#نصیحت
#توحید
#حسن_خاتمہ
نصیحت
تحریر فیصل مقصود
مرنے سے چند لمحے پہلے وہ خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے۔ آنکھوں میں زندگی بھر کے تجربات تھے اور چہرے پر رخصت کا سکون۔ پھر دھیمی آواز میں بولے: "بیٹا! میری پوری زندگی کا نچوڑ یاد رکھنا۔ یہ دنیا فانی ہے۔ اس کی چمک، اس کی رونق، اس کی محبتیں، اس کی نفرتیں، اس کی کامیابیاں اور اس کی ناکامیاں، سب وقت کے ساتھ مٹ جانے والی ہیں۔ اس کے کسی بھی دھوکے کا شکار مت ہونا، کیونکہ دنیا ہمیشہ حقیقت کو نہیں، خواہشات کو خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہے۔"
چند لمحے توقف کیا، پھر گویا ہوئے: "سب سے بڑھ کر یہ یاد رکھنا کہ اللہ وحدہٗ لا شریک کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرانا۔ انسان اگر پوری دنیا بھی جیت لے، مگر اپنے رب کو کھو دے، تو وہ سب سے بڑا خسارے والا ہے۔ یاد رکھنا، موت اختتام نہیں، واپسی ہے؛ اور ہر واپسی اپنے اصل مالک کی طرف ہوتی ہے۔ کوشش کرنا کہ اس کے حضور ایسے حاضر ہونا کہ تمہارا نامۂ اعمال تمہارے خلاف نہیں، تمہارے حق میں گواہی دے۔"
انہوں نے میری طرف دیکھا، جیسے آخری مرتبہ دل میں کوئی امانت رکھ رہے ہوں، اور فرمایا: "حق کو کبھی لوگوں کی تعداد سے مت پرکھنا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حق اکثر تنہا رہا ہے اور باطل کے گرد ہمیشہ ہجوم رہا ہے۔ اگر کبھی ایسا وقت آئے کہ پوری دنیا ایک طرف ہو اور حق دوسری طرف، تو ہجوم کا حصہ مت بننا، حق کا ساتھی بن جانا۔ تنہا ہونا ناکامی نہیں، باطل کے ساتھ کھڑا ہونا اصل محرومی ہے۔"
پھر بولے: "اپنے ضمیر کو کبھی فروخت مت کرنا۔ دنیا تمہیں ایسے مواقع دے گی جہاں سچ بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی اور خاموش رہنے کا انعام ملے گا، مگر یاد رکھنا، جو شخص اپنے ضمیر کی آواز دبا دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کی روشنی بجھا دیتا ہے۔ انسان کی اصل عزت لوگوں کی تعریف میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں ہے جب وہ اپنے رب کے سامنے سرخرو کھڑا ہو۔"
ان کی سانسیں مدھم ہونے لگیں، مگر الفاظ پہلے سے زیادہ روشن تھے۔ فرمانے لگے: "بیٹا! لوگوں کو راضی کرنے کی کوشش میں اپنے رب کو ناراض مت کر بیٹھنا۔ لوگوں کی رضا موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہے، مگر اللہ کی رضا ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ لوگ تمہیں تمہاری کامیابیوں تک یاد رکھیں گے، مگر اللہ تمہیں تمہارے اخلاص، تمہارے تقویٰ اور تمہارے اعمال سے پہچانے گا۔"
پھر آہستہ سے مسکرائے اور بولے: "وقت کی قدر کرنا۔ زندگی دراصل سانسوں کی گنتی کا نام نہیں، بلکہ ان سانسوں میں کیے گئے اعمال کا نام ہے۔ کل پر مت چھوڑنا، کیونکہ بہت سے لوگ کل کی امید میں سوتے ہیں مگر ان کی آنکھ قیامت کی صبح کھلتی ہے۔ نیکی میں تاخیر اور گناہ میں بے خوفی، دونوں انسان کو تباہ کر دیتے ہیں۔"
کمرے میں خاموشی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ میں ان کی ہر بات کو دل میں محفوظ کر رہا تھا۔ پھر ان کے لب ہلے، زبان پر کلمۂ طیبہ جاری ہوا، چہرہ اطمینان سے روشن ہو گیا، اور اگلے ہی لمحے روح اپنے خالقِ حقیقی کی طرف پرواز کر گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ایک جسم نہیں، بلکہ ایک پوری زندگی اپنی گواہی دے کر رخصت ہو گئی ہو۔
اس دن مجھے معلوم ہوا کہ انسان مرتے وقت اپنی جائیداد، کاروبار، شہرت یا تعلقات کی وصیت نہیں کرتا؛ وہ صرف وہی باتیں دہراتا ہے جنہیں وہ اپنی نجات کا سرمایہ سمجھتا ہے۔ خوش نصیب وہ نہیں جو دنیا سے بہت کچھ لے کر جائے، بلکہ وہ ہے جو دنیا میں حق، توحید، کردار اور نیک نصیحت کی ایسی میراث چھوڑ جائے جو اس کے بعد بھی دلوں کو زندہ رکھے۔ آخرکار انسان کی اصل پہچان اس کی چھوڑی ہوئی دولت نہیں، بلکہ وہ سچ ہوتا ہے جو اس کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment