#فکر_و_شعور
#محاسبہ_نفس
#اخلاق_و_کردار
معاشرے میں عدم برداشت کیوں بڑھ رہی ہے؟
تحریر فیصل مقصود
کسی بھی معاشرے کی تباہی کا آغاز اس وقت نہیں ہوتا جب اس کی معیشت کمزور پڑ جائے یا اس کے شہر کھنڈرات میں بدل جائیں۔ زوال کی پہلی علامت وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے دل سے انسان کی قدر اٹھ جائے۔ اس کے بعد عمارتیں باقی رہتی ہیں، نظام باقی رہتے ہیں، ترقی کے دعوے بھی قائم رہتے ہیں، مگر انسانیت آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔
اختلاف ہمیشہ سے انسانی فطرت کا حصہ رہا ہے۔ خیالات مختلف رہے، نظریات الگ رہے، تہذیبیں جدا رہیں؛ مگر اختلاف اس وقت خطرہ بنتا ہے جب انسان اپنی رائے کو حقیقتِ مطلق اور دوسروں کی رائے کو گمراہی سمجھنے لگے۔ پھر وہ دلیل نہیں ڈھونڈتا، مخالف ڈھونڈتا ہے۔ اس کے لیے مکالمے سے زیادہ خاموش کرانا اہم ہو جاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں برداشت کا خاتمہ شروع ہوتا ہے۔
اس کیفیت کی جڑ صرف غصہ نہیں، بلکہ وہ انا ہے جو انسان کو اپنی کمزوریوں سے اندھا کر دیتی ہے۔ خود کو غلطیوں سے پاک سمجھتے سمجھتے وہ اس یقین تک پہنچ جاتا ہے کہ اسے دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ وہ لوگوں کے کردار، نیت، ایمان اور اخلاص پر رائے قائم کرتا ہے، اور بعض اوقات زندگی، موت، جنت اور جہنم جیسے معاملات پر بھی اپنی محدود عقل سے فیصلے صادر کرنے لگتا ہے۔ گویا اسے دلوں کے راز بھی معلوم ہیں اور انجام کا اختیار بھی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب بندہ اپنی حیثیت بھول کر اس مقام پر کھڑا ہونے لگتا ہے جو صرف ربِ کائنات کے شایانِ شان ہے۔
جب نفس منصف بن جائے تو انصاف زندہ نہیں رہتا۔ انسان دوسروں کی ایک لغزش کو ان کی پوری شخصیت بنا دیتا ہے، مگر اپنی خطاؤں کے لیے بے شمار تاویلات تراش لیتا ہے۔ وہ اپنے لیے رعایت چاہتا ہے، لیکن دوسروں کو مہلت دینا گوارا نہیں کرتا۔ یوں معاشرے سے اصلاح کا دروازہ بند اور انتقام کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
اسی سوچ کا اگلا مرحلہ انسانی جان کی بے قدری ہے۔ جب دلوں سے حرمتِ انسان ختم ہو جائے تو قتل صرف ہتھیار سے نہیں ہوتا۔ کردار کشی، جھوٹ، بہتان، تحقیر، نفرت، سماجی تنہائی اور زبان کے زخم بھی انسان کو اندر سے مار دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ سانس لیتے رہتے ہیں، مگر عزت، اعتماد اور امید سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہر قتل قبرستان تک نہیں پہنچاتا، کچھ قتل زندہ انسانوں کے اندر ہوتے رہتے ہیں۔
ہم ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں لوگوں کو دوسروں کے جینے سے زیادہ، ان کے اپنی مرضی کے مطابق جینے کی فکر ہے۔ اگر کوئی ہماری سوچ، ہمارے نظریے، ہمارے مسلک، ہماری سیاست یا ہمارے معیار سے مختلف ہو تو ہم اسے برداشت کرنے کے بجائے مسترد کر دیتے ہیں۔ اختلاف اب سیکھنے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ دشمنی پیدا کرنے کا ہتھیار بن چکا ہے۔ ہم نے مکالمے کی جگہ فیصلے، دلیل کی جگہ جذبات اور برداشت کی جگہ نفرت کو اختیار کر لیا ہے۔
اس صورتِ حال کی ایک اور سنگین وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر جھانکنا چھوڑ دیا ہے۔ دوسروں کی اصلاح ہمارا مشغلہ بن گئی ہے، جبکہ اپنے نفس کا محاسبہ ہمیں گوارا نہیں۔ جو شخص روز اپنے عیبوں کا حساب لیتا ہے، وہ دوسروں پر فیصلے سنانے میں جلدی نہیں کرتا؛ لیکن جو خود احتسابی سے محروم ہو جائے، وہی سب سے پہلے دوسروں کا قاضی بن جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کسی تہذیب کو صرف بیرونی دشمنوں نے تباہ نہیں کیا۔ بہت سی قومیں اپنے ہی رویوں، اپنی ہی نفرتوں اور اپنی ہی عدم برداشت کے بوجھ تلے بکھر گئیں۔ جب معاشرے میں اختلاف جرم بن جائے، سوال بغاوت سمجھا جائے، اور رائے رکھنے والا دشمن قرار پائے، تو پھر زوال کو روکنے کے لیے کوئی قانون، کوئی طاقت اور کوئی ترقی کافی نہیں رہتی۔
آخر میں سوال معاشرے سے زیادہ ہر فرد کے سامنے ہے۔ کیا ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں، یا صرف اپنے حق میں فیصلے؟ کیا ہمیں سچ سے محبت ہے، یا صرف اپنی بات کے درست ثابت ہونے سے؟ جب تک یہ سوال ہر انسان اپنے نفس سے نہیں پوچھے گا، عدم برداشت ختم نہیں ہوگی۔ کیونکہ معاشرے نفرت سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ اس لمحے بکھرنا شروع ہوتے ہیں جب ہر شخص اپنے آپ کو حق کا آخری معیار اور دوسروں کو فیصلے کا مستحق سمجھنے لگتا ہے۔ جس دن انسان اپنے اختیار کی حد پہچان لے، اپنے نفس کو کٹہرے میں کھڑا کرنا سیکھ لے اور دوسروں کے لیے وہی گنجائش چھوڑ دے جس کی توقع اپنے لیے رکھتا ہے، اسی دن ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment