#وفاداری_ہی_اصل_محبت
#حقوق_الزوجین
#گھر_سکون_سے_آباد_ہوتے_ہیں
سائیاں کتھے تے ودھائیاں کتھے
تحریر فیصل مقصود
(قسط دوم: بے وفائی کی قیمت صرف دو لوگ نہیں چکاتے)
پہلی قسط میں گفتگو ان مردوں پر ہوئی جو اپنی بیوی سے وفاداری کی توقع تو رکھتے ہیں، مگر خود دوسروں کے گھروں میں جھانکنے کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ خرابی صرف مردوں میں ہے تو یہ بھی حقیقت سے انصاف نہیں ہوگا۔ گناہ کا نہ کوئی جنس ہوتی ہے اور نہ ہی وفاداری کا کوئی الگ معیار۔ اللہ کے نزدیک مرد بھی جواب دہ ہے اور عورت بھی۔ جس نے بھی اس کی حدود کو توڑا، نقصان سب سے پہلے اسی نے اٹھایا۔
آج بعض خواتین بھی ایسی ہیں جو شوہر کی موجودگی میں غیر مردوں سے غیر ضروری گفتگو کو معمول سمجھتی ہیں۔ ابتدا اکثر بے ضرر دکھائی دیتی ہے۔ ایک رسمی سلام، پھر خیریت، پھر روزمرہ کی باتیں، پھر دل کی باتیں، اور پھر وہ مرحلہ آ جاتا ہے جہاں شیطان انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ "ہم تو صرف اچھے دوست ہیں۔"
حالانکہ شیطان کبھی انسان کو ایک ہی قدم میں گناہ تک نہیں لے جاتا، بلکہ آہستہ آہستہ حدود مٹاتا ہے۔ پہلے حیا کم ہوتی ہے، پھر احتیاط ختم ہوتی ہے، پھر ضمیر خاموش ہو جاتا ہے، اور آخرکار انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنا غلط ہونا بھی غلط محسوس نہیں ہوتا۔
قرآن کریم نے اسی لیے صرف زنا سے نہیں روکا بلکہ فرمایا:
"اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔" (سورۃ الإسراء: 32)
اللہ تعالیٰ نے "زنا نہ کرو" نہیں فرمایا بلکہ "اس کے قریب بھی نہ جاؤ" فرمایا۔ یعنی وہ ہر راستہ بند کر دیا جو آخرکار انسان کو اس گناہ تک پہنچا دے۔ ناجائز تعلقات، خفیہ گفتگو، جذباتی وابستگی، تنہائی میں رابطے، اور اعتماد کی خیانت، یہ سب اسی راستے کے ابتدائی قدم ہو سکتے ہیں۔
میں ایک ایسا واقعہ جانتا ہوں جسے یاد کر کے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ ایک شادی شدہ عورت نے ایک غیر مرد سے تعلق قائم کیا۔ ابتدا شاید صرف بات چیت سے ہوئی ہوگی، پھر تعلق بڑھا، پھر شوہر اس تعلق کی راہ میں رکاوٹ محسوس ہونے لگا۔ خواہشات نے عقل کو مات دی، اور آخرکار ایسا وقت آیا کہ اپنے ہی شوہر کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔
یہ صرف ایک قتل نہیں تھا۔ یہ ایک شوہر کا قتل، ایک خاندان کا قتل، ایک گھر کے سکون کا قتل اور معصوم بچوں کے مستقبل کا قتل تھا۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ شوہر کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی وہ عورت اسی شخص کے ساتھ تعلق میں رہی۔ بچے سب کچھ دیکھتے رہے۔ جو ماں ان کے لیے احترام، محبت اور تحفظ کی علامت ہونی چاہیے تھی، وہ ان کی نظروں میں ایک ایسا کردار بن گئی جس پر اعتماد باقی نہ رہا۔
وقت گزرا، عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا، سزا ہوئی، قید ہوئی۔ مگر دنیا کی ہر سزا ایک دن ختم ہو جاتی ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا بچوں کے دلوں میں ٹوٹا ہوا اعتماد واپس آ سکتا تھا؟
جب وہ عورت جیل سے رہا ہوئی تو قانون نے اسے آزادی دے دی، مگر اس کے اپنے بچوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اپنی ماں کی تحویل میں جانے سے صاف انکار کر دیا۔ یہ فیصلہ کسی جج نے نہیں بلکہ ان زخمی دلوں نے کیا تھا جن سے بچپن، باپ کا سایہ اور ماں کا احترام ایک ساتھ چھن گیا تھا۔
یہ واقعہ صرف ایک عورت کی نمائندگی نہیں کرتا، جیسے پہلی قسط کا واقعہ تمام مردوں کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔ لیکن دونوں واقعات ایک حقیقت ضرور سکھاتے ہیں کہ جب خواہشات، اللہ کے حکم سے بڑی ہو جائیں تو انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
شوہر اپنے گھر کا نگہبان ہے، اور بیوی بھی اپنے شوہر کے گھر اور اولاد کی نگہبان ہے۔ جب نگہبان ہی امانت میں خیانت کرنے لگے تو پھر گھر کی حفاظت کون کرے گا؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ "یہ میری ذاتی زندگی ہے۔" مگر حقیقت یہ ہے کہ شادی کے بعد انسان کی زندگی صرف اس کی ذاتی نہیں رہتی۔ اس کے ہر فیصلے سے اس کا شریکِ حیات، اس کی اولاد، اس کے والدین، اس کا خاندان اور کبھی کبھی پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ ایک لمحے کی غلطی کئی نسلوں کی آزمائش بن سکتی ہے۔
اسی لیے اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ کردار کا دین بھی ہے۔ نماز، روزہ اور حج اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اگر انسان امانت، وفاداری، حیا اور اعتماد کی حفاظت نہ کرے تو اس کے کردار میں وہ خوبصورتی پیدا نہیں ہوتی جو ایک مومن کی پہچان ہونی چاہیے۔
یاد رکھیں، بے وفائی کا سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ راز کھل جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ اپنے رب سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اور جس دل سے اللہ کا خوف نکل جائے، وہاں نہ رشتے محفوظ رہتے ہیں، نہ عزت، نہ سکون اور نہ محبت۔
(جاری ہے...)
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment