرکاری اسکول کیوں نہیں بنا سکتے جہاں ایک غریب آدمی اپنے بچے کو بھیجتے ہوئے یہ محسوس کرے کہ اسے کسی دوسرے درجے کی تعلیم نہیں مل رہی؟

سرکاری اسکول کی عمارت بنا دینا کافی نہیں۔ وہاں بہترین استاد، مسلسل teacher training، سائنس لیبارٹری، لائبریری، کھیل، ٹیکنالوجی، صاف پانی، واش روم، محفوظ ماحول اور جدید نصاب بھی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل بنا رہا ہے یا زندگی اور معیشت کے لیے تیار کر رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کی حالت بھی الگ سوال ہے۔ ایک نوجوان بارہ، چودہ یا سولہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی تک پہنچتا ہے اور فیس اس کے سامنے دیوار بن جاتی ہے۔ پھر بڑی مشکل سے ڈگری حاصل کر بھی لے تو روزگار کی ضمانت نہیں۔ ہمیں ایسی یونیورسٹیاں چاہیے جو صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی، artificial intelligence، engineering، agriculture، entrepreneurship اور global markets سے جڑی ہوں۔ ڈگری کے ساتھ ہنر، تحقیق کے ساتھ روزگار اور تعلیم کے ساتھ معاشی مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔

یہاں پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آتا ہے: نوجوانوں کی بڑی تعداد اور ان کے لیے محدود معاشی مواقع۔ پاکستان کی معیشت کو ہر سال بڑی تعداد میں نئے کارکنوں کو absorb کرنا ہوگا۔ Pakistan Bureau of Statistics کے Labour Force Survey جیسے سرکاری ذرائع اسی لیے labour force participation، employment اور unemployment کو قومی planning کے لیے بنیادی indicators قرار دیتے ہیں۔

اگر ہم نوجوان کو تعلیم دیں مگر روزگار نہ دیں، ڈگری دیں مگر ہنر نہ دیں، موبائل اور انٹرنیٹ دیں مگر productive digital economy نہ دیں تو ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہوں گے جس کے پاس خواہشات بہت ہوں گی مگر مواقع کم۔

صحت کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے کیونکہ یہاں تاخیر کا مطلب کبھی کبھی موت ہوتا ہے۔ کہیں ہسپتال موجود ہے مگر ڈاکٹر نہیں، کہیں ڈاکٹر ہے مگر بستر نہیں، کہیں بستر ہے مگر مشین خراب ہے، کہیں مشین موجود ہے مگر trained staff نہیں، کہیں علاج موجود ہے مگر دوا نہیں، اور کہیں علاج موجود ہونے کے باوجود غریب مریض اسے afford نہیں کر سکتا۔

ہمیں ہسپتالوں کی تعداد گننے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنے ہسپتال واقعی functional ہیں، کتنے مریضوں کو بروقت علاج مل رہا ہے، emergency response کتنا مؤثر ہے، ادویات کتنی دستیاب ہیں، diagnostic facilities کتنی فعال ہیں اور بنیادی صحت مراکز لوگوں کو بڑے ہسپتال پہنچنے سے پہلے کتنا سہارا دے رہے ہیں۔

اور اس پورے نظام میں ایک اور مسئلہ ہے جس پر کم بات ہوتی ہے: آبادی میں اضافہ اور انسانی ترقی کی رفتار۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھے اور تعلیم، صحت، روزگار، پانی، خوراک اور شہری سہولیات اسی رفتار سے نہ بڑھیں تو فی کس وسائل کا دباؤ بڑھتا جائے گا۔ World Bank بھی پاکستان کے لیے بلند آبادی میں اضافے، محدود fiscal space اور poverty reduction کے چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس لیے ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکومت نے کتنے اسکول اور ہسپتال بنائے۔ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اگلے بیس سال میں پاکستانی بچے، نوجوان اور خاندان کس معیارِ زندگی کے ساتھ زندہ ہوں گے؟

اور جب تعلیم، صحت اور روزگار کمزور ہوں تو اگلا بحران خود بخود سامنے آتا ہے:

غربت، مہنگائی، قرض، ٹیکس اور روزگار کا بحران۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

