Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Friday, July 17, 2026

فراڈیے کا سرمایہ تمہارا لالچ ہے

#شعور_کی_بات
#فکر_و_آگہی
#اعوانیات

فراڈیے کا سرمایہ تمہارا لالچ ہے
تحریر فیصل مقصود

سیانے کہتے ہیں، "لالچی زندہ ہو تو فراڈیا کبھی بھوکا نہیں مرتا۔" پہلے یہ جملہ محض ایک کہاوت محسوس ہوتا تھا، مگر زندگی کے تجربات نے بتایا کہ یہ دراصل انسانی نفسیات کا وہ قانون ہے جس پر صدیوں سے معاشرے تعمیر بھی ہوئے اور تباہ بھی۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ فراڈیے کی سب سے بڑی طاقت اس کی چالاکی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فراڈیے کی اصل طاقت اس کی ذہانت نہیں بلکہ انسان کی لالچ، بے صبری، کم علمی اور بغیر محنت کامیاب ہونے کی خواہش ہے۔ اگر دنیا سے لالچ ختم ہو جائے تو بے شمار فراڈیے اگلے ہی دن اپنا پیشہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں۔

مچھلی کبھی کانٹا نہیں کھاتی، وہ تو دانے کی طرف لپکتی ہے۔ کانٹا تو بعد میں اس کے حلق میں اترتا ہے۔ انسان بھی پہلے فراڈیے پر یقین نہیں کرتا، پہلے اپنے خوابوں، خواہشوں اور شارٹ کٹ پر یقین کرتا ہے، پھر فراڈیہ انہی خواہشوں کو تجارت بنا لیتا ہے۔

یہ دنیا ایک عجیب بازار ہے؛ یہاں صرف اشیاء نہیں بکتیں، یہاں امیدیں فروخت ہوتی ہیں، خواب نیلام ہوتے ہیں، شخصیتیں برانڈ بنتی ہیں، اور جذبات سرمایہ کاری کا سب سے منافع بخش ذریعہ بن چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ سچ خریدنے سے پہلے خواب خرید لیتے ہیں۔

فراڈ صرف وہ نہیں جو کسی کی جیب خالی کرے، فراڈ وہ بھی ہے جو کسی کا شعور خالی کر دے۔ دولت کا نقصان وقتی ہوتا ہے، مگر شعور کا نقصان نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔

آج فراڈ نے بھی ترقی کر لی ہے۔ کبھی وہ سیاست کے لباس میں آتا ہے اور عوام کو نعروں، وعدوں اور جذبات کے سہارے اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔ کبھی وہ مذہب کی آڑ میں سوال کرنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے اور شخصیت پرستی کو ایمان کا نام دے دیتا ہے۔ کبھی وہ علم کے منصب پر بیٹھ کر تحقیق کے بجائے تقلید، دلیل کے بجائے تعصب اور حقیقت کے بجائے اپنی پسند کو علم بنا کر پیش کرتا ہے۔ اور کبھی وہ کامیابی کے نام پر ایسی امیدیں بیچتا ہے جن کی قیمت صرف تمہاری جیب نہیں بلکہ تمہاری عقل بھی ادا کرتی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر موٹیویشنل اسپیکر، ہر مذہبی مقرر یا ہر سیاست دان فراڈیہ ہو، لیکن یہ ضرور ضروری ہے کہ ہر دعوے کو عقل، علم اور دلیل کے ترازو میں تولا جائے۔ شخصیتیں کبھی دلیل کا متبادل نہیں ہوتیں، اور مقبولیت کبھی سچائی کی سند نہیں بنتی۔

یاد رکھو، سب سے کامیاب فراڈ وہ ہے جس میں متاثر ہونے والا خود کو متاثر سمجھنے کے بجائے خود کو خوش قسمت سمجھنے لگے۔ جب انسان اپنی زنجیروں کو ہی آزادی سمجھنے لگے تو فراڈیے کو مزید کسی ہتھکنڈے کی ضرورت نہیں رہتی۔

ہر پُراعتماد لہجہ سچائی کی دلیل نہیں ہوتا، ہر وائرل چہرہ قابلِ تقلید نہیں ہوتا، ہر مہنگا کورس علم کی ضمانت نہیں ہوتا، اور ہر خوبصورت جملہ حکمت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات الفاظ بھی ہتھیار ہوتے ہیں، جو جسم نہیں بلکہ عقل کو زخمی کرتے ہیں۔

کامیابی خریدی نہیں جاتی، کمائی جاتی ہے۔ کردار وراثت میں نہیں ملتا، تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ بصیرت کسی سیمینار کی سوغات نہیں بلکہ مسلسل مطالعے، مشاہدے، محاسبۂ نفس اور تلخ تجربات کا حاصل ہوتی ہے۔

اس لیے اگلی بار جب کوئی تمہیں بغیر محنت دولت، بغیر علم دانائی، بغیر کردار عظمت، یا بغیر قربانی کامیابی بیچنے آئے تو اپنی جیب سے پہلے اپنے شعور کی حفاظت کرنا۔

یاد رکھو! فراڈیے کی دکان اس کے جھوٹ سے نہیں چلتی، بلکہ لوگوں کی خواہشات، کم علمی اور لالچ سے چلتی ہے۔ جس دن انسان اپنی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے اپنے شعور کا محافظ بن گیا، اسی دن فراڈیے کا بازار ویران ہونا شروع ہو جائے گا۔ کیونکہ فراڈ وہاں نہیں پنپتا جہاں عقل زندہ، کردار بیدار اور ضمیر آزاد ہو۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp