#کردار #سنجیدگی #زندگی_کا_شعور #فکرِ_آخرت
سنجیدہ لوگوں کی دنیا
تحریر فیصل مقصود
سنجیدہ لوگ ہجوم کا حصہ ضرور ہوتے ہیں، مگر ہجوم جیسا مزاج نہیں رکھتے۔ ان کی خاموشی اکثر لوگوں کو غرور محسوس ہوتی ہے، حالانکہ وہ غرور نہیں بلکہ شعور کی ایک کیفیت ہوتی ہے۔ وہ ہر چہرے پر فوراً اعتبار نہیں کرتے، ہر تعلق میں جلدی نہیں کرتے اور ہر آواز کے ساتھ اپنی آواز نہیں ملاتے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پہچان اس کے الفاظ سے کم اور اس کے کردار سے زیادہ ہوتی ہے۔
وہ زندگی کو صرف گزارتے نہیں، اسے پڑھتے بھی ہیں۔ ہر واقعہ ان کے لیے ایک سبق ہوتا ہے، ہر ملاقات ایک آزمائش اور ہر جدائی ایک پیغام۔ وہ جانتے ہیں کہ وقت انسان کے جسم کو بوڑھا کرتا ہے، مگر تجربات انسان کی عقل کو بالغ کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ وقتی جذبات کے بجائے دائمی نتائج پر غور کرتے ہیں۔
سنجیدہ لوگوں کی گفتگو مختصر ضرور ہوتی ہے مگر بے معنی نہیں ہوتی۔ وہ فضول گوئی سے اس لیے بچتے ہیں کہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ جواب دہی کا بھی سبب ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بعض اوقات خاموشی وہ بات کہہ دیتی ہے جو ہزار الفاظ بھی نہیں کہہ سکتے۔
وہ دکھاوے سے دور رہتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مصنوعی چمک انسان کو لوگوں کی نظروں میں بڑا بنا سکتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نہیں۔ انہیں ریاکاری سے نفرت ہوتی ہے، کیونکہ اخلاص وہ دولت ہے جو نظر نہیں آتی مگر انسان کی اصل قیمت اسی سے متعین ہوتی ہے۔ وہ اپنی نیکیوں کی تشہیر نہیں کرتے بلکہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کہیں تعریف کی خواہش ان کے اعمال کی روح کو مجروح نہ کر دے۔
خود پسندی ان کی طبیعت میں جگہ نہیں بنا پاتی، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان اپنی کامیابیوں کا خالق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کا محتاج ہے۔ انہیں اپنی خوبیوں پر فخر کرنے سے زیادہ اپنی خامیوں کی اصلاح کی فکر رہتی ہے۔ وہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے ہر رات اپنے ضمیر کی عدالت میں خود کو کھڑا کرتے ہیں اور اپنے نفس سے سوال کرتے ہیں کہ آج کہاں حق ادا نہ ہو سکا، کہاں زبان پھسل گئی اور کہاں دل میں تکبر نے سر اٹھایا۔
مشکلات ان کے لیے شور مچانے کا سبب نہیں بنتیں بلکہ سوچنے کا موقع بن جاتی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر طوفان ہمیشہ نہیں رہتا اور ہر اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ اس لیے وہ آزمائشوں میں صبر، فیصلوں میں حکمت اور تعلقات میں برداشت کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جذبات پر قابو پا لینا دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے سے کہیں بڑی کامیابی ہے۔
وہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی لوگوں کی اندھی تقلید نہیں کرتے۔ ان کے فیصلے معاشرے کے شور سے نہیں بلکہ ضمیر کی آواز سے جنم لیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر مقبول چیز درست نہیں ہوتی اور ہر تنہا چلنے والا شخص غلط نہیں ہوتا۔ سچائی اکثر شور سے دور اور خاموش دلوں میں پروان چڑھتی ہے۔
ان کے نزدیک زندگی کا حسن صرف کامیابیاں سمیٹنے میں نہیں بلکہ اچھا انسان بننے میں ہے۔ وہ عزت کمانے سے پہلے عزت دینا سیکھتے ہیں، محبت لینے سے پہلے محبت بانٹتے ہیں، اور معافی مانگنے سے پہلے دوسروں کو معاف کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مضبوط کردار وہ دولت ہے جو نہ وقت چھین سکتا ہے، نہ حالات۔
لیکن سنجیدگی کی معراج صرف متوازن شخصیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہے۔ اگر انسان کی سنجیدگی اسے نماز کا پابند نہ بنا سکے، قرآن سے جوڑ نہ سکے، حلال و حرام کی تمیز نہ سکھا سکے، حقوق العباد کا احساس پیدا نہ کرے اور موت و آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ نہ کرے تو وہ سنجیدگی ابھی ادھوری ہے۔ حقیقی دانائی وہ ہے جو انسان کو اپنے رب کے سامنے جھکنا سکھائے، کیونکہ دنیا کا ہر علم، ہر مقام اور ہر کامیابی ایک دن ختم ہو جائے گی، مگر اخلاص کے ساتھ کیا گیا ایک سجدہ ہمیشہ باقی رہے گا۔
یاد رکھیں، سنجیدہ ہونا اداس ہونا نہیں، بلکہ باشعور ہونا ہے۔ خاموش ہونا کمزور ہونا نہیں، بلکہ اپنے نفس پر اختیار رکھنا ہے۔ کم بولنا مقصد نہیں، بلکہ سچ، خیر اور حکمت کی بات کرنا مقصد ہے۔ دنیا سے بے زار ہونا کمال نہیں، بلکہ دنیا میں رہ کر اپنے کردار کو اس قابل بنانا کمال ہے کہ جب انسان اس دنیا سے رخصت ہو تو لوگ اس کے اخلاق کو یاد کریں اور اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو قبول فرما لے۔
زندگی کا حقیقی وقار دولت، شہرت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں پوشیدہ ہے جب انسان تنہائی میں بھی وہی کردار اختیار کرے جو وہ لوگوں کے سامنے دکھاتا ہے۔ یہی سنجیدگی ہے، یہی شعور ہے، یہی کردار ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی دونوں عطا کرتا ہے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment