#تجربہ_کی_دانش
#فکر_و_شعور
#اعوانیات
تجربہ عاقل کی میراث ہے
تحریر فیصل مقصود
معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس علم کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے تجربے کی توقیر کھو دی ہے۔ ہر نئی نسل اپنے آپ کو تاریخ کا آغاز سمجھتی ہے، گویا اس سے پہلے نہ کوئی زمانہ گزرا، نہ کسی نے غلطیاں کیں، نہ کسی نے ان غلطیوں کی قیمت اپنے خون، آنسوؤں اور عمر سے ادا کی۔
جب کوئی سیانا کہتا ہے کہ "ہم نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے" تو وہ اپنی عمر کا حوالہ نہیں دیتا، بلکہ ان زخموں کی شہادت پیش کرتا ہے جو وقت نے اس کے وجود پر ثبت کیے ہوتے ہیں۔ اس کے سفید بال سورج کی تپش سے نہیں، زندگی کی بھٹی سے نکلے ہوتے ہیں۔ ان میں شکستوں کی راکھ بھی شامل ہوتی ہے، کامیابیوں کی گرد بھی، دھوکوں کی تلخی بھی اور زمانے کی بے وفائیوں کا رنگ بھی۔
بدقسمتی یہ ہے کہ آج کے دور میں ہر شخص استاد بننا چاہتا ہے، مگر شاگرد کوئی نہیں بننا چاہتا۔ ہر زبان نصیحت کرنا جانتی ہے، مگر ہر کان نصیحت سننے سے انکاری ہے۔ عقل سے پہلے رائے پیدا ہو جاتی ہے اور مطالعے سے پہلے فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے افراد کو بھی کمزور کیا اور قوموں کو بھی۔
سیاسی میدان اس المیے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ہر چند برس بعد قوم پرانے دھوکوں کو نئے نعروں کے ساتھ قبول کر لیتی ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، نعرے بدل جاتے ہیں، جماعتوں کے رنگ بدل جاتے ہیں، مگر فریب کی بنیاد وہی رہتی ہے۔ وجہ صرف ایک ہے؛ قوم نے اپنے بزرگوں کے تجربات کو بوجھ سمجھا، سرمایہ نہیں۔ جنہوں نے تاریخ پڑھی نہیں، وہ تاریخ کو بار بار دہراتے رہتے ہیں، اور جنہوں نے بزرگوں کی نصیحتوں کا مذاق اڑایا، انہوں نے وہی زخم دوبارہ کھائے جن کی نشان دہی پہلے ہی کر دی گئی تھی۔
تجربہ کتابوں میں بند کوئی باب نہیں، بلکہ وقت کی عدالت کا وہ فیصلہ ہے جس پر زندگی کی مہر ثبت ہوتی ہے۔ کتاب غلط ہو سکتی ہے، تقریر جذباتی ہو سکتی ہے، نعرہ جھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن ایک سچا تجربہ اپنے اندر حقیقت کا وہ وزن رکھتا ہے جسے وقت بھی جھٹلا نہیں سکتا۔
آج کا انسان معلومات کے انبار پر کھڑا ہے، مگر حکمت سے خالی ہے۔ اس کے ہاتھ میں دنیا بھر کی خبریں ہیں، مگر اپنے بزرگ کے ایک جملے کی قدر نہیں۔ وہ ہزاروں اجنبیوں کی رائے کو اہم سمجھتا ہے، مگر اپنے گھر کے اس شخص کی بات کو نظر انداز کر دیتا ہے جس نے نصف صدی زندگی کے نشیب و فراز میں گزاری ہوتی ہے۔ یہی جدید جہالت ہے؛ معلومات کی فراوانی اور بصیرت کی کمی۔
یاد رکھنا چاہیے کہ نصیحت ہمیشہ میٹھی نہیں ہوتی۔ جو بات نفس کو اچھی لگے، وہ اکثر خواہش ہوتی ہے، اور جو بات نفس پر گراں گزرے، وہی اکثر حقیقت ہوتی ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش کی گفتگو بعض اوقات تلخ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو خوش کرنے کے لیے نہیں، بچانے کے لیے بولتے ہیں۔
اختلاف کرنا حق ہے، مگر تجربے کو حقیر سمجھنا حماقت ہے۔ جو قومیں اپنے بزرگوں کی دانش کو فرسودہ قرار دیتی ہیں، وہ آخرکار اپنے دشمنوں کے تجربات سے سبق سیکھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے کہ جو قوم اپنے ماضی سے سبق نہیں لیتی، مستقبل اسے سزا ضرور دیتا ہے۔
اس لیے جب کبھی کوئی صاحبِ تجربہ تمہیں ٹوکے، نصیحت کرے یا کسی راستے سے روکے، تو فوراً یہ نہ سمجھو کہ وہ تمہاری آزادی چھین رہا ہے۔ ممکن ہے وہ تمہیں اس کھائی سے بچانا چاہتا ہو جس میں وہ خود کبھی گر چکا ہو۔ دانائی یہ نہیں کہ ہر زخم خود کھا کر عقل حاصل کی جائے؛ دانائی یہ ہے کہ دوسروں کے زخموں کو اپنی رہنمائی بنا لیا جائے۔
یاد رکھو، وقت صرف عمر نہیں بڑھاتا، اگر انسان شعور کے ساتھ جئے تو وہ اسے بصیرت بھی عطا کرتا ہے۔ اور بصیرت ہی وہ میراث ہے جو نسلوں کو تباہ ہونے سے بچاتی ہے۔
تجربہ عاقل کی میراث ہے، اور جو قومیں اپنی اس میراث کو کھو دیتی ہیں، وہ پھر اپنی تاریخ نہیں لکھتیں، صرف دوسروں کے لکھے ہوئے انجام کا حصہ بن جاتی ہیں۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment