Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Sunday, July 26, 2026

صلہ رحمی — رشتے ٹوٹتے نہیں، انسان ٹوٹ جاتے ہیں

#صلہ_رحمی
#اخلاق_سے_معاشرہ
#خود_احتسابی

صلہ رحمی — رشتے ٹوٹتے نہیں، انسان ٹوٹ جاتے ہیں
تحریر فیصل مقصود

انسان اپنی زندگی میں بے شمار رشتے بناتا ہے۔ کچھ مفاد کے ہوتے ہیں، کچھ ضرورت کے، اور کچھ وقت کے ساتھ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ مگر چند رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں انسان خود نہیں چنتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے سے عطا کرتا ہے۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ اور دیگر قرابت دار... یہ وہ نعمتیں ہیں جنہیں صرف خون نہیں، اللہ کے حکم نے جوڑا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انسان انہی رشتوں کی قدر سب سے آخر میں کرتا ہے، اور بعض اوقات اس وقت جب ان میں سے کوئی ہمیشہ کے لیے دنیا سے جا چکا ہوتا ہے۔

جدید انسان نے فاصلے کم کر لیے ہیں مگر دلوں کے درمیان دیواریں بلند کر لی ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے اجنبی سے گھنٹوں گفتگو ہو جاتی ہے، مگر ایک ہی شہر میں رہنے والے بھائی کو برسوں فون نہیں کیا جاتا۔ سوشل میڈیا پر محبت کے درس دینے والے لوگ، اپنے ہی رشتہ داروں کے نام سن کر لہجہ بدل لیتے ہیں۔ یہ ترقی نہیں، یہ تہذیب کے لباس میں روحانی زوال ہے۔ انسان چاند تک پہنچ گیا، مگر اپنے چچا کے دروازے تک نہ پہنچ سکا؛ اس نے دنیا فتح کر لی، مگر اپنے ہی خاندان کے دل ہار بیٹھا۔

اللہ تعالیٰ نے رشتہ داری کو صرف ایک معاشرتی تعلق نہیں بنایا بلکہ اپنی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور اللہ سے ڈرو، جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔" (سورۃ النساء: 1) گویا جو شخص رشتوں کی حرمت کو پامال کرتا ہے، وہ درحقیقت اس امانت کو کمزور کرتا ہے جسے اللہ نے اپنی مشیت سے قائم کیا ہے۔ اسی لیے قرآن میں بار بار ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے اور رشتہ داریاں توڑتے ہیں۔ (دیکھیے: سورۃ محمد، آیات 22–23)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی اور اس کی عمر میں برکت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) غور کیجیے، جس برکت کے لیے انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک دروازہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو قرار دیا۔ اور ایک دوسری صحیح حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "رشتہ جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں تعلق رکھے، بلکہ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ پھر بھی اسے جوڑے۔" (صحیح بخاری) یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی عبادت اس کی انا سے ٹکراتی ہے، اور اکثر لوگ عبادت کے بجائے انا کو بچا لیتے ہیں۔

شیطان خوب جانتا ہے کہ جس خاندان کے دل بکھر جائیں، اسے تباہ کرنے کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی لیے وہ معمولی بات کو انا، انا کو نفرت، اور نفرت کو نسلوں پر محیط دشمنی میں بدل دیتا ہے۔ پھر جائیداد کے تنازعات، وراثت کے جھگڑے، ایک تلخ جملہ یا معمولی سی غلط فہمی ایسی چنگاری بن جاتی ہے جو برسوں کی محبت، اعتماد اور خاندانی وقار کو راکھ میں بدل دیتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انسان اپنے دنیاوی حق کے لیے عدالتوں کے دروازے تو کھٹکھٹاتا ہے، مگر رشتہ داری کے ان حقوق کو بھلا دیتا ہے جنہیں ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔

ذرا قبرستان کا رخ کیجیے۔ وہاں ایسی بے شمار قبریں ملیں گی جن کے مکین کبھی ایک دوسرے سے ناراض تھے۔ آج نہ ان کی انا باقی ہے، نہ ان کا غصہ، نہ ان کی جائیداد، نہ ان کے دلائل۔ اگر کچھ باقی ہے تو صرف اعمال کا حساب۔ کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو آج اپنی ماؤں، باپوں، بھائیوں یا بہنوں کی قبروں پر کھڑے ہو کر دل ہی دل میں کہتے ہوں گے: "کاش! میں نے ایک بار معاف کر دیا ہوتا... کاش! میں نے ایک بار فون کر لیا ہوتا... کاش! میں نے تعلق جوڑ لیا ہوتا۔" مگر موت کے بعد "کاش" کبھی زندگی واپس نہیں لاتا۔

یاد رکھیے، صلہ رحمی دوسروں پر احسان نہیں بلکہ اپنی آخرت کی تعمیر ہے۔ معاف کرنا کمزور ہونا نہیں، بلکہ اپنے نفس پر غلبہ پانا ہے۔ پہل کرنا اپنی عزت کم کرنا نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں اپنا مقام بلند کرنا ہے۔ جو شخص اپنے رشتوں کو جوڑ لیتا ہے، وہ دراصل اپنے لیے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے، اور جو انہیں توڑ دیتا ہے، وہ اکثر یہ نہیں جانتا کہ اس نے اپنی زندگی کی کتنی برکتیں اپنے ہی ہاتھوں بند کر دی ہیں۔

آئیے، اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے، ہم اپنی انا سے ایک سوال کریں: اگر آج ہماری زندگی کا آخری دن ہو، تو کیا کوئی ایسا رشتہ ہے جسے ہم نے صرف اپنی ضد کی خاطر توڑ رکھا ہے؟ اگر جواب "ہاں" میں ہے تو شاید آج ہی وہ دن ہے جب ایک فون، ایک سلام، ایک معافی یا ایک ملاقات ہماری دنیا بھی بدل سکتی ہے اور ہماری آخرت بھی۔ کیونکہ رشتے ٹوٹنے سے پہلے انسان کے دل ٹوٹتے ہیں، اور جو دل اللہ کے لیے جڑ جائیں، ان پر آسمان بھی رحمت برساتا ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp