Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, July 8, 2026

گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں (حصہ دوم)

#کردار_کی_تعمیر
#ازدواجی_زندگی
#اصلاح_معاشرہ

گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں
تحریر فیصل مقصود

(حصہ دوم)

شادی زندگی کا اختتام نہیں، ایک نئی تربیت کا آغاز ہے۔ یہ صرف دو انسانوں کا ساتھ نہیں، بلکہ دو مختلف تربیتوں، دو مختلف مزاجوں، دو مختلف خاندانوں اور دو الگ دنیاؤں کا ملاپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نکاح کے بعد سب سے پہلے محبت کا نہیں بلکہ انسان کے کردار کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ وہاں ہر روز کسی خواہش کو قربان کرنا پڑتا ہے، کسی بات کو نظرانداز کرنا پڑتا ہے، کسی تلخ لفظ کو نگلنا پڑتا ہے، اور کبھی اپنے حق سے پہلے دوسرے کے سکون کو ترجیح دینی پڑتی ہے۔

آج کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم شادی کو ایک "منزل" سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ یہ تو ایک طویل سفر کا پہلا قدم ہے۔ سفر میں راستے بھی آتے ہیں، تھکن بھی، اختلاف بھی، موسم بھی بدلتے ہیں اور حالات بھی۔ جو لوگ پہلے ہی دن منزل جیسی آسودگی چاہتے ہیں، وہ راستے کی پہلی ٹھوکر پر مایوس ہو جاتے ہیں۔

بعض نئی نویلی بیویاں اپنے شوہر سے وہ آسائشیں، وہ معیارِ زندگی اور وہ سہولتیں فوراً چاہتی ہیں جنہیں قائم کرنے میں ان کے اپنے والد کو بیس پچیس برس کی محنت، بےشمار قربانیاں اور جوانی کا بہترین حصہ صرف کرنا پڑا تھا۔ وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ ان کے والد بھی ایک دن خالی ہاتھ تھے۔ ان کے گھر کی خوشحالی کسی معجزے سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، قناعت، صبر اور وقت کے ساتھ بنی تھی۔ زندگی کی ابتدا کا موازنہ کسی کے عروج سے کرنا ہمیشہ ناانصافی ہوتا ہے۔

اسی طرح بہت سے مرد بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ نکاح کے ساتھ ہی انہیں ایک ایسی بیوی مل جائے گی جو ان کی ہر بات مانے، ہر کمی برداشت کرے، ہر ذمہ داری خوش دلی سے اٹھائے، مگر وہ خود محبت، احترام، توجہ اور جذباتی سہارا دینے کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ عورت صرف روٹی، کپڑے اور مکان سے مطمئن نہیں ہوتی؛ اسے عزت، اعتماد، احساسِ تحفظ اور حسنِ سلوک بھی چاہیے۔ وفاداری حکم سے پیدا نہیں ہوتی، کردار سے پیدا ہوتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج ہر شخص رشتہ نبھانے سے زیادہ رشتہ حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔ ہر کوئی ایک مثالی شریکِ حیات چاہتا ہے، مگر خود مثالی انسان بننے پر کم توجہ دیتا ہے۔ حالانکہ مضبوط رشتے ہمیشہ دو ایسے لوگوں کے درمیان بنتے ہیں جو ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے پہلے خود کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

رشتوں کا سب سے بڑا دشمن غربت نہیں، بلکہ موازنہ ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی کے ترازو میں تولنا شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے شکرگزاری رخصت ہونے لگتی ہے۔ آج سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کے گھروں کی سجاوٹ تو دکھا دی ہے، مگر ان گھروں کے پیچھے چھپی قربانیاں، قرض، محنت، ناکامیاں اور بےخوابی کی راتیں نہیں دکھائیں۔ اسی لیے بہت سے لوگ تصویروں سے اپنی حقیقت کا موازنہ کر کے اپنی خوشیوں کو خود دفن کر دیتے ہیں۔

قناعت کا مطلب خواہشوں کو مار دینا نہیں، بلکہ خواہشوں کو عقل اور حالات کا تابع بنا دینا ہے۔ جس گھر میں قناعت زندہ ہو، وہاں تھوڑی سی آمدنی بھی سکون لے آتی ہے، اور جس گھر میں ناشکری داخل ہو جائے، وہاں بےشمار نعمتیں بھی ناکافی محسوس ہونے لگتی ہیں۔

صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظلم برداشت کرتا رہے، بلکہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر اختلاف پر اپنے غصے کو فیصلہ کرنے کی اجازت نہ دے۔ غصہ لمحوں میں وہ فاصلے پیدا کر دیتا ہے جنہیں ختم کرنے میں برس لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے عقل مند لوگ بحث جیتنے سے زیادہ رشتہ بچانے کو اہمیت دیتے ہیں۔

زندگی کا ایک عجیب اصول ہے کہ زبان وہ کام چند لمحوں میں کر دیتی ہے جسے محبت برسوں میں بھی نہیں سنبھال پاتی۔ ایک تلخ جملہ بعض اوقات برسوں کی قربت کو زخمی کر دیتا ہے، جبکہ ایک نرم لفظ کئی ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے بزرگ کہا کرتے تھے کہ بولنے سے پہلے تین سوال خود سے پوچھو: کیا یہ سچ ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟ اور کیا یہ احترام کے ساتھ کہا جا سکتا ہے؟

والدین کی قربانیوں کا احساس بھی شادی کے بعد ہی ہوتا ہے۔ جب انسان خود ذمہ داری اٹھاتا ہے، تب اسے سمجھ آتا ہے کہ ایک باپ نے کتنی خواہشیں دفن کر کے گھر بنایا تھا، اور ایک ماں نے کتنی راتیں جاگ کر اولاد کی زندگی سنواری تھی۔ افسوس کہ بعض لوگ یہ احساس اس وقت کرتے ہیں جب والدین اس دنیا میں نہیں رہتے۔

اس لیے اگر ہم واقعی آنے والی نسلوں کے گھر آباد دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف روزگار نہیں، کردار بھی دینا ہوگا؛ صرف تعلیم نہیں، تہذیب بھی؛ صرف حقوق کا شعور نہیں، فرائض کا احساس بھی۔ کیونکہ دولت وراثت میں دی جا سکتی ہے، مگر اخلاق ہر انسان کو خود کمانا پڑتے ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp