Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Monday, July 6, 2026

جہاں زبان خاموش ہوتی ہے، وہاں کردار گواہی دیتا ہے

#وقار_کی_خاموشی
#کردار_ہی_گواہ_ہے
#عدل_اور_اعتدال

جہاں زبان خاموش ہوتی ہے، وہاں کردار گواہی دیتا ہے
تحریر فیصل مقصود

انسان کی عظمت اس کی طاقت، دولت یا ذہانت سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس لمحے سے پہچانی جاتی ہے جب اسے جواب دینے، وار کرنے یا انتقام لینے کا پورا اختیار حاصل ہو، مگر وہ اپنی زبان کو عدل، اپنے لہجے کو وقار اور اپنے نفس کو خاموشی کا پابند بنا لے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے علم سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔

کردار کشی ہمیشہ الفاظ سے شروع ہوتی ہے، مگر اس کی جڑیں انسان کے باطن میں ہوتی ہیں۔ یہ وہاں جنم لیتی ہے جہاں انا، حسد، مفاد اور انتقام ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے، ظرف تنگ ہو جائے اور ضمیر اپنے ہی شور سے گھبرا جائے، تو انسان دوسروں کے کردار پر گرد ڈال کر اپنے چہرے کو صاف دکھانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سورج پر مٹی پھینکنے سے سورج دھندلا نہیں ہوتا، صرف ہاتھ میلے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کردار کشی دوسروں کی عزت پر حملہ نہیں، اپنے ہی باطن کا اعتراف ہوتی ہے۔

زندگی کا ایک عجیب اصول ہے کہ اکثر لوگ آپ کے کردار کو نہیں، اپنے مفاد کو پہچانتے ہیں۔ جب تک آپ ان کی ضرورت، خواہش یا آسائش کا حصہ رہتے ہیں، آپ کی خاموشی بھی حکمت کہلاتی ہے، آپ کی لغزش بھی نظرانداز کر دی جاتی ہے اور آپ کی موجودگی نعمت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ ان کے مفاد کے دائرے سے باہر نکلتے ہیں، وہی زبان آپ کے خلاف گواہ بن جاتی ہے جو کبھی آپ کے حق میں تعریفوں کے پل باندھا کرتی تھی۔ اس حقیقت پر افسوس ضرور کیا جا سکتا ہے، مگر حیرت نہیں؛ کیونکہ ہر انسان اپنے ظرف سے بڑا رویہ کبھی اختیار نہیں کر سکتا۔

زندگی نے مجھے یہ بھی سکھایا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی آزمائش مصیبت نہیں، بلکہ مصیبت کے دوران اختیار کیا گیا رویّہ ہے۔ غصہ، دکھ، محرومی اور اختلاف وہ بھٹی ہیں جن میں کردار کندن بھی بنتا ہے اور راکھ بھی۔ اسی لیے شدید غصے میں کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے، شدید دکھ میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہیے، اور کسی آزمائش کے دوران کسی کی نیت یا کردار کا فیصلہ اپنے جذبات کے حوالے نہیں کر دینا چاہیے۔ حقیقت ہمیشہ جذبات سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔

ہر کہانی کے کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ہر خاموش انسان قصوروار نہیں ہوتا، ہر بلند آواز شخص سچا نہیں ہوتا، اور ہر الزام حقیقت نہیں ہوتا۔ جلد بازی میں صادر کیا گیا فیصلہ اکثر انصاف نہیں، بلکہ اپنے ہی شعور پر ظلم ثابت ہوتا ہے۔

انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ نہیں کہ وہ دھوکا کھا جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایک تجربے کی سزا پوری انسانیت کو دینے لگتا ہے۔ ایک شخص کی بے وفائی اسے ہر وفادار پر شک کرنا سکھا دیتی ہے، ایک جھوٹ اسے ہر سچ کو مشکوک بنا دیتا ہے، اور ایک تلخ واقعہ اس کی زبان میں ایسی سختی بھر دیتا ہے جو رفتہ رفتہ اس کے اپنے کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔ حالانکہ بالغ نظری یہی ہے کہ انسان واقعات سے سبق لے، مگر اپنے انصاف کو ان کا قیدی نہ بنائے۔

انسان کے ذہن میں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ آخر خاموش کیوں رہا جائے؟ جب الزام لگایا جائے تو جواب کیوں نہ دیا جائے؟ جب کردار پر حملہ ہو تو اسی زبان میں جواب کیوں نہ لوٹایا جائے؟ دل بھی یہی چاہتا ہے، انا بھی یہی اکساتی ہے، اور نفس بھی یہی مطالبہ کرتا ہے کہ الزام کا جواب الزام سے، کردار کشی کا جواب کردار کشی سے اور تلخی کا جواب اس سے زیادہ تلخی سے دیا جائے۔

لیکن میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ جو شخص فتنے سے خود کو الگ کر لیتا ہے، اپنی زبان کو صبر کے سپرد کر دیتا ہے اور اپنے معاملے کو وقت کے حوالے کر دیتا ہے، وہ بظاہر خاموش ضرور دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے کردار کو شور سے محفوظ کر رہا ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب حالات خود بولنے لگتے ہیں، حقیقت اپنے چہرے سے پردہ اٹھا دیتی ہے، اور وقت ان سوالوں کے جواب دے دیتا ہے جن کے لیے انسان بےتاب تھا۔ اس وقت اگر انسان چاہے تو جواب دے سکتا ہے، مگر کردار کی بلند ترین منزل یہ ہے کہ اختیار ہونے کے باوجود خاموشی کی عظمت کو سمجھا جائے۔ ہر سچ کو زبان سے ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا؛ بعض سچائیاں وقت خود لکھ دیتا ہے، اور وقت کی لکھی ہوئی سطریں انسان کے بولے ہوئے جملوں سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔

خاموشی بزدلوں کا ہتھیار نہیں، صاحبِ شعور لوگوں کا وقار ہے۔ خاموش رہنے والا ہر بات کا جواب نہیں دیتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بعض معرکے جیتنے سے پہلے ہی انسان کو ہرا دیتے ہیں، جبکہ بعض خاموشیاں انسان کو اپنے ہی مقام سے بلند کر دیتی ہیں۔ اپنے نفس، اپنی انا اور اپنے غصے پر قابو پا لینا، دوسروں کو زیر کرنے سے کہیں بڑی کامیابی ہے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خاموش رہنے والا کمزور ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اپنی طاقت کا اظہار کر دینا آسان ہے، مگر اپنی طاقت پر اختیار رکھنا بہت مشکل ہے۔ دریا اس لیے عظیم نہیں کہ اس میں پانی بہت ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے بہاؤ کو جانتا ہے۔ انسان بھی اپنی زبان سے نہیں، اپنی زبان پر اختیار سے بڑا ہوتا ہے۔

وقت ایک ایسا منصف ہے جسے نہ گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے، نہ دلیلوں کی، نہ شور اسے مرعوب کرتا ہے اور نہ پروپیگنڈا۔ وہ صرف انتظار کرتا ہے، پھر خاموشی سے پردے اٹھا دیتا ہے۔ کردار کو کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہوتی؛ اگر وہ سچا ہو تو وقت خود اس کی گواہی بن جاتا ہے۔

اس لیے بولنے سے پہلے ایک لمحہ ضرور ٹھہر جائیے۔ الفاظ صرف دوسروں کے کانوں تک نہیں پہنچتے، وہ سب سے پہلے بولنے والے کے کردار سے ٹکراتے ہیں۔ زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ دوسروں کے بارے میں رائے کم اور بولنے والے کے باطن کا تعارف زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش الفاظ سے پہلے اپنے ضمیر کو مخاطب کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک لمحے کی جذباتی بے احتیاطی برسوں کی اخلاقی کمائی کو ضائع کر سکتی ہے۔

آخرکار انسان اپنے الفاظ سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔ الفاظ وقتی تاثر پیدا کرتے ہیں، مگر کردار دائمی شناخت بناتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان کی زبان اس کی عقل کا نہیں، اس کے ظرف کا تعارف ہوتی ہے۔

زندگی کے سفر میں بہت سے معرکے ایسے آئیں گے جہاں آپ کے پاس بولنے کا پورا حق بھی ہوگا اور موقع بھی۔ مگر ہر حق استعمال کرنا ضروری نہیں ہوتا، اور ہر سچ زبان سے ادا کرنا حکمت نہیں ہوتا۔ بعض فیصلے وقت پر چھوڑ دینا ہی سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے، کیونکہ وقت کی عدالت میں نہ آوازوں کا شور سنا جاتا ہے، نہ الزامات کا بوجھ؛ وہاں صرف کردار کی گواہی قبول ہوتی ہے۔

اس لیے صبر کو اپنا مزاج، اعتدال کو اپنا اصول، انصاف کو اپنا معیار اور خاموشی کو اپنی طاقت بنا لیجیے۔ کیونکہ جہاں زبان خاموش ہو جاتی ہے، وہاں کردار گواہی دینا شروع کر دیتا ہے... اور کردار کی دی ہوئی گواہی کے خلاف وقت بھی کبھی فیصلہ نہیں دیتا۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

مکمل تحریر کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور فیس بک پر ہمارے پیج کو لائک اور فالو کرنا مت بھولیں
https://www.facebook.com/share/p/1Ex6r8uxwm/

No comments:

Post a Comment

WhatsApp