#اصلاح_معاشرہ
#انسانیت
#کردار_کی_بلندی
زندگی کی اصل خوبصورتی
تحریر فیصل مقصود
اگر تم زندگی کی حقیقی خوبصورتی دیکھنا چاہتے ہو تو دنیا کو صرف اپنی آنکھوں سے نہیں، اپنے دل سے دیکھنا سیکھو۔
یہ دنیا تمہارے آنے سے پہلے بھی آباد تھی اور تمہارے جانے کے بعد بھی آباد رہے گی۔ یہاں نہ کوئی دولت ہمیشہ رہتی ہے، نہ شہرت، نہ اقتدار، نہ جوانی اور نہ ہی انسان۔ اگر کوئی چیز باقی رہ جاتی ہے تو وہ انسان کا کردار، اس کے اعمال اور وہ اثرات ہیں جو وہ دوسروں کی زندگیوں پر چھوڑ کر جاتا ہے۔
اس لیے اپنی زندگی کو بے مقصد مت بناؤ۔
صرف صبح سے شام تک رزق کمانا، خواہشات پوری کرنا، آسائشیں جمع کرنا اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے چلے جانا، زندگی کا مقصد نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہی مقصد ہوتا تو دنیا کا ہر امیر، ہر مشہور اور ہر طاقتور انسان مکمل سکون میں ہوتا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس بھی نظر آتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھو کہ دنیا میں کامیابی کا کوئی ایک پیمانہ نہیں۔ ہر شخص اپنی سوچ کے مطابق کامیابی کی تعریف کرتا ہے۔ کسی کے لیے دولت کامیابی ہے، کسی کے لیے شہرت، کسی کے لیے اقتدار اور کسی کے لیے عہدہ۔ لیکن اگر تم واقعی کامیابی کا وہ معیار تلاش کرنا چاہتے ہو جو وقت کے ساتھ ختم نہ ہو تو خیر میں کامیابی تلاش کرو۔
کسی مجبور کے چہرے پر مسکراہٹ لا کر دیکھو۔
کسی یتیم کی ضرورت پوری کر کے دیکھو۔
کسی طالب علم کی تعلیم کا سہارا بن کر دیکھو۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلا کر دیکھو۔
کسی پریشان حال کے دل کا بوجھ ہلکا کر کے دیکھو۔
تم محسوس کرو گے کہ جو سکون ایک نیکی کے بعد دل میں اترتا ہے، وہ دنیا کی بے شمار آسائشوں سے بھی زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
اپنے وجود کو صرف اپنے لیے مت جیو۔ ایسا انسان بنو جس کے ہونے سے دوسروں کی زندگی آسان ہو جائے۔ لوگوں کے غمگسار بنو، ان کی آواز بنو، ان کی امید بنو۔ ظلم کے سامنے خاموش تماشائی مت بنو بلکہ حق کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ مظلوم کے مددگار بنو، کیونکہ طاقتور کا ساتھ دینا آسان ہے، مگر کمزور کا سہارا بننا کردار کی بلندی ہے۔
معاشرے کی اصلاح صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں، ہر باشعور انسان کی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر تم برائی کو دیکھ کر خاموش رہتے ہو، جھوٹ کو برداشت کرتے ہو، ناانصافی پر نظریں چرا لیتے ہو اور اخلاقی زوال کو معمول سمجھ لیتے ہو تو تم بھی اس بگاڑ کا حصہ بن جاتے ہو۔
اپنے مال کو اپنی طاقت مت سمجھو بلکہ اسے اللہ کی امانت سمجھو۔ اس میں یتیم کا بھی حق ہے، مسکین کا بھی، بیوہ کا بھی، مسافر کا بھی اور ہر اس انسان کا بھی جو زندگی کی مشکلات سے لڑ رہا ہے۔ یاد رکھو! جو مال دوسروں کی بھلائی میں خرچ ہوتا ہے، وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ انسان کی ابدی زندگی کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
لوگوں کی اخلاقی تربیت کرو۔ نئی نسل کو صرف کامیاب انسان بننے کی نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کی تعلیم دو۔ کیونکہ ایک اچھا انسان جہاں بھی جائے گا، کامیابی خود اس کے قدم چومے گی، لیکن صرف کامیاب انسان ضروری نہیں کہ معاشرے کے لیے فائدہ مند بھی ہو۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا...
جب تم دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے لگتے ہو تو اللہ تمہارے درد کو اپنے کرم سے ہلکا کر دیتا ہے۔ جب تم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہو تو اللہ تمہارے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا تم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ جب تم لوگوں کے لیے دعا کا سبب بنتے ہو تو ان کی دعائیں تمہاری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بن جاتی ہیں۔
لہٰذا اپنی زندگی اس طرح گزارو کہ تمہارے جانے کے بعد تمہاری جائیداد نہیں، تمہارا کردار یاد رکھا جائے؛ تمہارا نام نہیں، تمہاری نیکیاں زندہ رہیں؛ تمہاری دولت نہیں، تم سے فائدہ اٹھانے والے انسان تمہارے لیے دعا کریں۔
کامیابی صرف یہ نہیں کہ تم زندگی میں کہاں تک پہنچے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ تمہاری وجہ سے کتنے لوگ سنبھل گئے، کتنے چہروں پر مسکراہٹ آئی، کتنی زندگیاں بہتر ہوئیں اور تم نے اپنے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے خیر کا کتنا سرمایہ جمع کیا۔
No comments:
Post a Comment