ضمیر کی موت
تحریر فیصل مقصود
مجھے حیرت نہیں ہوتی، بلکہ خوف آتا ہے۔ خوف اس بات کا کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان کے جسم زندہ ہیں مگر ضمیر آہستہ آہستہ مر رہے ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جہاں زبان پر انسانیت کا نام ہے مگر دلوں میں نفرتوں کے قبرستان آباد ہیں۔
ہم بظاہر انسانیت کا دم بھرتے ہیں، حقوقِ انسان کی باتیں کرتے ہیں، محبت، رواداری، اخوت اور خیر خواہی کے درس دیتے ہیں۔ بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں، وعدے کرتے ہیں اور اپنے کردار کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں کہ گویا ہم سے زیادہ نیک، متقی، زاہد اور پرہیزگار کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن جب ہمارے دلوں کے پردے ہٹتے ہیں تو وہاں اخلاص کم اور نفاق زیادہ نظر آتا ہے، محبت کم اور حسد زیادہ، عاجزی کم اور انا زیادہ۔
ہم نے دین کو الفاظ میں اور دنیا کو دل میں جگہ دے دی ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس حد تک منافق اور دوغلے کیسے ہو گئے کہ دوسروں کو مصیبت، پریشانی، نقصان یا ذلت میں دیکھ کر ہمارے دلوں میں سکون اترنے لگتا ہے۔ کسی کی کامیابی ہمیں بے چین کرتی ہے اور کسی کی ناکامی ہمیں خوشی دیتی ہے۔ اگر کسی کا کاروبار تباہ ہو جائے، گھر بکھر جائے، عزت خاک میں مل جائے یا اس کا خون بہہ جائے تو افسوس سے پہلے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ گویا انسان کی تکلیف نہیں، ہمارے لیے ایک تماشا بن گئی ہو۔
ارے اللہ کے بندو! ہوش کے ناخن لو۔ ضد، انا، تعصب اور نفرت میں اس قدر بھی آگے مت بڑھو کہ تمہیں اپنے ہی بھائی کا نقصان خوشی دینے لگے۔ یاد رکھو، دوسروں کے زخموں پر مسکرانے والا انسان سب سے پہلے اپنے ہی کردار کو زخمی کرتا ہے۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم جھوٹ کو ذہانت سمجھنے لگے ہیں۔ منافقت کو مصلحت، غیبت کو تبصرہ، بہتان کو خبر اور کردار کشی کو آزادیِ اظہار کا نام دے دیا گیا ہے۔
آج کسی کی عزت ہمارے پاس امانت نہیں رہی۔ کسی کی کمزوری ہمارے لیے اصلاح کا موقع نہیں بلکہ تفریح کا سامان بن گئی ہے۔ اگر کسی کی اولاد اس کے قابو میں نہ رہے تو ہم خاندانوں میں افسانے گھڑنے لگتے ہیں۔ اگر کسی کے گھر آزمائش آ جائے تو ہم مدد کرنے کے بجائے قصے سنانے لگتے ہیں۔ اگر کسی کی لغزش سامنے آ جائے تو ہم اس کی پوری زندگی کو اسی ایک لمحے میں قید کر دیتے ہیں۔
ہمیں لوگوں کے راز معلوم کرنے کا شوق ہے، مگر اپنے عیب دیکھنے کی فرصت نہیں۔
ہم زندہ لوگوں کی کردار کشی کرتے ہیں، اور جب وہ دنیا سے چلے جائیں تو ان کے عیب بیان کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ مرنے والا اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتا، مگر ہماری زبانیں اس کی خاموشی پر بھی وار کرتی رہتی ہیں۔
پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ گھروں سے سکون کیوں اٹھ گیا؟ دعاؤں میں تاثیر کیوں باقی نہیں رہی؟ رشتوں میں اعتماد کیوں ختم ہو گیا؟ شاید اس لیے کہ ہم نے گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔
میں بطور ایک لکھاری، بطور ایک مسلمان، اور اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان رکھنے والے ایک معمولی انسان کے، سب سے پہلے اپنی فکر کرتا ہوں، پھر اپنے معاشرے کی۔ میں یہ تحریر کسی منبر سے فتویٰ دینے کے لیے نہیں لکھ رہا، نہ خود کو کسی سے بہتر سمجھتا ہوں۔ میں صرف اپنے نفس سمیت ہم سب کو ایک آئینہ دکھانا چاہتا ہوں۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں کچھ ایسے گناہ خون کی روانی کی طرح ہماری رگوں میں دوڑ رہے ہیں جن کا ہمیں احساس تک نہیں رہا۔ غیبت... بہتان... جھوٹ... حسد... تجسس... پردہ دری... کردار کشی... کسی کی ناکامی پر خوش ہونا... کسی کی عزت کو اپنی زبان کی خوراک بنا لینا... یہ سب ہماری روزمرہ کی عادتیں بنتی جا رہی ہیں، اور ہم انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ انسان کو بڑے گناہ سے نہیں گراتا، وہ پہلے چھوٹے گناہ کو معمول بناتا ہے، پھر معمول کو عادت، عادت کو طبیعت اور آخرکار طبیعت کو کردار بنا دیتا ہے۔ جب کردار بدل جائے تو پھر انسان کو گناہ، گناہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔
المیہ یہ نہیں کہ ہم خطاکار ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے خطاؤں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔
یہ تحریر کسی ایک شخص، کسی ایک جماعت یا کسی ایک طبقے کے خلاف نہیں۔ یہ میرے اپنے نفس سمیت ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ پسند نہیں آتا تو آئینہ توڑنے کے بجائے اپنے کردار کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں، معاشرے صرف معیشت سے نہیں، کردار سے زندہ رہتے ہیں۔ قومیں صرف قانون سے نہیں، ضمیر سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور جب کسی قوم کا ضمیر مر جائے تو اس کے زوال کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔
اللہ ہمیں دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے، دوسروں کی عزت کو اپنی عزت سمجھنے، اور دوسروں کے دکھ پر خوش ہونے کے بجائے ان کے لیے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کیونکہ جس دن انسان دوسروں کی رسوائی میں لطف محسوس کرنے لگے، سمجھ لیجیے اس دن اس کا ضمیر دفن ہو چکا ہوتا ہے، صرف اس کا جسم چل پھر رہا ہوتا ہے۔
اور مردہ ضمیر رکھنے والے لوگ، زندہ معاشرے کبھی تعمیر نہیں کر سکتے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment