#شکرگزاری
#صبر
#فلسفہ_حیات
تلخیوں کا فلسفہ
تحریر فیصل مقصود
"ترک کہاوت ہے: اگر تم نے کبھی کڑوا پھل نہیں کھایا، تو تمہیں کبھی معلوم نہیں ہوگا کہ میٹھے پھل کی حقیقی لذت کیا ہوتی ہے۔"
یہ محض ایک کہاوت نہیں، بلکہ زندگی کا ایسا اصول ہے جسے وقت ہر انسان کو اپنے انداز میں سمجھاتا ہے۔
قدرت کا نظام تضاد پر قائم ہے۔ رات نہ ہوتی تو دن کی روشنی بےمعنی لگتی، پیاس نہ ہوتی تو پانی کی لذت محسوس نہ ہوتی، بیماری نہ آتی تو صحت ایک معمولی چیز معلوم ہوتی، اور اگر دکھ کبھی زندگی کا دروازہ نہ کھٹکھٹاتا تو خوشی بھی اپنی تمام تر معنویت کھو دیتی۔
ہم اکثر اپنی زندگی کے تلخ ترین لمحوں کو بدقسمتی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہی لمحے ہمارے شعور کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔ آزمائش انسان کو توڑنے سے پہلے اس کے اندر چھپی ہوئی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے، اور سنوارنے سے پہلے اس کے غرور کو پگھلاتی ہے۔ بعض اوقات اللہ انسان سے نعمتیں اس لیے نہیں لیتا کہ اسے محروم کرے، بلکہ اس لیے کہ اسے نعمتوں کی اصل قدر عطا کر دے۔
فلسفۂ حیات یہی ہے کہ جو دکھ آج تمہیں بےچین کر رہا ہے، ممکن ہے کل وہی تمہاری شخصیت کا سب سے قیمتی سرمایہ ثابت ہو۔ انسان کی پختگی آسائشوں سے نہیں، بلکہ ان راستوں سے جنم لیتی ہے جہاں ہر قدم پر صبر، ہر موڑ پر امید اور ہر زخم کے ساتھ شکر کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
اگر ہر مشکل کے بعد تمہارا دل شکوے کے بجائے شکر ادا کرنا سیکھ رہا ہے، اگر ہر آزمائش تمہیں لوگوں سے نہیں بلکہ اپنے رب سے قریب کر رہی ہے، اگر محرومی تمہارے اندر حسد نہیں بلکہ قناعت پیدا کر رہی ہے، اور اگر تکلیف تمہارے دل کو سخت کرنے کے بجائے نرم بنا رہی ہے، تو یقین رکھو تمہارا سفر درست سمت میں ہے۔
جنت صرف وہاں پہنچنے والوں کو نہیں ملتی، بلکہ اس کی راہیں بھی اسی دنیا میں صبر، شکر، رضا اور توکل کے پتھروں سے ہموار ہوتی ہیں۔ بعض اوقات زندگی کا سب سے کڑوا پھل ہی آخرت کی سب سے میٹھی فصل کی بنیاد بن جاتا ہے۔
اس لیے اپنی ہر آزمائش کو صرف درد کی نظر سے مت دیکھو۔ ممکن ہے وہ تمہاری تقدیر نہیں، تمہاری تربیت ہو۔ ممکن ہے وہ محرومی نہیں، ایک پوشیدہ رحمت ہو۔ اور ممکن ہے جس لمحے کو تم اپنی زندگی کا اختتام سمجھ رہے ہو، وہی تمہارے رب کی طرف سفر کا سب سے خوبصورت آغاز ہو۔
یاد رکھیے! زندگی کی تلخیاں ہمیشہ سزا نہیں ہوتیں، بہت سی تلخیاں دراصل ان دلوں کی آبیاری کرتی ہیں جنہیں اللہ جنت کے پھولوں سے سجانا چاہتا ہے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment