Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Thursday, July 30, 2026

جب دل مر جائیں تو بستیاں آباد نہیں رہتیں

#توحید
#سنت
#خدمت_انسانیت

جب دل مر جائیں تو بستیاں آباد نہیں رہتیں
تحریر فیصل مقصود

بارشوں کے ان دنوں میں ایک پیغام موصول ہوا۔ لکھا تھا: "گھر کی کچی چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہے، دیواریں کمزور ہو چکی ہیں، بچوں کو ہر لمحہ خوف رہتا ہے، بہت سے دروازے کھٹکھٹائے مگر ہر طرف خاموشی اور بےحسی ملی۔" یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک ایسی تصویر ہے جو شاید ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ آج بہت سے لوگ غربت سے پہلے بےحسی کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔

افسوس اس بات کا نہیں کہ ہر شخص لاکھوں روپے خرچ نہیں کر سکتا، افسوس اس بات کا ہے کہ جن لوگوں کے پاس مہنگے کھانے، نئی گاڑیاں، قیمتی موبائل، سونا چاندی اور ہر آسائش کے لیے وسائل موجود ہیں، وہی بعض اوقات اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے میں تنگ دل ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا بھی حق ہے۔" (سورۃ الذاریات: 19)۔ یاد رکھیے! مال صرف نعمت نہیں، امانت بھی ہے، اور اس امانت میں محتاجوں کا حق شامل ہے۔

ہم تک روزانہ ایسے بےشمار معاملات پہنچتے ہیں کہ کبھی اپنی بےبسی کا احساس بھی ہونے لگتا ہے۔ کہیں کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ ہے، کہیں کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی فراڈ کی نذر ہو چکی ہے، کہیں سسرال کے مظالم ہیں، کہیں جہیز کی لعنت نے ایک بیٹی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، اور کہیں کوئی اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے تنہا جدوجہد کر رہا ہے۔ تحقیق کی جائے تو اکثر واقعی مستحق ہوتے ہیں، مگر وسائل محدود ہوتے ہیں۔ تب احساس ہوتا ہے کہ اس امت کو صرف دولت مند لوگوں کی نہیں، درد مند دلوں کی بھی ضرورت ہے۔

کبھی کبھی دل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر ایک مظلوم اور مجبور انسان توحید پر قائم رہتے ہوئے صبر اور اللہ پر توکل اختیار کرے تو شاید قیامت کے دن اس کی یہی آزمائشیں اس کے درجات کی بلندی کا سبب بن جائیں۔ لیکن جن لوگوں کے دروازوں پر وہ دستک دیتا رہا، وہ بھی ایک دن اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ وہاں نہ دولت کام آئے گی، نہ شہرت، نہ منصب؛ وہاں صرف اعمال اور حقوق العباد کا حساب ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔" (سنن ترمذی)۔ یہ صرف ایک حدیث نہیں، بلکہ پوری انسانی زندگی کا اصول ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہاری لغزشوں کو معاف کرے، تمہاری مشکلات آسان کرے اور تم پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے، تو پہلے تم بھی اس کی مخلوق کے لیے اپنے دل، اپنے گھر اور اپنے مال کے دروازے کھول دو۔ یقین رکھو! اللہ کی راہ میں دیا گیا ایک روپیہ، ایک لمحہ، ایک کوشش اور ایک آنسو بھی اس کے ہاں کبھی ضائع نہیں جاتا۔

لوگوں کے دکھ سننا، ان کی آواز بننا اور ان کی مشکلات کے حل کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنا ہی حقیقی انسانیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔" (صحیح مسلم)۔ اگر تم پوری دنیا نہیں بدل سکتے تو ایک گھر کا سہارا بن جاؤ، اگر ایک شہر نہیں سنوار سکتے تو ایک گلی میں خیر عام کر دو، اگر ہزاروں لوگوں کی مدد ممکن نہیں تو صرف ایک انسان کا ہاتھ ہی تھام لو۔ ہوسکتا ہے اللہ اسی ایک عمل کو تمہاری نجات کا ذریعہ بنا دے۔

ہر سال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا تذکرہ سنتے ہو، ان کی اطاعت پر آنکھیں نم کرتے ہو، مگر کیا کبھی ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں بھی جگہ دی؟ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی خواہشات، اپنے بخل، اپنی خود غرضی، اپنی انا اور دنیا کی بےجا محبت کو اللہ کے حکم کے سامنے قربان کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہمارے کردار میں ایثار پیدا نہ ہو تو محض واقعات سن لینے سے نہ معاشرے بدلتے ہیں اور نہ انسان۔

اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے ایک سوال ضرور کیجیے۔ کیا ہمارا دل دوسروں کے درد پر دھڑکتا ہے؟ کیا ہم قرآن صرف ثواب کے لیے پڑھتے ہیں یا ہدایت کے لیے بھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دیکھتے بھی ہیں مگر عبرت حاصل نہیں کرتے، سنتے بھی ہیں مگر عمل نہیں کرتے، جانتے بھی ہیں مگر بدلنا نہیں چاہتے؟ قرآن ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے: "ان کے دل ہیں مگر ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں۔" (سورۃ الاعراف: 179)

اللہ کا قرآن، انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہر روز ہمیں رحم، عدل، ایثار، خدمت، امانت اور حقوق العباد کا سبق دیتی ہیں۔ مگر افسوس! ہم ان کی باتیں تو کرتے ہیں، ان کے واقعات تو سناتے ہیں، ان کے نام پر محفلیں بھی سجاتے ہیں، لیکن ان کے کردار کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دیتے۔ اگر تعلیمات زبان پر رہ جائیں اور کردار تک نہ پہنچیں تو پھر علم بھی دلیل نہیں بنتا بلکہ حجت بن جاتا ہے۔

یاد رکھو! قیامت کے دن تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے بینک اکاؤنٹ میں کتنی رقم تھی، تمہارے پاس کتنی جائیداد تھی یا تمہاری دنیاوی حیثیت کیا تھی۔ تم سے یہ پوچھا جائے گا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے تم نے اس کے بندوں کا حق کتنا ادا کیا؟ کتنے آنسو پونچھے؟ کتنے مظلوموں کی آواز بنے؟ کتنے بےسہاروں کو سہارا دیا؟ کتنے بھوکے پیٹ بھرے؟ اور کتنے دلوں میں امید پیدا کی؟

اس لیے زندگی کی آخری سانس تک خیر کا چراغ جلائے رکھو۔ اگر تم ایک انسان کی زندگی میں آسانی پیدا کر سکے، ایک گھر کو گرنے سے بچا سکے، ایک یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ سکے، ایک مظلوم کو انصاف دلا سکے یا ایک پریشان دل میں امید جگا سکے تو یقین رکھو، تمہاری یہ کوششیں زمین پر شاید چھوٹی دکھائی دیں، مگر آسمانوں میں ان کی قدر بہت بڑی ہوگی۔ کیونکہ زندہ وہ نہیں جس کی صرف سانسیں چل رہی ہوں، زندہ وہ ہے جس کے وجود سے اللہ کی مخلوق کو خیر پہنچتی رہے، اور یہی انبیائے کرام علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا حقیقی عکس ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp