#کردار #اصلاح_نفس #انسانیت #حکمت
کچھ لوگ بہت زہریلے ہوتے ہیں۔
تحریر فیصل مقصود
ایسا نہیں کہ وہ سانپ کی طرح ڈستے ہیں، لیکن ان کی زبان، ان کے ارادے اور ان کے ہاتھوں کے شر سے کوئی محفوظ نہیں رہتا۔ بناوٹ اور حلیے سے بالکل سادھے اور معصوم الخطا معلوم ہوتے ہیں لیکن فطری اعتبار سے ان کی شخصیت کا مظہر ہی فتنہ و شر کو طول دینا ہوتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو جہاں بیٹھتے ہیں وہاں بدگمانیوں کے بیج بوتے ہیں، جہاں محبت ہوتی ہے وہاں نفرت کا رنگ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں اتفاق ہوتا ہے وہاں اختلاف پیدا کرنے کے راستے تلاش کرتے ہیں۔ ان کے لیے کسی کا سکون باعثِ خوشی نہیں بلکہ باعثِ پریشانی ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی خوشحالی کو دیکھ کر مسکراتے تو ہیں لیکن دل ہی دل میں اس کے خاتمے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایسے افراد کی ایک خاص عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ کبھی اپنے آپ کو قصوروار نہیں سمجھتے۔ ہر فساد کا ذمہ دار انہیں کوئی دوسرا نظر آتا ہے، ہر خرابی کی جڑ کوئی اور دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی زبان کے زخم نہیں دیکھتے لیکن دوسروں کی معمولی لغزشوں کو پہاڑ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے عیب پوشیدہ اور دوسروں کے عیب نمایاں ہوتے ہیں۔
یہ لوگ اکثر خیرخواہی کے لباس میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بظاہر نصیحت کرتے ہیں لیکن مقصد اصلاح نہیں بلکہ تحقیر ہوتا ہے۔ بظاہر ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں لیکن دل میں حسد چھپا ہوتا ہے۔ بظاہر سچ بولنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے الفاظ کا مقصد حق بیان کرنا نہیں بلکہ دل دکھانا اور تعلقات خراب کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی موجودگی اکثر دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے اور ان کی باتیں رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہیں۔
ان کی سب سے خطرناک صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے درمیان اعتماد کو ختم کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ جب اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو مضبوط ترین رشتے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس لیے وہ باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، ایک شخص کی بات دوسرے تک اور دوسرے کی بات تیسرے تک اس انداز میں پہنچاتے ہیں کہ غلط فہمیاں جنم لیں اور نفرتیں بڑھیں۔ یوں وہ خود تو پس منظر میں رہتے ہیں لیکن ان کے بوئے ہوئے فساد کے بیج لوگوں کی زندگیوں میں تناور درخت بن جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں تلوار کے زخم سے زیادہ گہرے زخم بعض اوقات زبان دیتی ہے۔ جسم کے زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں لیکن دل کے زخم برسوں تک انسان کے اندر درد بن کر رہ سکتے ہیں۔ ایک زہریلا جملہ کسی کا اعتماد ختم کر سکتا ہے، کسی کی ہمت توڑ سکتا ہے اور کسی کی زندگی کو اندھیروں میں دھکیل سکتا ہے۔
لیکن اس ساری گفتگو کا مقصد صرف ایسے لوگوں کی مذمت کرنا نہیں بلکہ خود کو بھی آئینہ دکھانا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات انسان دوسروں میں جن برائیوں کو دیکھتا ہے وہی برائیاں کسی نہ کسی درجے میں اس کے اپنے اندر بھی موجود ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے کردار کا محاسبہ کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں۔ دیکھیں کہ کہیں ہماری زبان بھی کسی کے لیے اذیت کا سبب تو نہیں؟ کہیں ہماری باتوں سے کسی کی عزت مجروح تو نہیں ہوتی؟ کہیں ہم بھی انجانے میں نفرت، حسد یا بدگمانی کو فروغ تو نہیں دے رہے؟
ایک مہذب اور باکردار انسان وہ ہے جس کی موجودگی سے لوگوں کو سکون ملے، جس کی زبان سے خیر نکلے، جس کے ہاتھوں سے آسانیاں پیدا ہوں اور جس کے دل میں دوسروں کے لیے بھلائی کی خواہش ہو۔ ایسے لوگ معاشروں کو جوڑتے ہیں جبکہ زہریلی سوچ رکھنے والے لوگ معاشروں کو توڑتے ہیں۔
یاد رکھیں، انسان کی اصل خوبصورتی اس کے چہرے، لباس یا گفتگو کے انداز میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہوتی ہے۔ اگر کسی کی موجودگی سے دلوں میں محبت بڑھے، اعتماد مضبوط ہو اور خیر عام ہو تو وہی شخص حقیقی معنوں میں خوبصورت ہے۔ لیکن اگر کسی کی موجودگی سے نفرت، اختلاف اور فساد جنم لے تو چاہے اس کا ظاہر کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اس کا باطن اس کی حقیقت بیان کر دیتا ہے۔
اس لیے زندگی میں ایسے لوگوں سے محتاط رہیں جو ہر وقت دوسروں کی برائی، عیب جوئی اور فساد میں مصروف رہتے ہیں، اور خود کوشش کریں کہ آپ کا وجود دوسروں کے لیے رحمت، محبت، خیر اور سکون کا ذریعہ بنے۔ کیونکہ آخرکار انسان کو اس کے الفاظ، اس کے اعمال اور اس کے کردار ہی پہچان دیتے ہیں۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment