Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, June 24, 2026

صبر، تسلسل اور آگے بڑھنے کا سفر

#صبر_اور_امید
#مثبت_سوچ
#آگے_بڑھتے_رہیں

صبر، تسلسل اور آگے بڑھنے کا سفر
تحریر فیصل مقصود

سانسوں کا اپنی روانی سے چلنا، خون کا رگوں میں مسلسل بہتے رہنا اور زندگی کا ہر لمحہ آگے کی جانب سفر کرنا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کائنات میں زندگی کا نام ہی حرکت اور تسلسل ہے۔ جو چیز رک جاتی ہے وہ اپنی افادیت کھو دیتی ہے، اور جو چلتی رہتی ہے وہ زندگی کا استعارہ بن جاتی ہے۔

کبھی اپنے جسم کے اندر موجود رگوں کے اس حیرت انگیز نظام پر غور کیجیے۔ باریک ترین رگیں بھی اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہیں۔ خون ان میں رواں رہتا ہے، غذائیت اور توانائی جسم کے ہر حصے تک پہنچاتا ہے اور پورے وجود کو زندہ رکھتا ہے۔ اگر کسی مقام پر خون کی روانی رک جائے تو وہ حصہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے، پھر بیمار اور بعض اوقات ناکارہ بھی ہو جاتا ہے۔

انسان کے خیالات اور جذبات بھی اسی اصول کے تابع ہیں۔

غم، پریشانیاں، ناکامیاں اور تلخ یادیں زندگی کا حصہ ہیں، لیکن یہ مستقل رہائش کے لیے نہیں آتیں۔ ان کا مقصد ہمیں توڑنا نہیں بلکہ ہمیں کچھ سکھانا ہوتا ہے۔ مگر جب انسان انہیں اپنے دل و دماغ میں مستقل جگہ دے دیتا ہے، انہیں بار بار یاد کرتا ہے، ہر روز ان زخموں کو تازہ کرتا ہے، تو یہ غم اس کے سکون، اعتماد اور خوشیوں کی روانی کو روک دیتے ہیں۔

یاد رکھیں، زندگی میں پیش آنے والا ہر دکھ آپ کی قسمت کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ ایک نئے باب کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ہمارے راستے سے کچھ چیزیں اس لیے ہٹا دیتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بہتر راستے کھولنا چاہتا ہے۔ لیکن ہم ماضی کے دروازے کو اتنی شدت سے پکڑے رکھتے ہیں کہ نئے دروازوں کی جانب نظر ہی نہیں جاتی۔

یہ دنیا کسی ایک ناکامی پر ختم نہیں ہوتی، کسی ایک جدائی پر زندگی نہیں رکتی، کسی ایک نقصان سے مستقبل تاریک نہیں ہو جاتا۔ سورج ہر شام ڈوبتا ہے لیکن اگلی صبح پھر طلوع ہو جاتا ہے۔ موسم خزاں درختوں سے پتے گرا دیتا ہے مگر بہار پھر نئی شاخیں اور نئے پھول لے آتی ہے۔ قدرت کا ہر منظر ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ختم ہونا دراصل نئے آغاز کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔

جو لوگ ماضی کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھتے ہیں، وہ حال کی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔ وہ اپنے آج کو کل کی قبروں میں دفن کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گزرے ہوئے کل کو واپس لانا کسی کے اختیار میں نہیں، لیکن آنے والے کل کو بہتر بنانا آج بھی ہمارے اختیار میں ہے۔

اگر کوئی آپ کے ساتھ برا کر گیا ہے تو اسے اپنی زندگی کا مستقل موضوع مت بنائیں۔ اگر آپ ناکام ہوئے ہیں تو اسے اپنی شناخت مت بنائیں۔ اگر آپ سے غلطی ہوئی ہے تو اسے اپنی تقدیر مت سمجھیں۔ انسان کی عظمت اس کی غلطیوں میں نہیں بلکہ ان سے سیکھنے میں ہے۔ کامیاب لوگ وہ نہیں جو کبھی گرے نہیں، بلکہ وہ ہیں جو ہر بار گر کر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر کھڑے ہوئے۔

صبر کا مطلب صرف خاموشی سے تکلیف برداشت کرنا نہیں بلکہ بہتر دنوں کی امید کے ساتھ زندگی کو جاری رکھنا ہے۔ شکر کا مطلب صرف نعمتوں پر خوش ہونا نہیں بلکہ آزمائشوں میں بھی اللہ کی حکمت پر یقین رکھنا ہے۔ اور ہمت کا مطلب خوف کا نہ ہونا نہیں بلکہ خوف کے باوجود درست سمت میں قدم بڑھاتے رہنا ہے۔

اپنے دل کو نفرت، حسرت اور ماضی کے بوجھ سے آزاد کر دیں۔ لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں، خود کو معاف کرنا سیکھیں اور زندگی کو ایک اور موقع دینا سیکھیں۔ کیونکہ جو شخص اپنے دل میں پرانے دکھوں کی قبرستان آباد کر لیتا ہے، وہاں خوشیوں کے پھول نہیں کھلتے۔

یاد رکھیں، زندگی کسی ایک موڑ کا نام نہیں بلکہ ایک طویل سفر ہے۔ ایک باب کا اختتام پوری کتاب کا اختتام نہیں ہوتا۔ اگر آج راستہ دشوار ہے تو ممکن ہے کل آسان ہو۔ اگر آج آنکھوں میں آنسو ہیں تو ممکن ہے کل یہی آنکھیں خوشیوں سے چمک رہی ہوں۔

آگے بڑھنے کے لیے ہزاروں وجوہات موجود ہیں؛ اللہ کی رحمت، نئی امیدیں، نئے مواقع، نئے خواب، نئی منزلیں اور ایک بہتر کل۔ جبکہ پیچھے مڑ کر بار بار دیکھنے کے لیے کوئی وجہ نہیں، کیونکہ وہاں صرف وہی کچھ ہے جو گزر چکا ہے اور جسے بدلنا اب ممکن نہیں۔

لہٰذا اپنی زندگی کو خون کی روانی کی طرح جاری رکھیے، بہتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھتے رہیے اور یاد رکھیے کہ رک جانا زندگی نہیں، آگے بڑھتے رہنا ہی زندگی ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp