#وفاداری_ہی_اصل_محبت
#حقوق_الزوجین
#گھر_سکون_سے_آباد_ہوتے_ہیں
سائیاں کتھے تے ودھائیاں کتھے
تحریر فیصل مقصود
(قسط سوم: سکون، وفاداری اور اللہ کی تقسیم پر رضا)
پہلی دو اقساط میں ہم نے دو مختلف واقعات کا ذکر کیا۔ ایک طرف وہ مرد تھا جو اپنی بیوی کی موجودگی میں دوسروں سے تعلقات بنانے کو اپنی ذہانت سمجھتا رہا، اور دوسری طرف وہ عورت تھی جس نے اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے چلتے اپنے ہی گھر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ دونوں واقعات الگ تھے، مگر انجام ایک جیسا تھا؛ اعتماد ٹوٹ گیا، رشتے بکھر گئے اور سکون چھن گیا۔
یہاں رک کر خود سے ایک سوال ضرور کیجیے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ کی عطا کردہ نعمتیں کم اور دوسروں کی نعمتیں زیادہ خوبصورت نظر آنے لگتی ہیں؟ آخر وہ کون سی آگ ہے جو ایک آباد گھر کو بھی بے رنگ بنا دیتی ہے؟
اس کا جواب قرآن کریم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔"
(سورۃ النساء: 32)
یہ آیت صرف مال یا منصب کے بارے میں نہیں، بلکہ زندگی کی ہر نعمت پر لاگو ہوتی ہے۔ دوسروں کا حسن، دوسروں کی دولت، دوسروں کی ازدواجی زندگی یا دوسروں کی شخصیت دیکھ کر اپنی زندگی سے نفرت کرنا شیطان کا وہ دروازہ ہے جہاں سے ناشکری جنم لیتی ہے۔
شیطان نے حضرت آدمؑ کو بھی سب سے پہلے کسی گناہ پر آمادہ نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں یہ احساس دلایا تھا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے، اس سے بہتر بھی موجود ہے۔ یہی شیطانی طریقہ آج بھی زندہ ہے۔ وہ تمہیں تمہارے شریکِ حیات کی خامیاں دکھاتا ہے اور دوسروں کی خوبیاں۔ وہ تمہیں اپنے گھر کی کمزوریاں دکھاتا ہے اور دوسروں کے گھروں کی مصنوعی چمک۔
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے اس فتنے کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ چند تصاویر، چند مسکراہٹیں، چند دلکش جملے اور چند فلٹرز دیکھ کر انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ دوسروں کی زندگی اس کی زندگی سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے، حالانکہ ہر تصویر کے پیچھے ایک ایسی کہانی بھی ہوتی ہے جو دنیا کو دکھائی نہیں جاتی۔
اسی لیے میاں بیوی کا رشتہ موازنہ نہیں بلکہ شکر کا رشتہ ہے۔ جو شخص ہر وقت اپنے شریکِ حیات کا دوسروں سے موازنہ کرتا رہے، وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی آپ سے زیادہ خوبصورت، زیادہ مالدار، زیادہ تعلیم یافتہ یا زیادہ بااثر ہوگا۔ اگر موازنہ ہی معیار بن جائے تو پھر کسی انسان کو کبھی سکون نصیب نہیں ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال، حسب، حسن اور دین کی وجہ سے۔ پس دین والی کو اختیار کرو، تم کامیاب رہو گے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہی اصول عورت کے لیے بھی ہے کہ اگر وہ اپنے شوہر میں دین، امانت، محنت اور اچھا کردار دیکھے تو معمولی دنیاوی کمیوں کو بنیاد بنا کر ناشکری نہ کرے۔ اسی طرح مرد بھی صرف ظاہری حسن کو معیار نہ بنائے بلکہ اس عورت کی قدر کرے جو اس کے گھر، اس کی اولاد اور اس کی عزت کی حفاظت کرتی ہے۔
اگر کسی مرد کے لیے دوسری شادی کی واقعی ضرورت پیدا ہو، اور وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ شرط یعنی عدل کو پورا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن یہ اجازت کبھی بھی دھوکے، خفیہ تعلقات، جھوٹ، ناجائز چیٹنگ یا بے وفائی کا جواز نہیں بنتی۔ حلال راستہ ہمیشہ واضح ہوتا ہے، جبکہ حرام راستہ ہمیشہ اندھیروں میں اختیار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے شکایت ہے، وہ اس کے حقوق ادا نہیں کرتا، ظلم کرتا ہے یا زندگی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، تو اسلام نے اس کے لیے بھی باوقار راستے رکھے ہیں؛ نصیحت، مصالحت، خاندان کی مداخلت، اور ضرورت پڑنے پر علیحدگی تک۔ لیکن کسی غیر مرد سے خفیہ تعلق قائم کرنا کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں۔
ایک لمحے کے لیے اپنی اولاد کے بارے میں بھی سوچیں۔ بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں نصیحت میں کہتے ہیں، بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں جھوٹ ہوگا، خیانت ہوگی، چیخ و پکار ہوگی، ایک دوسرے کی بے عزتی ہوگی، تو یہی سب ان کی شخصیت کا حصہ بن جائے گا۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ نئی نسل میں برداشت، احترام اور وفاداری کیوں ختم ہو رہی ہے، جبکہ اس کی پہلی درسگاہ تو ہمارا اپنا گھر تھا۔
یاد رکھیے، وفاداری صرف اس وقت وفاداری نہیں ہوتی جب حالات اچھے ہوں۔ اصل وفاداری وہ ہے جو آزمائش، تنگی، بیماری، مالی مشکلات اور اختلافات کے باوجود قائم رہے۔ محبت صرف جذبات کا نام نہیں، بلکہ روزانہ کیے جانے والے درست فیصلوں کا نام ہے۔ ہر روز اپنی نگاہ، اپنی زبان، اپنے موبائل، اپنے تعلقات اور اپنے نفس کی حفاظت کرنا ہی اصل محبت ہے۔
آخر میں صرف ایک بات۔
اگر تم اللہ کی تقسیم پر راضی رہو گے تو دل میں سکون پیدا ہوگا۔ اگر اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو دیکھو گے تو محبت بڑھے گی۔ اگر اس کی خامیوں پر صبر کرو گے تو گھر مضبوط ہوگا۔ اگر اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع رکھو گے تو عزت بھی ملے گی اور برکت بھی۔
لیکن اگر تم دوسروں کے گھروں میں خوشیاں تلاش کرتے پھرو گے، دوسروں کی زندگیوں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرتے رہو گے، اور وقتی خواہشات کو دائمی رشتوں پر ترجیح دو گے، تو شاید چند لمحوں کی لذت تو مل جائے، مگر برسوں کا سکون کھو بیٹھو گے۔
یاد رکھو!
جو رشتہ اللہ کے نام پر قائم ہوتا ہے، اسے خواہشات نہیں بلکہ وفاداری زندہ رکھتی ہے۔
جو گھر سچائی، حیا، احترام اور تقویٰ پر قائم ہو، وہاں رزق کم بھی ہو تو سکون زیادہ ہوتا ہے۔
اور آخر میں یہی کہنا چاہوں گا:
نعمتوں کی قدر کرنا سیکھو، کیونکہ جب انسان نعمت کی قدر چھوڑ دیتا ہے تو اکثر وہ نعمت بھی اس سے چھن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے نفس کی اصلاح، اپنے گھروں کی حفاظت، اپنے شریکِ حیات کے حقوق ادا کرنے، اور اپنی اولاد کے لیے بہترین نمونہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment