Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, July 22, 2026

قیامت کا گزرنا

#انسان_ہونے_کا_حق
#اخلاق_سے_معاشرہ
#خود_احتسابی

قیامت کا گزرنا
تحریر فیصل مقصود

"قیامت گزرنا" کوئی محاورہ نہیں، نہ ہی جذبات کی مبالغہ آرائی ہے۔ یہ دراصل انسان کی برداشت کی وہ آخری حد ہے جہاں پہنچ کر اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس سے بڑا صدمہ، اس سے زیادہ بے بسی، اس سے گہری اذیت اور اس سے کڑی آزمائش شاید اس کی زندگی میں کبھی نہیں آئی۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں جسم زندہ رہتا ہے مگر روح تھک جاتی ہے، آنکھیں کھلی ہوتی ہیں مگر خواب مر جاتے ہیں، اور انسان بول سکتا ہے مگر اس کے درد کے لیے الفاظ ناکافی ہو جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے دنیا انسان کے زخموں سے زیادہ اس کے ردِعمل کو دیکھتی ہے۔ لوگ آپ کی خاموشی کو غرور، آپ کی تلخی کو بدتمیزی، آپ کی تنہائی کو تکبر اور آپ کی بے بسی کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی یہ جاننے کی زحمت نہیں کرتا کہ جس شخص پر وہ تبصرہ کر رہا ہے، اس کے دل کے اندر کتنی جنگیں جاری ہیں، کتنی امیدیں دفن ہو چکی ہیں اور کتنی راتیں اس نے بے خوابی اور بے بسی کے درمیان گزاری ہیں۔

ایک لمحے کے لیے اس شخص کا تصور کیجیے جو تیرنا نہیں جانتا اور اچانک گہرے پانی میں گر جاتا ہے۔ وہ پوری طاقت سے ہاتھ پاؤں مارتا ہے، ہر سانس زندگی کی بھیک مانگتی ہے، ہر لمحہ موت اور زندگی کے درمیان جھول رہا ہوتا ہے۔ دوسری طرف کنارے پر کھڑا شخص بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ "اگر یہ یوں کرتا تو بچ جاتا۔" اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ کنارے پر کھڑے ہو کر عقل کی بات کرنا آسان ہے، مگر ڈوبتے ہوئے انسان کے فیصلے عقل سے نہیں بلکہ خوف، بے بسی اور زندہ رہنے کی آخری خواہش سے پیدا ہوتے ہیں۔

زندگی کا سب سے بڑا ظلم یہی ہے کہ ہم دوسروں کے حالات کو اپنے حالات کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ہم اپنی آسانیوں کو دوسروں کی ذمہ داری بنا دیتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کو دوسروں کی ناکامی کا معیار۔ حالانکہ ہر انسان کی کہانی الگ ہے، اس کے زخم الگ ہیں، اس کی تربیت، وسائل، مجبوری، نفسیات، ماحول اور قسمت الگ ہے۔ جس راستے پر چلنا آپ کے لیے آسان تھا، ممکن ہے وہ کسی دوسرے کے لیے کانٹوں سے بھی زیادہ دشوار ہو۔

زندگی کبھی دو انسانوں کو ایک جیسے حالات، ایک جیسی آزمائشیں اور ایک جیسے مواقع نہیں دیتی، اس لیے دو انسانوں کے فیصلوں کا موازنہ بھی مکمل انصاف نہیں ہو سکتا۔ انصاف صرف قانون کا نام نہیں، بلکہ حالات کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔ جو شخص صرف عمل دیکھتا ہے وہ قاضی بن جاتا ہے، مگر جو عمل کے پیچھے چھپی مجبوری کو بھی دیکھ لیتا ہے، وہ انسان بن جاتا ہے۔

اسی لیے میں ہمیشہ اپنے حلقۂ احباب سے ایک گزارش کرتا ہوں کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کیا کریں۔ کسی کو اپنی عقل کے پیمانے سے ناپ کر بیوقوف نہ سمجھیں، کسی سے بلاوجہ نہ الجھیں، اور ہر انسان کو انسان ہونے کا مارجن دیں۔

اسے غلطی کرنے کا مارجن دیں، سیکھنے کا مارجن دیں، سنبھلنے کا مارجن دیں، وقت کے ساتھ بدلنے کا مارجن دیں، خاموش رہنے کا مارجن دیں، اور اپنی زندگی کو اپنی سمجھ اور اپنی استطاعت کے مطابق گزارنے کا مارجن دیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کا وہ باب پڑھ رہا ہوتا ہے جسے آپ نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔

کسی کے لیے زندگی تنگ نہ کریں۔ اس کی سانسوں کی روانی نہ چھینیں۔ اس کے رزق کے نوالوں پر سانپ بن کر نہ بیٹھیں۔ کسی کی عزت کو اپنی انا کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ کسی کی لغزش کو اس کی پوری شخصیت کا تعارف نہ بنا دیں۔ یاد رکھیے، بعض اوقات ایک سخت جملہ، ایک بے بنیاد الزام، ایک ذلیل کرنے والی نگاہ یا ایک ناانصاف فیصلہ کسی انسان کو عمر بھر کے لیے اندر سے توڑ دیتا ہے۔

اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں؛ آپ کو لوگوں کے اعمال کا نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ آپ نہ کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، نہ جہنمی ہونے کا۔ آپ نہ کسی کے گناہوں کے مالک ہیں، نہ اس کی نیکیوں کے۔ جزا و سزا کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، انسان کے پاس نہیں۔ جب انسان یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لینے لگتا ہے تو وہ انصاف نہیں کرتا، بلکہ اپنی خواہشات، تعصبات اور انا کی غلامی کرنے لگتا ہے۔

ہم اکثر دوسروں کے کردار کے قاضی اور اپنے نفس کے وکیل بن جاتے ہیں۔ دوسروں کی غلطیاں ہمیں دور سے دکھائی دیتی ہیں، مگر اپنی لغزشوں پر ہم دلیلیں تراش لیتے ہیں۔ حالانکہ مہذب انسان وہ نہیں جو ہر وقت دوسروں کا حساب لیتا پھرے، بلکہ وہ ہے جو ہر رات سونے سے پہلے اپنا حساب خود کر لیتا ہے۔

ہاں، اگر آپ کو کسی میں ایسا عیب نظر آئے جو اخلاقی معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہو تو خاموش تماشائی بھی نہ بنیں۔ اسے حکمت، محبت، نرمی اور اس کی سمجھ کے مطابق نصیحت کریں۔ خیرخواہی ایمان کا حصہ ہے، لیکن جبر ایمان کا طریقہ نہیں۔ نصیحت کا مقصد انسان کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ اس کے اندر شعور بیدار کرنا ہے۔ اگر وہ بات مان لے تو اللہ کا شکر ادا کریں، اور اگر نہ مانے تو اپنا فرض ادا کرنے کے بعد اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ آپ دلیل دے سکتے ہیں، راستہ دکھا سکتے ہیں، دعا کر سکتے ہیں، مگر کسی کے دل پر قبضہ نہیں کر سکتے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی کھیل کا میدان نہیں بلکہ امتحان کا میدان ہے۔ یہاں ہر لفظ لکھا جا رہا ہے، ہر عمل محفوظ ہو رہا ہے، ہر نیت کا وزن کیا جا رہا ہے۔ جو انسان زندگی کو محض خواہشات، انا، ضد اور وقتی لذتوں کا نام سمجھ لیتا ہے، وہ آخرکار اپنے ہی فیصلوں کے ملبے تلے دب جاتا ہے۔ زندگی کو اس حق کے ساتھ جینا چاہیے جس حق کے ساتھ اللہ نے ہمیں زندگی عطا کی ہے؛ ذمہ داری کے ساتھ، انصاف کے ساتھ، رحم کے ساتھ اور اصولوں کے ساتھ۔

انسان اور جانور کے درمیان بنیادی فرق صرف عقل نہیں، بلکہ اخلاق ہے۔ جانور جبلّت کے مطابق جیتا ہے، مگر انسان کو اصولوں، شعور، عدل، رحم، برداشت اور جواب دہی کے ساتھ جینا سکھایا گیا ہے۔ اگر انسان بھی اپنی خواہش، غصے، حسد، لالچ اور طاقت کے پیچھے چلنے لگے تو پھر اس کے اور جانور کے درمیان فرق صرف شکل کا رہ جاتا ہے، کردار کا نہیں۔

لہٰذا فیصلہ سنانے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کیجیے، ردعمل دینے سے پہلے سوچنے کی عادت اپنائیے، اور کسی انسان کو اس کی ایک غلطی، ایک کمزوری یا ایک آزمائش کی بنیاد پر مت پرکھیے۔ ہو سکتا ہے کل وہی شخص آپ سے بہتر ثابت ہو، اور ہو سکتا ہے کل آپ خود اسی آزمائش سے گزر رہے ہوں جس پر آج آپ کسی اور کو ملامت کر رہے ہیں۔

یاد رکھیے، ایک مہذب معاشرہ قانون سے پہلے اخلاق پر کھڑا ہوتا ہے، اور اخلاق کی پہلی سیڑھی یہ ہے کہ ہم انسان کو انسان سمجھیں، مقدمہ نہیں؛ اور اس کے دل کو امانت سمجھیں، شکار نہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks


No comments:

Post a Comment

WhatsApp