Monday, August 31, 2026

زندگی آخر کیا ہے؟

#زندگی_آخر_کیا_ہے
#فکر_و_فلسفہ
#حقیقت_زندگی

زندگی آخر کیا ہے؟
تحریر فیصل مقصود

میں روز سوچتا ہوں، زندگی آخر کیا ہے؟ کبھی اسے مذہبی نظریے سے دیکھتا ہوں، کبھی دنیاوی نظریے سے۔ دونوں زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر عجیب بات ہے کہ مذہبی نظریہ مجھے دنیاوی نظریے سے کہیں زیادہ پائیدار اور تسکین دہ محسوس ہوتا ہے۔ شاید اس لیے کہ دنیاوی نظریے میں زندگی ایک ایسی دوڑ بن جاتی ہے جس کی کوئی آخری حد نہیں۔ تم اپنے خوابوں کی تکمیل کے پیچھے بھاگ رہے ہو، ایک خواب پورا ہوتا ہے تو دوسرا تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہوتا ہے، ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو کئی نئی خواہشیں جنم لے لیتی ہیں۔ تم بس کما رہے ہو، جمع کر رہے ہو، حاصل کر رہے ہو اور اگر حلال و حرام کی تمیز بھی راستے کی رکاوٹ نہ رہے، ظلم و جبر کی کوئی قید باقی نہ رہے، جزا و سزا کا کوئی خوف نہ ہو اور انسان ہر اس حد سے آزاد ہو جائے جس سے اسے روکا گیا ہے تو پھر دنیا ہی اس کی آخری حقیقت بن جاتی ہے۔ وہ اسی دنیا کو جنت سمجھ بیٹھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے اپنے انجام تک کو بھول جاتا ہے۔

پھر اسی زندگی کو مذہبی نظریے سے دیکھو تو منظر بدل جاتا ہے۔ دنیا ایک مستقل ٹھکانا نہیں رہتی، ایک عارضی مہمان خانہ بن جاتی ہے؛ ایسی جگہ جہاں تمہیں کچھ وقت کے لیے ٹھہرایا گیا ہے، جہاں خواہشیں بھی ہیں اور ان کی محرومیاں بھی، خوشیاں بھی ہیں اور غم بھی، کامیابیاں بھی ہیں اور ناکامیاں بھی، امیدیں بھی ہیں اور مایوسیاں بھی۔ یہاں ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں اور ہر خواب کا حقیقت بن جانا کامیابی کی علامت نہیں۔ لیکن اسی عارضی ٹھکانے میں تمہیں اس کے بنانے والے کے کچھ قوانین دیے گئے ہیں، کچھ حدود بتائی گئی ہیں اور ایک ایسا راستہ دکھایا گیا ہے جس پر چل کر شاید وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے لیے لوگ اس دنیا میں اپنا انجام بھول جاتے ہیں۔ فرق شاید صرف اتنا ہے کہ دنیاوی نظریہ تمہیں حاصل کرنے کی طرف دیکھتا ہے اور مذہبی نظریہ تمہیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آخرکار چھوڑ کر جانا ہے۔

شاید اسی لیے زندگی کا مطلب ہر شخص کے لیے مختلف ہوگا، کیونکہ ہر انسان اسے اپنے تجربے اور اپنے زاویۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ پنکچر والے سے پوچھو گے تو ممکن ہے وہ زندگی کو ٹائر، ٹیوب، ہوا اور پانی کے بلبلے تک محدود کر دے۔ درزی سے پوچھو گے تو وہ کپڑے کے طول و عرض، سوئی کے ٹانکے اور دھاگے کے کچے پکے ہونے کو زندگی کی ڈور سے جوڑ دے۔ لکھاری سے پوچھو گے تو وہ زندگی کو اپنے لفظوں کی گرفت میں قید کرکے دکھا دے گا۔ اسی طرح دنیا کے ہر شعبے میں مہارت رکھنے والے شخص سے زندگی کے بارے میں پوچھو تو غالباً وہ اپنے فن، اپنے تجربے اور اپنے مشاہدے کے آئینے میں زندگی کی کوئی نہ کوئی نئی تصویر دکھا دے گا۔ شاید یہی انسان کی فطرت ہے کہ وہ جس دنیا میں رہتا ہے، زندگی کو بھی اسی دنیا کی زبان میں سمجھنے لگتا ہے۔

لیکن ان تمام زاویوں کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جسے کوئی شخص اپنی مرضی کی طرف موڑ نہیں سکتا۔ کوئی اسے کسی تیسری طرف لے جا کر نہیں دکھا سکتا، کوئی ایسا نظریہ پیش نہیں کر سکتا جو اسے موت سے آزاد کر دے۔ پنکچر والا ہو یا درزی، لکھاری ہو یا فلسفی، دولت مند ہو یا فقیر، طاقتور ہو یا بےبس؛ سب اپنی اپنی زندگی کو الگ الگ معنی دے سکتے ہیں، مگر اپنی موت کو الگ معنی نہیں دے سکتے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے لیے یہ انجام نہیں۔ کوئی اپنی مہارت سے موت کو چکمہ نہیں دے سکتا، کوئی دولت سے اسے خرید نہیں سکتا، کوئی طاقت سے اسے روک نہیں سکتا اور کوئی فلسفہ بنا کر اس حقیقت سے باہر نہیں نکل سکتا۔

نظریے الگ ہو سکتے ہیں، زاویے مختلف ہو سکتے ہیں، زندگی کو سمجھنے کے واسطے جدا ہو سکتے ہیں، مگر نتیجہ سب کا ایک ہی ہے۔ کوئی دنیا کو سب کچھ سمجھ کر جئے گا، کوئی اسے ایک عارضی ٹھکانا سمجھ کر؛ کوئی اپنی خواہشوں کا غلام ہوگا، کوئی اپنے اصولوں کا پابند؛ کوئی حاصل کرنے میں زندگی گزار دے گا اور کوئی خود کو سمجھنے میں۔ مگر وقت سب کو ایک ہی مقام تک لے جائے گا، جہاں انسان کے تمام نظریے، تمام دلیلیں، تمام خواہشیں اور تمام تعارف پیچھے رہ جائیں گے۔

شاید زندگی کی اصل الجھن یہی ہے کہ انسان کے پاس اسے سمجھنے کے لیے بےشمار نظریے ہیں، مگر اسے گزارنے کے لیے صرف ایک زندگی۔ ہم اسے جس زاویے سے چاہیں دیکھ سکتے ہیں، جس نام سے چاہیں پکار سکتے ہیں، اس کے معنی اپنے تجربے کے مطابق نکال سکتے ہیں، مگر ایک حقیقت ہمارے اختیار سے باہر ہے: ہمیں اس زندگی کے بعد ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔ شاید اسی لیے زندگی کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم جس چیز کو زندگی کہہ رہے ہیں، کہیں وہ صرف اس عارضی قیام گاہ کا نام تو نہیں جسے ہم نے اپنی پوری حقیقت سمجھ لیا ہے۔

آخر میں شاید فرق صرف نظریے کا نہیں رہتا، فرق اس بات کا رہ جاتا ہے کہ انسان نے اپنی زندگی کو کس حقیقت کے تابع رکھا۔ کیونکہ دنیا سب کو اپنے حصے کا فریب دے سکتی ہے، خواہش سب کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے، اور وقت سب کو اپنے ساتھ بہا سکتا ہے؛ مگر موت کے سامنے پہنچ کر ہر انسان کو اپنے اختیار کردہ نظریے کا آخری نتیجہ ضرور دیکھنا ہوگا۔ اور شاید زندگی کو سمجھنے کا سب سے مشکل سوال یہی ہے کہ جب آخرکار سب کچھ چھوڑ دینا ہے تو پھر ہم ساری عمر کس چیز کو اپنا سمجھ کر جیتے رہے؟

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ سوم)

#پاکستان_کا_مستقبل
#عوام_کا_پاکستان
#اصلاح_نظام

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ سوم)
بجلی، سولر اور IPPs — عوام کو صرف بل نہیں، مکمل حساب چاہیے
تحریر فیصل مقصود

ایک وقت تھا جب پاکستان بجلی کے شدید بحران سے گزر رہا تھا۔ لوڈشیڈنگ نے گھروں، دکانوں، کارخانوں، کاروبار اور زراعت سب کو متاثر کیا۔ عوام کو بتایا گیا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے۔ پھر ایک بڑی تعداد نے ریاست کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت حل تلاش کیا۔ لوگوں نے اپنی جمع پونجی سے سولر پینل خریدے، انورٹر خریدے، بیٹریاں خریدیں، تاریں، بریکر، اسٹینڈ اور تنصیب کے اخراجات برداشت کیے۔ کسی نے قرض لے کر سولر لگایا، کسی نے کئی سال کی بچت خرچ کر دی۔

یہ صرف سولر خریدنے کی کہانی نہیں تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ پاکستانی شہری مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے اور اگر اسے موقع ملے تو اپنی جیب سے بھی قومی توانائی کے مسئلے کا حصہ حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر لاکھوں صارفین اپنی بجلی خود پیدا کرنے کی طرف جا رہے تھے تو کیا ہماری قومی توانائی پالیسی نے اس تبدیلی کو بروقت سمجھا؟ کیا transmission، distribution، storage، grid management اور prosumer framework کو اسی رفتار سے تبدیل کیا گیا؟ کیا rooftop solar کو قومی energy mix کا باقاعدہ حصہ سمجھ کر طویل المدتی منصوبہ بنایا گیا؟ یا ہم ایک ایسے نظام میں پھنسے رہے جہاں بجلی پیدا کرنے، خریدنے، منتقل کرنے اور صارف تک پہنچانے کے الگ الگ مسائل ایک دوسرے پر بوجھ ڈالتے رہے؟

عوام کا ایک اور بنیادی سوال بجلی کی قیمت کے بارے میں ہے۔ اگر بجلی کے بل میں صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت شامل نہیں بلکہ power purchase، capacity-related charges، transmission، distribution، losses، taxes اور مختلف adjustments بھی شامل ہیں تو عام شہری کو اس پورے نظام کی سادہ زبان میں وضاحت کیوں نہیں دی جاتی؟ NEPRA کے موجودہ tariff اور power-sector records میں بجلی کی قیمت کے مختلف components اور periodic adjustments باقاعدگی سے سامنے آتے ہیں۔

اسی طرح IPPs کا مسئلہ بھی صرف یہ کہہ دینے سے حل نہیں ہوتا کہ "حکومت مہنگی بجلی خریدتی ہے"۔ اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ مختلف power purchase agreements کیسے بنے، capacity payments کی ضرورت اور لاگت کیا ہے، کن شرائط پر معاہدے ہوئے، ان معاہدوں نے قومی خزانے اور صارف پر کیا اثر ڈالا، کون سے معاہدے تبدیل یا ختم ہو سکتے ہیں، اور مستقبل میں ایسی planning کیسے کی جائے کہ بجلی کی قیمت قابلِ برداشت رہے۔ NEPRA کی اپنی تاریخی رپورٹس میں بھی capacity payments اور power-sector کے دیرینہ مسائل زیرِ بحث رہے ہیں۔

عوام کو کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نعرہ نہیں چاہیے۔ عوام کو ایک یونٹ بجلی کا مکمل حساب چاہیے۔

یہ بجلی کہاں پیدا ہوئی؟ کس قیمت پر پیدا ہوئی؟ کس قیمت پر خریدی گئی؟ transmission میں کیا خرچ آیا؟ distribution میں کیا خرچ آیا؟ losses کتنے ہوئے؟ capacity charges کتنے ہیں؟ taxes اور surcharges کتنے ہیں؟ اور آخرکار صارف کے بل تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت اتنی کیوں بن گئی؟

اگر حکومت یہ حساب شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھ دے تو شاید بہت سے سیاسی تنازعات خود ختم ہو جائیں۔

اور سولر کے بارے میں بھی ہمیں جذبات کے بجائے عقل سے کام لینا ہوگا۔ سولر صارف کو ریاست کا دشمن نہیں بلکہ energy transition کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ اگر عوام نے اپنی جیب سے rooftop solar میں سرمایہ کاری کی ہے تو حکومت کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو grid stability، consumer fairness اور renewable investment تینوں کو متوازن کرے۔ مستقبل کی generation planning میں بھی renewable sources، demand، storage اور grid requirements کو ایک مربوط انداز میں دیکھنا ہوگا؛ NEPRA کا 2025-35 IGCEP اسی نوعیت کی indicative planning کا ایک بنیادی دستاویز ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ سولر اچھا ہے یا برا، IPPs اچھے ہیں یا برے، سرکاری بجلی اچھی ہے یا نجی بجلی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پورا نظام عوام کے لیے سستا، قابلِ اعتماد، شفاف اور طویل المدتی طور پر پائیدار بنایا جا رہا ہے؟

اور یہی سوال تعلیم اور صحت کے بارے میں بھی اٹھتا ہے۔

کیونکہ بجلی کا بل انسان کی جیب خالی کرتا ہے، مگر ناقص تعلیم اور ناقص صحت انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

فیس بک پر ہمارا پیج لائک اور فالو کرنا مت بھولیں 
https://www.facebook.com/share/p/1K7Kcib3kZ/
WhatsApp