#بہانوں_کی_تہذیب
#کردار_اور_ذمہ_داری
#فکر_و_شعور
آرام پرست نسل کا المیہ
تحریر فیصل مقصود
مجھے اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں خواہشیں جوان ہیں مگر ارادے بوڑھے ہو چکے ہیں۔ خوابوں کی فہرست طویل ہے، لیکن ان خوابوں تک پہنچنے والے راستوں پر قدم رکھنے کا حوصلہ مفقود ہے۔ ہم نے ایک ایسی نسل کو پروان چڑھتے دیکھا ہے جو منزل کی آرزو تو رکھتی ہے مگر سفر کی گرد اپنے لباس پر برداشت نہیں کرنا چاہتی۔
آج کا نوجوان والدین سے شکوے کرتا ہے، حالات پر اعتراض اٹھاتا ہے، معاشرے کو الزام دیتا ہے اور قسمت کو اپنی محرومیوں کا مجرم ٹھہراتا ہے، مگر جب زندگی اس کے سامنے آئینہ رکھتی ہے تو وہ اپنی ہی آنکھوں میں جھانکنے سے گریز کرتا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل کم ہوں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پاس بہانے وسائل سے زیادہ ہوں۔
عجیب المیہ ہے کہ چند مہینوں کی معمولی آمدنی بعض لوگوں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اب وہ زندگی کے ہر امتحان کے اہل ہو چکے ہیں۔ ابھی اپنی ذات کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی، کردار کی اینٹیں کچی ہوتی ہیں، ذمہ داری کا مفہوم پوری طرح سمجھا بھی نہیں جاتا کہ گھر بسانے کے خواب آنکھوں میں اتر آتے ہیں۔ حالانکہ گھر محبت سے پہلے برداشت مانگتا ہے، جذبات سے پہلے شعور اور خواہش سے پہلے استطاعت۔
میں ایسے بے شمار نوجوانوں کو جانتا ہوں جن کے پاس کام نہ کرنے کی دلیلیں، کام کرنے کے مواقع سے زیادہ ہیں۔ انہیں ہر محنت اپنی شان کے خلاف محسوس ہوتی ہے، ہر چھوٹا آغاز اپنی انا پر بوجھ لگتا ہے، اور ہر مشقت ان کے خوابوں سے کمتر دکھائی دیتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ درخت ہمیشہ بیج کی گمنامی سے شروع ہوتا ہے؛ کسی نے بھی سایہ بننے کا سفر شاخ سے نہیں، جڑ سے طے کیا ہے۔
یہ کائنات ایک بے رحم اصول پر قائم ہے: جو انسان اپنے جسم کو مشقت نہیں دیتا، وقت اس کی روح کو مشقت دے دیتا ہے۔ جو ہاتھ آج محنت سے خالی رہتے ہیں، کل وہی ہاتھ حسرتوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جو پیشانی پسینے سے انکار کرتی ہے، اسے ایک دن ندامت کا بوجھ سہنا پڑتا ہے۔
کاہلی صرف جسم کی سستی نہیں، یہ فکر کی موت ہے۔ یہ وہ خاموش زہر ہے جو انسان کے اندر سے خودداری، غیرت، استقلال اور تخلیقی قوت کو آہستہ آہستہ چاٹ جاتا ہے۔ پھر انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر اس کی شخصیت دوسروں کے سہاروں پر سانس لینے لگتی ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا فلسفہ گھڑ لیتا ہے، مگر اپنی کمزوریوں کا اعتراف نہیں کرتا، کیونکہ نفس کے لیے سچ سے زیادہ دلکش کوئی جھوٹ نہیں ہوتا۔
یاد رکھیے، تاریخ کبھی ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے آسانیاں تلاش کیں۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کے قدموں کے نشان محفوظ رکھتی ہے جنہوں نے پتھریلے راستوں پر چلتے ہوئے اپنے پاؤں زخمی کیے، مگر منزل کا دامن نہیں چھوڑا۔ عظمت ہمیشہ پسینے سے جنم لیتی ہے، آسائش سے نہیں۔
اور شاید ہماری تہذیب کا سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے پاس روزگار کم ہے؛ اصل سانحہ یہ ہے کہ ان کے اندر جدوجہد کا ذوق کم ہوتا جا رہا ہے۔ جس دن کسی قوم کے نوجوان محنت کو سزا، ذمہ داری کو قید اور آسانی کو کامیابی سمجھنے لگیں، اسی دن اس قوم کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ قومیں میدانِ جنگ میں کم، اور اپنے نوجوانوں کے مردہ ارادوں میں زیادہ شکست کھاتی ہیں۔
انسان کی اصل پہچان اس کے خواب نہیں، بلکہ وہ بوجھ ہے جسے وہ خاموشی سے اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھتا ہے۔ کیونکہ خواہش ہر شخص کر لیتا ہے، مگر ذمہ داری صرف وہی اٹھاتا ہے جس کے اندر کردار زندہ ہو۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment