#کردار_کی_تعمیر
#ازدواجی_زندگی
#اصلاح_معاشرہ
گھر قسمت سے نہیں، کردار سے آباد ہوتے ہیں
تحریر فیصل مقصود
(حصہ اول)
گھر اس دن نہیں ٹوٹتے جس دن عدالت میں طلاق کے کاغذوں پر دستخط ہوتے ہیں؛ گھر تو اس دن دراڑیں لینا شروع کر دیتے ہیں جب زبان سے احترام رخصت ہو جائے، صبر کو کمزوری سمجھ لیا جائے، اور ہر شخص اپنے حق کو اپنے فرض پر مقدم رکھنے لگے۔ طلاق تو صرف اس عمارت کے گرنے کی آخری آواز ہوتی ہے جس کی بنیادیں بہت پہلے خاموشی سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہیں۔
کچھ دن پہلے ایک صاحب اپنی زندگی کا ایسا دکھ سنا رہے تھے جس نے مجھے دیر تک سوچنے پر مجبور رکھا۔ ان کی بیٹی طلاق کے بعد اپنے بچوں سمیت والدین کے گھر رہ رہی تھی۔ بچوں کا خرچ بھی وہی باپ اٹھا رہا تھا جس نے اپنی پوری جوانی اولاد کی آسائشوں پر قربان کر دی تھی، مگر بدلے میں اسے محبت نہیں بلکہ تلخ لہجے، بددعاؤں اور طعنوں کا سامنا تھا۔
میں اس واقعے کو سن کر کسی ایک فرد کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے ایک بڑے سوال پر رک گیا۔ آخر وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب اولاد اپنے ہی والدین کے ساتھ اجنبیوں جیسا سلوک کرنے لگتی ہے؟ وہ کون سی تربیت ہے جو انسان کو احسان بھلا دینے پر آمادہ کر دیتی ہے؟ اور وہ کون سی آگ ہے جو زبان کو اتنا بےلگام کر دیتی ہے کہ اسے اپنے اور پرائے، بزرگ اور چھوٹے، محبت اور بےادبی میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا؟
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر ٹوٹنے والے رشتے کی وجہ قسمت، حالات یا دوسرے فریق میں تلاش کرتے ہیں، مگر اپنے کردار کا احتساب نہیں کرتے۔ ہم قسمت بدلنے کی دعائیں تو بہت مانگتے ہیں، مگر اپنے مزاج، اپنی زبان اور اپنی عادتیں بدلنے کی دعا شاید ہی کبھی کرتے ہوں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہت سے لوگوں کو اچھا نصیب عطا کرتا ہے، مگر وہ اپنے کردار کی کمزوری سے اس نعمت کو بھی آزمائش بنا لیتے ہیں۔
انسان کی زبان اس کے دل کی ترجمان ہوتی ہے۔ دل میں اگر احترام ہو تو الفاظ میں بھی احترام اتر آتا ہے، اور اگر دل انا، تکبر اور ناشکری سے بھر جائے تو زبان سب سے پہلے اس کا اعلان کرتی ہے۔ اسی لیے داناؤں نے کہا ہے کہ انسان کا اصل اخلاق اس کے غصے کے وقت پہچانا جاتا ہے، کیونکہ خوشی میں تو ہر شخص مہذب نظر آتا ہے۔
آج ہمارا معاشرہ تعلیم یافتہ تو پہلے سے زیادہ ہے، مگر تربیت یافتہ پہلے سے کم۔ ہم اپنے بچوں کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں، مگر باکردار بنانا بھول گئے ہیں۔ ہم انہیں مہنگے اسکول، جدید موبائل، اعلیٰ ڈگریاں اور آرام دہ زندگی تو دے دیتے ہیں، مگر یہ نہیں سکھاتے کہ اختلاف کے وقت آواز کتنی بلند ہونی چاہیے، غصے کے وقت خاموشی کب اختیار کرنی چاہیے، اور "معاف کیجیے" جیسے دو لفظ انسان کو کتنا بڑا بنا دیتے ہیں۔
والدین بھی بعض اوقات اولاد کی محبت میں ایک ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں جس کی قیمت بعد میں پوری زندگی ادا کرتے ہیں۔ وہ رشتہ کرتے وقت اولاد کی ہر خامی پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ انہیں امید ہوتی ہے کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں انسان کو بدل دیں گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شادی انسان کو نہیں بدلتی، بلکہ اس کے اندر چھپا ہوا کردار نمایاں کر دیتی ہے۔ جو شخص شادی سے پہلے اپنی زبان کا اسیر، اپنے غصے کا غلام اور اپنی ذمہ داریوں سے فراری ہو، وہ نکاح کے بعد اچانک مثالی انسان نہیں بن جاتا۔
ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ گھر محبت سے پہلے ادب پر قائم ہوتے ہیں۔ محبت کا درخت بھی اسی زمین میں اگتا ہے جہاں احترام کی نمی موجود ہو۔ بےادبی صرف ایک لفظ نہیں، یہ وہ دیمک ہے جو آہستہ آہستہ رشتوں کی مضبوط ترین لکڑی کو بھی اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب زبان پر لگام نہ رہے تو محبت زیادہ دیر زندہ نہیں رہتی، کیونکہ محبت پھول ہے اور بدزبانی آگ؛ آگ ہمیشہ پھول کو جلا دیتی ہے۔
طلاق کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے برداشت کو بزدلی، خاموشی کو کمزوری اور معافی کو شکست سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جو انسان اپنے غصے کو قابو کر لیتا ہے، وہ دوسرے کو نہیں بلکہ اپنے نفس کو شکست دیتا ہے، اور نفس پر فتح دنیا کی ہر فتح سے بڑی ہوتی ہے۔
یاد رکھیے، ہر رشتہ دو لوگوں کے درمیان نہیں بلکہ دو کرداروں کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ اگر کردار کمزور ہوں تو بہترین نصیب بھی گھر نہیں بچا سکتا، اور اگر کردار مضبوط ہوں تو معمولی وسائل میں بھی سکون جنم لے لیتا ہے۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کو قسمت بدلنے سے پہلے کردار بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ قسمت صرف دروازے کھولتی ہے، مگر ان دروازوں سے عزت، سکون اور محبت کے ساتھ گزرنا کردار سکھاتا ہے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment