Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Saturday, August 1, 2026

سائیاں کتھے تے ودھائیاں کتھے (قسط اول)

#وفاداری_ہی_اصل_محبت
#حقوق_الزوجین
#گھر_سکون_سے_آباد_ہوتے_ہیں

سائیاں کتھے تے ودھائیاں کتھے
تحریر فیصل مقصود

(قسط اول: کردار کا امتحان، دعووں کا نہیں)

بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان ان کی شخصیت، گفتگو اور رکھ رکھاؤ سے متاثر ہو جاتا ہے۔ محفل میں ان کا وقار، لوگوں میں ان کا اثر و رسوخ اور زبان میں اعتماد دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ شخص اپنی ذات میں ایک مکمل کردار ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے کپڑوں، عہدے یا تعلقات سے نہیں بلکہ اس کے کردار، امانت اور تنہائی کے اعمال سے ہوتی ہے۔ جہاں کسی کی نگاہ سے دنیا اوجھل ہو جائے، وہاں سے اس کے اصل انسان ہونے کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

ہمارے ایک جاننے والے بھی ایسے ہی تھے۔ ظاہری شخصیت اچھی، لوگوں سے میل جول وسیع، سرکاری محکمے میں اچھی خاصی پہنچ، ہر طبقے کے لوگوں سے تعلقات، اور جہاں بیٹھتے محفل کو گرم رکھ دیتے۔ مقصد کسی ایک فرد کی برائی کرنا نہیں بلکہ اس سوچ کی نشاندہی کرنا ہے جو آج افسوس کے ساتھ معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے۔

موصوف زیادہ تعلیم یافتہ تو نہ تھے، مگر تعلقات بنانے کے ہنر میں خود کو بڑا ماہر سمجھتے تھے۔ جہاں کسی خاتون کو دیکھا، وہاں گفتگو کا راستہ تلاش کرنا، نمبر لینا، پیغام بھیجنا، یا کسی نہ کسی بہانے رابطہ قائم کرنے کی کوشش ان کی عادت بن چکی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی دونوں میں اتنی مہارت ضرور آ گئی کہ مختلف لوگوں سے بات چیت آسان ہو گئی، مگر افسوس کہ زبان تو بہتر ہوتی گئی، کردار ویسا ہی رہا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اختیار، عہدہ اور تعلقات انسان کے لیے آزمائش ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ان نعمتوں کو لوگوں کی خدمت کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ کچھ انہیں اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ جس دن اختیار کے ساتھ تقویٰ ختم ہو جائے، اسی دن انسان اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے۔

پھر وہی ہوا جو اکثر ایسے راستوں کا انجام ہوتا ہے۔ چند ماہ قبل پہلی اہلیہ کو شوہر کی متعدد خواتین سے ہونے والی گفتگو کا علم ہو گیا۔ ایک دو نہیں بلکہ کئی چیٹس، کئی رابطے اور کئی وعدے سامنے آ گئے۔ موبائل صرف ایک آلہ نہیں رہا، بلکہ شوہر کے کردار کا آئینہ بن گیا۔ گھر میں تلخی پیدا ہوئی، اعتماد ٹوٹا، اور وہ سکون جو برسوں میں بنتا ہے، چند لمحوں میں بکھر گیا۔

غصے میں موبائل بھی ٹوٹا، سخت جملے بھی ادا ہوئے، اور شوہر کو اپنی حرکتوں کا جواب بھی دینا پڑا۔ آخرکار صلح ہوئی، معافیاں مانگی گئیں، وعدے کیے گئے کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر توبہ صرف زبان سے ہو اور دل خواہشات سے چمٹا رہے تو وعدے زیادہ دیر زندہ نہیں رہتے۔

کچھ عرصہ گزرا، اور موصوف نے پھر وہی راستہ اختیار کر لیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس مرتبہ زیادہ احتیاط سے، زیادہ رازداری سے اور زیادہ چالاکی کے ساتھ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان دوسروں کو نہیں، سب سے پہلے خود کو دھوکہ دیتا ہے۔ کیونکہ انسان موبائل کا پاس ورڈ تو بدل سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وہ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔" (سورۃ غافر: 19)

یہ آیت صرف زنا کے بارے میں نہیں بلکہ ہر اس نگاہ، ہر اس پیغام، ہر اس خفیہ تعلق اور ہر اس نیت پر بھی لاگو ہوتی ہے جو اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جائے۔ انسان دنیا سے تو چھپ سکتا ہے، اپنے شریکِ حیات سے بھی چھپ سکتا ہے، مگر اپنے رب سے نہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض مرد اپنی بیوی کے موبائل، لباس، آنے جانے اور تعلقات پر سخت نظر رکھتے ہیں، مگر خود اپنے اعمال کا حساب نہیں کرتے۔ اپنی بیٹی کے لیے غیرت جاگتی ہے، مگر دوسروں کی بیٹیوں سے بے تکلف گفتگو کرتے ہوئے ضمیر خاموش رہتا ہے۔ اپنی بہن کے لیے احترام چاہتے ہیں، مگر کسی اور کی بہن کو محض وقت گزاری کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہی دراصل کردار کی کمزوری ہے۔

اسلام نے مرد کو قوام بنایا ہے، مالک نہیں؛ ذمہ دار بنایا ہے، خود مختار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔" (سورۃ النساء: 34)

اس آیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد جو چاہے کرے اور عورت صرف برداشت کرتی رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد سب سے پہلے اپنے نفس، اپنی نگاہ، اپنی زبان اور اپنے کردار کا محافظ بنے۔ جس شخص کی اپنی نگاہ محفوظ نہ ہو، وہ اپنے گھر کی حفاظت کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟

یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، اور وہ شریعت کی مقرر کردہ شرائط یعنی عدل، مالی استطاعت اور ذمہ داری پوری کر سکتا ہے، تو اسلام نے اس کا راستہ بند نہیں کیا۔ لیکن خفیہ تعلقات، ناجائز چیٹنگ، جذباتی وابستگیاں، تصاویر کا تبادلہ، جھوٹ اور دھوکہ کبھی بھی دوسری شادی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ حلال راستہ ہمیشہ واضح ہوتا ہے، حرام راستہ ہمیشہ اندھیروں میں تلاش کیا جاتا ہے۔

یاد رکھیں! بے وفائی صرف جسم سے نہیں ہوتی، نگاہ سے بھی ہوتی ہے، زبان سے بھی، پیغام سے بھی اور نیت سے بھی۔ جب انسان اپنے شریکِ حیات کے اعتماد کو توڑتا ہے تو وہ صرف ایک دل نہیں توڑتا، بلکہ اپنے گھر کی بنیاد میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔ اور جس گھر کی بنیاد اعتماد کے بجائے جھوٹ پر رکھی جائے، وہاں سکون زیادہ دیر مہمان نہیں رہتا۔

(جاری ہے...)

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp