Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Friday, July 31, 2026

آخر، سکون کہاں ملا!

#آخر_سکون_کہاں_ملا
#ذکر_اللہ
#راہ_ہدایت

آخر، سکون کہاں ملا!
تحریر فیصل مقصود

مجھے اکثر بےچینی گھیر لیتی تھی۔ دل گھبرانے لگتا، ماحول سے اکتاہٹ ہونے لگتی، زندگی بےمعنی اور ہر چیز بےمقصد سی محسوس ہوتی۔ ایسا لگتا جیسے جسم تو زندہ ہے مگر روح کہیں خاموش ہو چکی ہے۔ میں سمجھ نہیں پاتا تھا کہ آخر وہ کون سی کمی ہے جو دل کو ہر وقت بےقرار رکھتی ہے۔

اسی بےچینی سے فرار حاصل کرنے کے لیے کبھی لانگ ڈرائیو پر نکل جاتا۔ جب تک سفر جاری رہتا، راستے، ہوائیں اور بدلتے ہوئے مناظر ذہن کو وقتی آزادی کا احساس دلاتے۔ مگر جیسے ہی گاڑی رُکتی، وہی بےچینی، وہی اداسی اور وہی اندر کا خلا دوبارہ میرے سامنے آ کھڑا ہوتا۔ تب احساس ہوا کہ سکون راستوں میں نہیں، دل کی کیفیت میں پوشیدہ ہے۔

پھر میں نے اس تسلسل کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی ذمہ داریوں پر نظر ڈالی، جہاں کوتاہی محسوس ہوئی اسے پورا کرنے کی کوشش کی۔ فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیا، خیر کے کاموں میں وقت صرف کیا اور اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اندر کچھ بدلنا شروع ہوا۔

آہستہ آہستہ دل کی ویرانی ختم ہونے لگی۔ وہ اداسی جو زندگی کا مستقل حصہ بنتی جا رہی تھی، خود ہی کم ہونے لگی۔ جسم پر چھایا بوجھ ہلکا ہونے لگا اور دل کو ایک ایسا سکون نصیب ہوا جو نہ کسی سفر میں ملا تھا، نہ کسی تفریح میں اور نہ ہی دنیا کی کسی ظاہری آسائش میں۔

تب مجھے قرآن کی یہ آیت پہلے سے کہیں زیادہ سمجھ آنے لگی: ﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ "خبردار! دلوں کا اطمینان تو صرف اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد: 28)۔ حقیقت یہی ہے کہ جو دل اپنے رب سے دور ہو جائے، دنیا کی ہر نعمت بھی اس کی بےچینی ختم نہیں کر سکتی۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے جنت کیسی بنائی ہوگی؛ ایک ایسی جگہ جہاں نہ کوئی غم ہوگا، نہ خوف، نہ پریشانی، نہ حسرت، نہ تھکن۔ انسان ہر فکر سے آزاد ہو کر اپنے رب کی رضا اور ہمیشہ کی نعمتوں میں زندگی گزارے گا۔ یہی وہ حقیقی منزل ہے جس کے لیے ہر مومن جدوجہد کرتا ہے۔

یہ دنیا چند برس کی آزمائش ہے، ہمیشہ کی رہائش نہیں۔ اگر ہم اپنی خواہشات کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے تابع کر دیں، خیر کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیں اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لیں، تو وہ سکون نصیب ہوتا ہے جس کی تلاش میں انسان پوری دنیا چھان مارتا ہے۔

یاد رکھیں!
سکون دولت میں نہیں، رب کی اطاعت میں ہے۔
سکون شہرت میں نہیں، خیر کے کاموں میں ہے۔
سکون خواہشات کی تکمیل میں نہیں، اللہ کے فیصلوں پر رضا میں ہے۔
سکون اللہ کے کلام میں ہے، نبی کریم ﷺ کی سنت میں ہے، اور حقیقی اطمینان اسی دل کا مقدر بنتا ہے جو اپنے رب سے جڑ جاتا ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp