#رشتے_محبت_اور_ظرف #صبر_کا_ثمر #خاندان_کی_بنیاد #زندگی_کے_اصول
رشتے نبھانے کا ہنر
تحریر فیصل مقصود
کچھ رشتے بظاہر فطری آزمائش محسوس ہوتے ہیں، یا کم از کم ان سے فطرت کے خلاف توقعات وابستہ کرنا اکثر مایوسی کا سبب بن جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ صورتِ حال یکساں ہو، لیکن معاشرے میں ایک بڑی تعداد انہی رویّوں کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے۔
ساس، بہو، نند، دیورانی اور جیٹھانی جیسے رشتے صدیوں سے تنازعات کی مثال بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان رشتوں کا نام سنتے ہی ذہنی طور پر اختلافات، شکایات اور کشمکش کا تصور قائم کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی رشتہ بذاتِ خود برا نہیں ہوتا، اسے برا یا اچھا بنانے میں شامل افراد کے رویّے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اکثر مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں محبت کی جگہ توقعات لے لیتی ہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ دوسرا اس کے مزاج، خواہشات اور سوچ کے مطابق زندگی گزارے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو دلوں میں شکوے جنم لیتے ہیں۔ پھر معمولی سی بات انا کا مسئلہ بن جاتی ہے، انا ضد کو جنم دیتی ہے اور ضد وہ آگ بھڑکا دیتی ہے جو برسوں پرانے رشتوں کو بھی راکھ بنا سکتی ہے۔
بدقسمتی سے بہت سے لوگ رشتوں کو نبھانے کے بجائے جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر بحث میں خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ رشتے عدالتیں نہیں ہوتے جہاں ہر وقت فیصلے سنائے جائیں۔ رشتے تو وہ جگہ ہوتے ہیں جہاں بعض اوقات حق پر ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کرنا پڑتی ہے، جہاں معاف کرنا جیتنے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے اور جہاں محبت کو برقرار رکھنے کے لیے انا کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی پرورش، ماحول، تجربات اور مزاج کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس لیے دو مختلف افراد سے ایک جیسی سوچ اور رویّے کی توقع رکھنا غیر حقیقی بات ہے۔ اگر ہم دوسروں کو ان کی خامیوں سمیت قبول کرنا سیکھ لیں تو بہت سے تنازعات جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔ برداشت صرف دوسروں کی غلطیاں سہنے کا نام نہیں بلکہ یہ شعور بھی ہے کہ ہم خود بھی کامل نہیں ہیں۔
بحیثیتِ مرد، جسے خاندان کی نگرانی اور ذمہ داری سونپی گئی ہے، اس پر مزید بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسے انصاف کا علمبردار، حکمت کا مظہر اور اختلافات میں توازن پیدا کرنے والا ہونا چاہیے۔ اگر وہ ذمہ داری سے فرار اختیار کرے، جانبداری اپنائے یا خود فتنہ و فساد کا حصہ بن جائے تو وہ نہ صرف اپنے فرض میں کوتاہی کرتا ہے بلکہ پورے خاندان کے سکون کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ایک سمجھدار مرد آگ لگانے والا نہیں بلکہ آگ بجھانے والا ہوتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر رشتہ کبھی نہ کبھی آزمائش سے گزرتا ہے۔ اختلاف کا پیدا ہونا فطری ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا ہماری کمزوری ہے۔ مضبوط خاندان وہ نہیں ہوتے جہاں مسائل نہ ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جہاں مسائل کے باوجود لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔ جہاں غلطیوں پر معافی، ناراضی پر صلح، اور دوریوں پر محبت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
رشتے دراصل شیشے کی مانند ہوتے ہیں۔ انہیں توڑنے کے لیے ایک لمحہ کافی ہوتا ہے، مگر دوبارہ جوڑنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے تعلقات مضبوط رہیں تو دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بہتر بنائیں، دوسروں کی نیت پر شک کرنے سے پہلے ان کے حالات سمجھنے کی کوشش کریں، اور ہر معاملے میں اپنا حق تلاش کرنے سے پہلے اپنا فرض ادا کریں۔
کیونکہ رشتے محبت سے بنتے ہیں، مگر صبر، برداشت، قربانی، درگزر اور انصاف سے قائم رہتے ہیں۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment