Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, July 8, 2026

گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں (حصہ آخری)

#کردار_کی_تعمیر
#ازدواجی_زندگی
#اصلاح_معاشرہ

گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں
تحریر فیصل مقصود

(حصہ سوم)

انسان کی سب سے بڑی جنگ کسی دوسرے انسان سے نہیں، اپنے نفس سے ہوتی ہے۔ باہر کے دشمن کو شکست دینا نسبتاً آسان ہے، مگر اپنے غرور، اپنی ضد، اپنی بےصبری اور اپنی خواہشات کو زیر کرنا ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دنیا جیت لیتے ہیں، مگر اپنے گھر ہار جاتے ہیں۔

نفس کی ایک عجیب فطرت ہے؛ وہ ہمیشہ لینے کی فہرست بناتا ہے، دینے کی نہیں۔ شوہر سوچتا ہے مجھے کیا ملا، بیوی سوچتی ہے مجھے کیا ملا، اولاد سوچتی ہے مجھے کیا ملا، مگر بہت کم لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ میں نے اس رشتے کو دیا کیا ہے؟ یاد رکھیے! جس دن رشتے لین دین کے حساب میں تبدیل ہو جائیں، اسی دن محبت کی روح کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو بھی اپنا حق سمجھنے لگے۔ نفس کی سب سے خطرناک بیماری یہی ہے کہ وہ ہر قصور کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے، مگر کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال نہیں کرتا۔ حالانکہ اصلاح ہمیشہ آئینے سے شروع ہوتی ہے، کھڑکی سے نہیں۔

معافی صرف دوسروں کو آزاد نہیں کرتی، انسان کو بھی آزاد کر دیتی ہے۔ جو شخص ہر تلخی کو دل میں دفن کرتا رہتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنے ہی غموں کا قیدی بن جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک گھر اس لیے نہیں ٹوٹتا کہ وہاں اختلاف نہیں ہوتے، بلکہ اس لیے قائم رہتا ہے کہ وہاں انا سے زیادہ معافی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

خاموشی بھی ایک اخلاق ہے، لیکن ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموش رہ جانا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک لمحے کا غصہ پوری زندگی کی ندامت نہ بن جائے۔ یاد رکھیے، ہر سچ ہر وقت بولنا حکمت نہیں، اور ہر جواب دینا بہادری نہیں۔ دانائی یہ ہے کہ انسان جان لے کہاں بولنا ضروری ہے اور کہاں خاموش رہنا زیادہ مفید ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگوں نے کامیابی کو دولت، آسائش اور نمود و نمائش سے ناپنا شروع کر دیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب وہ نہیں جس کا گھر بڑا ہو، بلکہ وہ ہے جس کے گھر میں سکون بڑا ہو۔ سکون بازار سے نہیں خریدا جا سکتا؛ یہ احترام، اعتماد، برداشت، قناعت اور حسنِ اخلاق کی کمائی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بچے والدین کی نصیحتوں سے کم اور ان کے رویّوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں والدین ایک دوسرے کی عزت کریں گے، زبان میں شائستگی ہوگی، اختلاف میں بھی وقار باقی رہے گا، تو یہی تہذیب اگلی نسل میں منتقل ہوگی۔ لیکن اگر گھر کا ماحول طعنوں، چیخ و پکار، تحقیر اور بدزبانی سے بھرا ہوگا تو پھر اولاد سے بہتر معاشرے کی امید رکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

شاید اسی لیے تہذیبیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔ قومیں اسلحے سے کم اور اخلاق سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ اور خاندان دولت سے کم، برداشت سے زیادہ قائم رہتے ہیں۔ جس معاشرے میں زبان کی حفاظت ختم ہو جائے، وہاں قانون بھی ہر گھر کو نہیں بچا سکتا۔

آخر میں صرف ایک بات یاد رکھیے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد آپ کی عزت کرے تو صرف اس کے لیے مال نہ چھوڑیے، بلکہ ایسا کردار چھوڑیے جس پر اسے فخر ہو۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گھر آباد رہے تو صرف سہولتیں جمع نہ کیجیے، بلکہ صبر، برداشت، شکرگزاری، معافی اور احترام کی روایت قائم کیجیے۔ کیونکہ رشتے وراثت میں نہیں ملتے، ہر روز اپنے اخلاق سے کمائے جاتے ہیں۔

اور شاید زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ...

تقدیر انسان کو صرف ایک گھر عطا کرتی ہے، مگر اسے "جنت" یا "ویرانہ" بنانا انسان کے کردار کے اختیار میں ہوتا ہے۔ قسمت دروازے تک ضرور لے جا سکتی ہے، لیکن اس دروازے کے اندر محبت، سکون اور عزت کے ساتھ داخل صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو اپنی خواہشات کا بادشاہ نہیں بلکہ اپنے کردار کا خادم بنایا ہو۔

یاد رکھیے! گھر اینٹوں سے نہیں، اخلاق سے بنتے ہیں؛ دولت سے نہیں، قناعت سے چلتے ہیں؛ محبت سے نہیں، احترام سے قائم رہتے ہیں۔ محبت تو ایک احساس ہے، مگر کردار وہ بنیاد ہے جس پر پوری زندگی کی عمارت کھڑی رہتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو آندھیاں بھی گھر نہیں گراتیں، اور اگر بنیاد کمزور ہو تو بہترین نصیب بھی اسے زیادہ دیر سنبھال نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں آج بھی یہی کہتا ہوں: گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp