#ذمہ_داری #شعور #خاموش_قربانی
ذمہ داریوں کا بوجھ
تحریر فیصل مقصود
ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب اس کی اپنی خواہشات آہستہ آہستہ دوسروں کی ضروریات کے سامنے اپنی اہمیت کھونے لگتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں عمر نہیں، شعور انسان کو بدلنا شروع کرتا ہے۔
جب ذمہ داریوں کا بوجھ، دوسروں سے وابستہ امیدیں اور ان کی خوشیوں کی فکر آپ کی اپنی خواہشات پر غالب آ جائے، تو سمجھ لیجیے کہ زندگی نے آپ کو صرف بڑا نہیں کیا، بلکہ اندر سے پختہ بھی کر دیا ہے۔
پھر انسان اپنے لیے نہیں سوچتا، بلکہ ہر فیصلہ کرتے وقت اس کے ذہن میں سب سے پہلے کسی اور کا نام آتا ہے۔ وہ اپنے خوابوں کی رفتار سست کر دیتا ہے تاکہ کسی اپنے کی منزل آسان ہو جائے۔ وہ اپنی خواہشوں کو ملتوی کر دیتا ہے تاکہ کسی اور کی ضرورت پوری ہو سکے۔ وہ اپنی تھکن چھپا لیتا ہے تاکہ گھر کے چہروں پر مسکراہٹ باقی رہے۔ وہ اپنے حصے کے کئی موسم دوسروں کی بہار پر قربان کر دیتا ہے، اور یوں خاموشی سے جینے کا فن سیکھ لیتا ہے۔
یہ کیفیت صرف مرد کی نہیں، عورت بھی اسی خاموش ایثار کا دوسرا نام ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ ایسی جنگ لڑتے ہیں جس میں نہ کوئی تماشائی ہوتا ہے، نہ کوئی تمغہ، نہ کوئی فتح کا اعلان۔ صرف وقت گواہ ہوتا ہے کہ کسی نے اپنی ذات کو کتنی بار دوسروں کے لیے قربان کیا۔
مگر معاشرے کا ایک عجیب مزاج ہے۔ جو شخص جتنا زیادہ برداشت کرتا ہے، اسی سے اتنی ہی زیادہ برداشت کی توقع باندھ لی جاتی ہے۔ جو خاموش رہتا ہے، اسے مزید خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جو ہر مشکل میں سہارا بن جاتا ہے، لوگ یہ مان لیتے ہیں کہ اسے خود کسی سہارے کی ضرورت ہی نہیں۔
یہیں سے ایک حساس انسان کی آزمائش شروع ہوتی ہے۔
وہ باہر سے مضبوط دکھائی دیتا ہے، مگر اندر بےشمار سوالوں، ادھورے خوابوں اور ان کہی تھکن کا جہان آباد ہوتا ہے۔ وہ سب کے دکھ سنتا ہے، مگر اپنے دکھوں کا سامع نہیں پاتا۔ وہ سب کی امید بن جاتا ہے، مگر اپنی امیدوں کے لیے وقت نہیں نکال پاتا۔ آہستہ آہستہ وہ اپنے وجود کو ذمہ داریوں میں اس طرح تقسیم کر دیتا ہے کہ آخر میں اس کے حصے میں صرف خاموشی بچتی ہے۔
شاید اسی لیے دنیا کے سب سے زیادہ تنہا لوگ وہ نہیں ہوتے جن کے پاس کوئی نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس سب ہوتے ہیں، مگر ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا۔
یاد رکھیے، ہر مضبوط دکھائی دینے والا انسان واقعی مضبوط نہیں ہوتا۔ بعض لوگ صرف اس لیے نہیں ٹوٹتے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے اگر وہ بکھر گئے تو کئی اور زندگیاں بھی بکھر جائیں گی۔ اس لیے وہ اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتے ہیں، اپنے زخموں پر خاموشی کی چادر ڈال دیتے ہیں، اور زندگی کو معمول کے مطابق چلانے کا ڈھونگ کرتے رہتے ہیں۔
لیکن زندگی کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ انسان جتنا دوسروں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے، اتنا ہی اپنی ذات سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ آئینے میں اپنا چہرہ تو پہچان لیتا ہے، مگر اپنے خواب نہیں۔
شاید کائنات کا سب سے بڑا المیہ یہی نہیں کہ کچھ لوگ بےحس ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ حد سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کے دکھ اپنے اندر جذب کرتے کرتے خود دکھ بن جاتے ہیں، اور دنیا انہیں صرف اس لیے مضبوط سمجھتی رہتی ہے کہ انہوں نے کبھی اپنی تکلیف کا شور نہیں مچایا۔
آخرکار انسان کو یہ سمجھ آ ہی جاتی ہے کہ زندگی صرف دوسروں کے لیے جلتے رہنے کا نام نہیں۔ چراغ اگر خود ہی بجھ جائے تو روشنی کس کے حصے میں آئے گی؟ اس لیے اپنی ذات کا خیال رکھنا خودغرضی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کے حق میں بھی ضروری ہے جو آپ کے وجود کی روشنی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
اور شاید زندگی کا سب سے گہرا سچ یہی ہے کہ...
جو لوگ اپنی خواہشات کو دفن کر کے دوسروں کے خوابوں کو زندہ رکھتے ہیں، تاریخ ان کے نام نہیں لکھتی، مگر وقت کی بنیادیں انہی کے خاموش وجود پر قائم رہتی ہیں۔ ایسے لوگ کبھی لفظوں میں نہیں سماتے، وہ صرف دعاؤں میں یاد رکھے جاتے ہیں۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment