Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, July 22, 2026

خواہشوں کے اسیر

#خواہشوں_کے_اسیر
#قناعت_ہی_دولت_ہے
#اصلاح_نفس

خواہشوں کے اسیر
تحریر: فیصل مقصود

"مجھے یہ نہیں، وہ چاہیے تھا۔"
"ایسا نہیں، ویسا چاہیے تھا۔"

انسان کی زندگی کا شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ نعمتوں سے زیادہ محرومیوں کو گنتا ہے۔ جو اس کے پاس ہے، وہ اسے معمولی لگتا ہے، اور جو اس کے پاس نہیں، وہی اسے اپنی خوشی کی آخری شرط محسوس ہوتا ہے۔

کبھی اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا...
جو کچھ مجھے مل چکا ہے، آخر اس پر اطمینان کیوں نہیں؟ شکر کیوں نہیں؟

اگر کسی چیز کے ملنے میں چند دن، چند مہینے یا چند سال کی تاخیر ہو جائے تو کیا زندگی رک جاتی ہے؟ اگر وہ چیز کبھی نہ بھی ملے تو کیا سانسیں ختم ہو جاتی ہیں؟

ہرگز نہیں۔

اصل مسئلہ رزق کی کمی نہیں، قناعت کی کمی ہے۔ مسئلہ نعمتوں کی قلت نہیں، بلکہ اس نفس کی بھوک ہے جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔

نفس کی عجیب فطرت ہے؛ اسے ایک خواہش پوری کر دو تو وہ دوسری پیدا کر دیتا ہے، دوسری پوری ہو جائے تو تیسری، پھر چوتھی... یہاں تک کہ انسان پوری زندگی "اور... اور... اور..." کے تعاقب میں گزار دیتا ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ اگلی کامیابی، اگلا گھر، اگلی گاڑی، اگلا عہدہ یا اگلا کاروبار اسے سکون دے گا، مگر سکون منزل پر نہیں، قناعت میں ہوتا ہے۔

خواہشیں بری نہیں ہوتیں، مگر جب وہ انسان کی مالک بن جائیں تو وہ عبادت بھی چھین لیتی ہیں، رشتے بھی، اخلاق بھی، اور کبھی کبھی ایمان بھی۔

پھر انسان دولت نہیں کماتا، بلکہ دولت اسے استعمال کرنے لگتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں نکالتا، والدین کے لیے فرصت نہیں پاتا، دوستوں سے تعلق ٹوٹ جاتے ہیں، سجدے مختصر ہو جاتے ہیں، اور ضمیر کی آواز دھیرے دھیرے مدھم پڑنے لگتی ہے۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب حلال کم لگنے لگتا ہے اور حرام آسان۔

ایک جھوٹ...
ایک دھوکا...
ایک رشوت...
ایک سود...
ایک فراڈ...
اور انسان اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ "صرف اس بار..."

مگر حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کو ایک ہی بار میں جہنم تک نہیں لے جاتا، وہ صرف پہلا قدم اٹھواتا ہے۔

ذرا سوچو...

جس مال کو جمع کرنے کے لیے تم نے راتوں کی نیند قربان کی، بھوک برداشت کی، صحت برباد کی، دوسروں کے حقوق مارے، ضمیر کا سودا کیا، اور حلال و حرام کی سرحدیں مٹا دیں، کیا وہ مال ہمیشہ تمہارے پاس رہے گا؟

ہرگز نہیں۔

ایک دن موت آئے گی۔
وہ نہ تمہارے منصوبوں کی تکمیل کا انتظار کرے گی، نہ تمہارے خوابوں کی۔ وہ تمہاری زندگی کے بیچوں بیچ ایک ایسا فل اسٹاپ لگا دے گی جس کے بعد کوئی نیا جملہ نہیں لکھا جا سکے گا۔

پھر تم چلے جاؤ گے...

اور تمہارے گھر میں تمہاری الماریوں کی چابیاں تلاش کی جائیں گی، بینک اکاؤنٹس کا حساب ہوگا، جائیداد کے کاغذات کھلیں گے، وراثت تقسیم ہوگی، اور اگر مال زیادہ ہوا تو محبتیں کم اور مقدمے زیادہ ہوں گے۔

بھائی بھائی کے مخالف کھڑے ہوں گے۔
اولاد ایک دوسرے پر الزام لگائے گی۔
عدالتیں آباد ہوں گی۔
ایف آئی آر درج ہوں گی۔

اور ممکن ہے وہی لوگ، جن کے لیے تم نے اپنی پوری زندگی کھپا دی، چند برس بعد تمہارا نام بھی احترام سے نہ لیں۔

کتنی عجیب بات ہے...
ساری زندگی انسان ان چیزوں کو جمع کرتا رہتا ہے جو ایک دن اس سے جدا ہو جائیں گی، اور ان اعمال کو بھول جاتا ہے جو قبر میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

یاد رکھو...

تم اپنے مال کے مالک نہیں، چند دن کے امین ہو۔
اصل سوال یہ نہیں کہ تم نے کتنا کمایا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیسے کمایا؟

جس دن تمہارے جسم پر کفن لپیٹا جائے گا، اس دن نہ تمہارے کپڑوں میں جیب ہوگی، نہ بینک بیلنس ساتھ ہوگا، نہ پلاٹ، نہ گاڑیاں، نہ سونا۔

صرف اعمال ہوں گے...

اگر خواہشیں تمہارے آقا بن گئیں تو تم کبھی سکون نہیں خرید سکو گے، چاہے پوری دنیا تمہارے قدموں میں ڈال دی جائے۔

اور اگر شکر تمہارا مزاج بن گیا تو ممکن ہے خالی جیب کے باوجود تم دنیا کے امیر ترین انسان بن جاؤ۔

یاد رکھنا...

خواہشیں انسان کو کبھی امیر نہیں بناتیں، صرف مزید محتاج بنا دیتی ہیں۔

اور دنیا کا سب سے مفلس انسان وہ نہیں جس کے پاس کم مال ہو، بلکہ وہ ہے جس کے نفس کی بھوک کبھی ختم نہ ہو۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp