Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, July 1, 2026

شکر اور حسد کے درمیان انسان

#حسد #شکر #اصلاح_نفس #توکل

شکر اور حسد کے درمیان انسان
تحریر فیصل مقصود

کچھ عرصہ پہلے میں نے لکھا تھا کہ:
"حسد کرنے والا درحقیقت اپنے رب کی تقسیم پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے۔"
آج اسی بات میں مزید وسعت کرنا چاہتا ہوں۔
حسد انسان کو اس مقام پر لے جاتا ہے جہاں وہ اپنے رب سے مانگنے کے بجائے دوسروں کے ہاتھوں میں موجود نعمتوں کو دیکھ کر بے چین ہونے لگتا ہے۔ وہ یہ سوچنے کے بجائے کہ "اے اللہ! مجھے بھی اپنے فضل سے عطا فرما"، یہ چاہنے لگتا ہے کہ دوسرے سے وہ نعمت چھن جائے۔ یہی سوچ دل کی بیماری بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا رزق، صلاحیت، آزمائش اور نعمتیں اپنی کامل حکمت کے مطابق تقسیم فرمائی ہیں۔ کسی کو جلد عطا کرتا ہے، کسی کو دیر سے، کسی کو ایک نعمت دیتا ہے تو کسی کو دوسری۔ بندے کا کام اپنی قسمت کا دوسروں سے موازنہ کرنا نہیں، بلکہ محنت کرنا، حلال ذرائع اختیار کرنا، دعا کرنا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھنا ہے۔
محنت، لگن، اخلاصِ نیت اور توکل انسان کو اپنی منزل کے قریب ضرور لے جاتے ہیں، مگر نتیجہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ مؤمن جانتا ہے کہ اس کا رب اس کے لیے وہی فیصلہ کرتا ہے جس میں اس کی حقیقی بھلائی ہوتی ہے، خواہ وہ بات اسے فوراً سمجھ نہ آئے۔
افسوس اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے رب کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کو بھول کر صرف دوسروں کی نعمتوں کو گننا شروع کر دیتا ہے۔ پھر شکر کی جگہ ناشکری اور قناعت کی جگہ حسد دل میں گھر کر لیتا ہے۔ حالانکہ شکر نعمتوں میں برکت کا سبب بنتا ہے، جبکہ حسد انسان کے اپنے سکون، ایمان اور کردار کو کھا جاتا ہے۔
یاد رکھیں! دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر جلنے کے بجائے ان کے لیے برکت کی دعا کریں اور اپنے رب سے اس کے فضل کا سوال کریں۔ جو دل شکر گزار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قناعت، سکون اور اپنی رحمت سے ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جن کا انسان نے کبھی گمان بھی نہیں کیا ہوتا۔
"حسد دل کو بے سکون کرتا ہے، جبکہ شکر دل کو اپنے رب کے قریب کر دیتا ہے۔"

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp