#احترام_سے_رشتہ
#حقوق_زوجین
#ازدواجی_زندگی
میاں بیوی کا رشتہ محبت سے پہلے احترام کا رشتہ ہے
تحریر فیصل مقصود
میاں بیوی کا تعلق صرف دو انسانوں کا ساتھ نہیں بلکہ دو خاندانوں، دو تربیتوں اور دو زندگانیوں کا ملاپ ہے۔ اس رشتے کی بنیاد حسن، مال یا وقتی جذبات پر نہیں بلکہ احترام، رحمت، اعتماد اور احساسِ ذمہ داری پر قائم ہوتی ہے۔ جب احترام ختم ہونے لگے تو محبت بھی آہستہ آہستہ دم توڑ دیتی ہے، کیونکہ محبت بے عزتی کی مٹی میں پروان نہیں چڑھ سکتی۔
اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کو دنیا کے تمام رشتوں سے ممتاز کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔"
(سورۃ الروم: 21)
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہاں اللہ نے سکون، محبت اور رحمت رکھی ہو، وہاں اگر ذلت، تضحیک، چیخ و پکار اور انا نے جگہ بنا لی تو قصور رشتے کا نہیں بلکہ کردار کا ہے۔
قرآن کریم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا:
﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾
"وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔"
(سورۃ البقرۃ: 187)
لباس انسان کے عیب چھپاتا ہے، عزت کی حفاظت کرتا ہے اور سرد و گرم سے بچاتا ہے۔ لباس کبھی اپنے پہننے والے کو لوگوں کے سامنے رسوا نہیں کرتا۔ افسوس! آج بعض لوگ اپنے شریکِ حیات کے عیب دوسروں کے سامنے بیان کرنے کو حق سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن کے بیان کردہ "لباس" کے مفہوم کے بالکل برعکس چل رہے ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔"
(جامع الترمذی: 3895، صحیح)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان کی اصل شرافت بازار، دفتر یا محفل میں نہیں، بلکہ اس کے اپنے گھر میں ظاہر ہوتی ہے۔ جو شخص باہر خوش اخلاق اور گھر میں سخت مزاج ہو، وہ نبی ﷺ کے معیارِ اخلاق پر پورا نہیں اترتا۔
کتنی تلخ حقیقت ہے کہ بعض لوگ اپنے دوستوں سے ادب سے بات کرتے ہیں، اجنبیوں کے سامنے مسکراتے ہیں، مگر اپنے شریکِ حیات کے لیے ان کے لہجے میں سختی، تحقیر اور طنز کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ وہ ظلم ہے جو اکثر زبان سے شروع ہوتا ہے اور دلوں کے ٹوٹنے پر ختم ہوتا ہے۔
اختلاف ہر رشتے میں آتا ہے۔ اختلاف انبیاء کی قوموں میں بھی ہوا، حکمرانوں میں بھی ہوتا ہے، خاندانوں اور معاشروں میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسرے کے خاندان کو برا بھلا کہنا شروع کر دے، اس کی عزت اچھالے یا اس کے والدین کو نشانہ بنائے۔ یاد رکھیں! ایک شخص کو دی گئی گالی اکثر کئی بے گناہ دلوں کو زخمی کر دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش گو اور نہ بدزبان۔"
(جامع الترمذی: 1977، صحیح)
جو زبان ہر جھگڑے میں عزتیں اچھالنے لگے، وہ صرف الفاظ نہیں بولتی بلکہ اعتماد، محبت اور سکون کو دفن کرتی جاتی ہے۔
رشتہ نبھانا صرف محبت کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کا نام بھی ہے۔ انا ہر جنگ جیت سکتی ہے، مگر کبھی کوئی گھر آباد نہیں کر سکتی۔ جس گھر میں ہر شخص اپنی انا بچانے میں لگا رہے، وہاں محبت روز تھوڑی تھوڑی مرنے لگتی ہے۔ بعض اوقات لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بحث جیت گئے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنا گھر ہار چکے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
"اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔"
(سورۃ النساء: 19)
یہ آیت صرف مردوں کو نہیں سکھاتی کہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، بلکہ پورے ازدواجی نظام کی بنیاد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ معروف، یعنی بھلائی، عزت، نرمی اور انصاف کا معاملہ کریں۔
یاد رکھیں! خوش قسمت وہ نہیں جسے بے عیب شریکِ حیات مل جائے، بلکہ خوش قسمت وہ ہے جو اختلاف کے باوجود احترام کو زندہ رکھے، غصے میں بھی انصاف کرے، اور ناراضی میں بھی دوسرے کی عزت پر حرف نہ آنے دے۔ کیونکہ محبت صرف دلوں سے نہیں چلتی، بلکہ کردار، صبر، معافی اور احترام سے زندہ رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے سکون، رحمت اور لباس بننے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی زبانوں کو ایک دوسرے کی عزت کی محافظ بنائے، اور ہر گھر کو محبت، حلم اور تقویٰ کا گہوارہ بنا دے۔ آمین۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment