Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Saturday, July 4, 2026

فتنہ کا سب سے خطرناک روپ

#کردار
#فکر
#زندگی_کا_شعور

فتنہ کا سب سے خطرناک روپ
تحریر فیصل مقصود

انسان نے ہمیشہ یہ گمان کیا کہ دنیا تلواروں سے تباہ ہوتی ہے، حالانکہ تہذیبیں پہلے لفظوں سے بکھرتی ہیں، پھر تلواریں میدان میں اترتی ہیں۔ ہر جنگ سے پہلے زبانیں لڑتی ہیں، ہر نفرت سے پہلے بدگمانیاں جنم لیتی ہیں، اور ہر ٹوٹے ہوئے رشتے سے پہلے کسی ایک شخص نے کسی دوسرے کے دل میں شک کا پہلا بیج بویا ہوتا ہے۔

اسی لیے معاشروں کا سب سے خطرناک انسان وہ نہیں جو بلند آواز میں برائی کا اعلان کرے، بلکہ وہ ہے جو برائی کو دانائی کا لباس پہنا دے، زہر کو خیرخواہی کے جام میں گھول دے، اور تقسیم کو اصلاح کا نام دے دے۔

ایسے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ سے مسحور کرتے ہیں، اپنی گفتگو سے اعتماد حاصل کرتے ہیں، اور پھر آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف ایسے دروازے کھول دیتے ہیں جو شاید کبھی بند نہ ہو سکیں۔ ان کی مہارت جھوٹ بولنے میں نہیں ہوتی؛ ان کی مہارت سچ کو اس زاویے سے پیش کرنے میں ہوتی ہے جہاں سے نفرت جنم لے اور محبت دم توڑ دے۔

انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ کردار کو زبان سے ناپنے لگتا ہے، حالانکہ زبان تو عقل کا ہنر ہے، جبکہ کردار روح کی شہادت ہوتا ہے۔ خوبصورت گفتگو ہر شخص سیکھ سکتا ہے، مگر ایسا وجود بن جانا جس کی موجودگی سے دلوں میں سکون اترے، یہ نصیب ہر ایک کو نہیں ملتا۔

زندگی میں ایک عجیب قانون کارفرما ہے: انسان وہ نہیں ہوتا جو وہ اپنے بارے میں کہتا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس کے چلے جانے کے بعد دوسروں کے دل اس کے بارے میں محسوس کرتے ہیں۔ اگر آپ کی رفاقت کے بعد محبت بڑھتی ہے تو آپ خیر ہیں، اگر شکوک بڑھتے ہیں تو آپ کو اپنے باطن میں اترنے کی ضرورت ہے۔

سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ کوئی دوسروں کو دھوکہ دے؛ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کے فریب میں اس قدر گرفتار ہو جائے کہ اسے اپنا ہر زخم مرہم اور اپنی ہر تلخی نصیحت دکھائی دینے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ضمیر خاموش ہونے لگتا ہے اور انا بولنے لگتی ہے، مگر انسان سمجھتا رہتا ہے کہ حق بول رہا ہے۔

یاد رکھیے، نفرت کبھی اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ وہ لفظوں کے اندر پرورش پاتی ہے، لہجوں میں سانس لیتی ہے، اشاروں میں سفر کرتی ہے اور بالآخر رشتوں کی بنیادوں میں اتر کر انہیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب دیوار گرتی ہے تو لوگ اینٹوں کے گرنے کی آواز سنتے ہیں، مگر کسی کو وہ پہلی سرگوشی یاد نہیں رہتی جس نے بنیاد میں دراڑ ڈالی تھی۔

اسی لیے ہر دور کا سب سے خطرناک فتنہ وہ شخص نہیں ہوتا جس کی زبان تلخ ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جس کی زبان میٹھی اور نیت آلودہ ہو۔ کیونکہ کھلا ہوا دشمن صرف ایک بار نقصان پہنچاتا ہے، مگر بھیس بدلا ہوا خیرخواہ انسان کی بصیرت بھی چھین لیتا ہے۔

شاید اسی لیے تاریخ نے ہمیں ایک گہرا سبق دیا ہے کہ شیطان نے کبھی انسان کو گناہ کی دعوت گناہ کے نام سے نہیں دی۔ اس نے ہمیشہ برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کیا۔ یہی برائی کی قدیم ترین حکمتِ عملی ہے، اور آج بھی دنیا کے بیشتر فتنے اسی راستے سے انسان کے دل میں داخل ہوتے ہیں۔

اس لیے لوگوں کے علم سے پہلے ان کے اثرات کو دیکھیے، ان کے دعووں سے پہلے ان کے کردار کو پرکھیے، اور ان کے الفاظ سے پہلے یہ دیکھیے کہ ان کی موجودگی انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے یا دور کر دیتی ہے۔

کیونکہ دنیا میں سب سے قیمتی انسان وہ نہیں جو سب سے زیادہ جانتا ہو، بلکہ وہ ہے جس کے وجود سے دل محفوظ رہیں۔ اور سب سے خطرناک انسان وہ نہیں جو سب سے زیادہ طاقتور ہو، بلکہ وہ ہے جس کے لفظ خاموشی سے انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتے رہیں۔

فتنہ ہمیشہ آگ کی صورت میں نہیں آتا؛ کبھی وہ ایک مسکراہٹ، ایک دلیل، ایک نصیحت اور ایک خیرخواہی کے بھیس میں آتا ہے۔ اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp