#بندگی
#بھروسہ_اللہ_پر
#حقیقت_زندگی
جب امیدیں انسانوں سے اٹھ جاتی ہیں
تحریر فیصل مقصود
میں ہمیشہ سے یہ سمجھتا آیا ہوں کہ انسان کو بڑے بڑے دعوے نہیں کرنے چاہیے۔ نہ اپنی محبت کے، نہ اپنی وفاداری کے، نہ ہمیشہ ساتھ نبھانے کے، اور نہ ہی دوسروں سے ایسی توقعات باندھنی چاہیے۔
جنہیں نبھا پانا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔
کیونکہ انسان نیت یا ارادوں سے نہیں، اکثر حالات سے ہار جاتا ہے۔
وقت، مفادات، مصروفیات، آزمائشیں، خوف اور کمزوریاں… یہ سب مل کر انسان کو بدل دیتے ہیں۔ جو شخص کل تک آپ کے لیے ہر وقت حاضر تھا، ممکن ہے آج وہی آپ کی آواز سن کر بھی خاموش رہے۔ جو کل تک آپ کی ہر خوشی اور ہر غم کا ساتھی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، ممکن ہے آج وہ آپ کے دکھ سے نظریں چرا لے۔
اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ تعلقات کی اصل پہچان خوشیوں اور آسانیوں میں نہیں، آزمائشوں میں ہوتی ہے۔
خوشحالی کے دنوں میں ہر شخص مخلص دکھائی دیتا ہے۔ جب دسترخوان سجا ہو، جیب بھری ہو، چہرے پر مسکراہٹ ہو اور زندگی اپنے معمول پر چل رہی ہو، تب محبتیں بھی بہت سچی محسوس ہوتی ہیں اور رشتے بھی بہت مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن جیسے ہی زندگی کروٹ بدلتی ہے، حالات سخت ہونے لگتے ہیں، پریشانیاں دل پر دستک دیتی ہیں، وسائل کم ہونے لگتے ہیں اور انسان خود کسی سہارے کا محتاج ہوتا ہے، تب معلوم ہوتا ہے کہ کتنے لوگ حقیقت میں آپ کے ساتھ تھے اور کتنے صرف حالات کے ساتھ تھے۔
ایسے حالات میں رشتے ہمیشہ شور سے نہیں ٹوٹتے۔
اکثر رشتے خاموشی میں دم توڑ جاتے ہیں۔
پہلے لہجوں کی گرمی کم ہوتی ہے، پھر ملاقاتیں کم ہو جاتی ہیں، پھر خیریت دریافت کرنے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، پھر انسان دوسروں کی ترجیحات کی فہرست سے آہستہ آہستہ باہر نکل جاتا ہے، اور ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ جنہیں اپنا سب کچھ سمجھتا تھا، وہ اسے اپنی مصروف زندگی کا ایک معمولی سا حصہ بھی نہیں سمجھتے تھے۔
مگر ان سب سے زیادہ دردناک لمحہ وہ نہیں ہوتا جب کوئی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
اصل تکلیف اس لمحے ہوتی ہے جب انسان کی عقل پر پڑا اندھی عقیدت کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔
جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جن لوگوں کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتا رہا، وہ دراصل اس کی زندگی کا امتحان تھے، سرمایہ نہیں۔
اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی ضرورتوں میں ہمیشہ سب سے آگے رہا۔ اس نے اپنے آرام قربان کیے، اپنے وقت کی پروا نہ کی، اپنے وسائل تقسیم کیے، دوسروں کی پریشانیاں اپنی سمجھیں، ان کے دکھ بانٹے، ان کی خاموشیاں پڑھیں، ان کی بے بسی کو محسوس کیا، مگر جب زندگی نے خود اس کے دروازے پر آزمائش بھیجی تو وہی ہجوم کہیں دکھائی نہ دیا۔
تب انسان کے دل سے ایک آہ نکلتی ہے…
کیا میں واقعی اتنا ہی ضروری تھا جتنا میں سمجھتا تھا؟
لیکن یہی وہ سوال ہے جو انسان کو ایک اور بڑی حقیقت تک لے جاتا ہے۔
ہم اکثر دوسروں سے وہی توقع رکھتے ہیں جو ہم خود ان کے لیے کرتے ہیں، حالانکہ ہر دل ایک جیسا نہیں ہوتا، ہر ظرف ایک جیسا نہیں ہوتا، ہر محبت ایک جیسی نہیں ہوتی اور ہر وفاداری ایک ہی معیار پر پوری نہیں اترتی۔
ہمیں دوسروں کے رویے سے اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا اپنی بے حد توقعات سے پہنچتا ہے۔
یہ دنیا ہمیں ایک عجیب دھوکہ دیتی ہے۔
جب لوگ ہمارے اردگرد ہوتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہی ہمارا اصل سہارا ہیں یا ہماری امیدوں کا مرکز فقط یہی لوگ ہیں، لیکن اللہ کبھی کبھی ان ہی سہاروں کو آہستہ آہستہ ہم سے دور کر دیتا ہے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہم نے سہارا کس کو سمجھ لیا تھا۔
زندگی میں کچھ لمحے ایسے ضرور آتے ہیں جب انسان اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا ہوتا ہے، آنکھیں نم ہوتی ہیں، دل بوجھل ہوتا ہے، ذہن الجھا ہوا ہوتا ہے، اور وہ کسی ایک ایسے شخص کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہے جو بغیر کسی مطلب کے صرف اس کا حال پوچھ لے۔
مگر فون خاموش رہتا ہے۔
دروازے پر کوئی دستک نہیں ہوتی۔
پیغاموں کی آواز نہیں آتی۔
اور تب انسان پہلی مرتبہ اپنی تنہائی کو سنتا ہے۔
یہ تنہائی اگرچہ بہت تکلیف دیتی ہے، مگر یہی تنہائی انسان کو اپنے رب سے ملانے کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔
کیونکہ جب زمین والے خاموش ہو جاتے ہیں تو آسمان والا رب بندے کی ہر خاموش آہ سن رہا ہوتا ہے۔
وہ آنکھوں سے بہنے والے آنسو بھی دیکھتا ہے اور دل میں چھپے ہوئے درد بھی جانتا ہے۔
اس کے سامنے نہ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کسی دلیل کی۔
وہ دلوں کے حال جاننے والا ہے۔
پھر انسان آہستہ آہستہ ایک عجیب سکون محسوس کرنے لگتا ہے۔
وہ سمجھنے لگتا ہے کہ لوگوں کا ساتھ نعمت ضرور ہے، مگر ضرورت نہیں۔
ضرورت صرف اللہ کی ہے۔
لوگ اگر ساتھ ہوں تو شکر، اور اگر ساتھ نہ ہوں تو صبر۔
لوگ تعریف کریں تو بھی اللہ کا شکر، اور اگر ناقدری کریں تو بھی اللہ کا شکر۔
کیونکہ اب اس کی خوشی لوگوں کے رویوں سے وابستہ نہیں رہتی۔
وہ جان لیتا ہے کہ دنیا کی ہر محبت عارضی ہے، ہر تعلق عارضی ہے، ہر آسائش عارضی ہے، ہر طاقت عارضی ہے، ہر شہرت عارضی ہے، بلکہ خود انسان بھی عارضی ہے۔
اگر کوئی ہمیشہ باقی رہنے والا ہے تو صرف وہ رب جس نے کبھی اپنے بندے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
تب انسان لوگوں سے نفرت نہیں کرتا۔
وہ صرف اپنی امیدوں کا مرکز بدل دیتا ہے۔
وہ محبت کرتا ہے مگر محبت کو عبادت نہیں بناتا۔
وہ رشتے نبھاتا ہے مگر اپنی خوشیوں کی چابیاں دوسروں کے ہاتھ میں نہیں دیتا۔
وہ خدمت کرتا ہے مگر اجر صرف اپنے رب سے چاہتا ہے۔
وہ لوگوں کی بھلائی کرتا ہے، مگر ان کی واپسی کی امید میں نہیں۔
کیونکہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ انسان کا دیا ہوا صلہ ختم ہو سکتا ہے، مگر اللہ کا دیا ہوا صلہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
بسا اوقات لوگوں سے مایوسی یا ناامیدی بہت ضروری ہوتی ہے، تاکہ بندہ اللہ سے امید لگانا سیکھ جائے۔
آزمائش کے وقت عارضی سہارے چھن جائے تو بندہ جان لیتا ہے کہ اس کا سہارا انسان نہیں بلکہ اس کا خالق اللہ ہے۔
وہ دل توڑتا نہیں، بلکہ دل کو اپنی طرف موڑتا ہے۔
اور جب دل اپنے رب کی طرف پلٹ آتا ہے تو پھر زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
پھر انسان لوگوں کے بدلنے پر حیران نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جان چکا ہوتا ہے کہ دلوں کا مالک صرف اللہ ہے۔
وہ محرومیوں پر ٹوٹتا نہیں، کیونکہ اسے اپنے رب کی حکمت پر یقین ہوتا ہے۔
وہ تنہائی سے گھبراتا نہیں، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ ہو، وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔
شاید یہی کامل بندگی کا آغاز ہے۔
وہ بندگی جس میں انسان اپنی امیدوں کا مرکز مخلوق سے ہٹا کر خالق کو بنا لیتا ہے۔
اور جس دن انسان یہ راز سمجھ لیتا ہے، اسی دن اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا سب سے مضبوط سہارا کبھی کوئی انسان تھا ہی نہیں…
وہ تو ہمیشہ سے صرف اللہ تھا۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment