Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, August 5, 2026

ضرورت کی مٹھاس اور کردار کی پہچان

#خلوص
#وعدے_کی_پاسداری
#معاملات_کی_دیانت

ضرورت کی مٹھاس اور کردار کی پہچان
تحریر فیصل مقصود

لوگ اگر ضرورت کے وقت اختیار کی جانے والی مٹھاس، عاجزی، خلوص اور احترام کو صرف وقتی ہتھیار بنانے کے بجائے ہمیشہ کا مزاج بنا لیں، منافقت اور مطلب پرستی کو چھوڑ دیں، تو شاید اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں بھی ایسی برکت عطا فرمائے جس کا حساب صرف اعداد سے نہیں بلکہ سکون، عزت اور اعتماد سے لگایا جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی اخلاقیات بھی ان کی ضرورت کی طرح عارضی ہوتی ہیں۔ جب تک مطلب باقی رہتا ہے لہجہ بھی نرم رہتا ہے، اور جیسے ہی مقصد پورا ہوتا ہے، وہی زبان بدل جاتی ہے، وہی تعلق سرد پڑ جاتا ہے اور وہی خلوص بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

اصل کردار اس وقت ظاہر نہیں ہوتا جب انسان کو کسی سے کام ہو، بلکہ اس وقت بے نقاب ہوتا ہے جب اسے کسی کی ضرورت باقی نہ رہے۔ اگر کامیابی، دولت یا مقصد حاصل ہونے کے بعد بھی انسان کا لہجہ، رویہ، احترام اور تعلق ویسا ہی رہے جیسا ضرورت کے دنوں میں تھا، تب سمجھیں کہ اس نے اخلاق نہیں، کردار کمایا ہے۔ ورنہ ضرورت کے وقت جھک جانا کوئی کمال نہیں، اصل امتحان تو اختیار ملنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

ہمارے ایک کاروباری دوست اور شراکت دار جب کسی ایسے شخص سے لین دین کرتے ہیں جو مالی تنگی یا مجبوری میں اپنی جائیداد فروخت کر رہا ہو، تو معاہدے سے پہلے ایک بات ضرور کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "آج آپ مجبور ہیں، اس لیے آپ کو یہ سودا درست لگ رہا ہے۔ آج نہ کوئی مشورہ دینے والا ہے، نہ کوئی سہارا دینے والا۔ لیکن کل جب پیسے آپ کے ہاتھ میں آ جائیں گے، ضرورت ختم ہو جائے گی، رشتے دار، دوست اور خود ساختہ خیرخواہ آپ کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ پھر وہ آپ کو یہی سمجھائیں گے کہ آپ نے نقصان کر لیا، آپ سے غلط فیصلہ ہو گیا، اور تب کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی مجبوری بھول جائیں اور ہمارے لیے مسئلہ بن جائیں۔ اس لیے آج ہی سوچ کر، سمجھ کر اور اللہ کو حاضر و ناظر جان کر فیصلہ کیجیے، تاکہ کل آپ کو بھی شرمندگی نہ ہو اور ہمیں بھی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔"

یہ صرف کاروبار کی بات نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کا آئینہ ہے۔ بہت سے لوگ اپنی رائے حالات کے مطابق بدلتے ہیں، اصولوں کے مطابق نہیں۔ جب جیب خالی ہوتی ہے تو فیصلہ اپنا ہوتا ہے، اور جب جیب بھر جاتی ہے تو فیصلہ دوسروں کا ہو جاتا ہے۔

میری نظر میں دھوکہ دینے والا، وعدہ توڑنے والا اور مکر و فریب سے اپنا مطلب نکالنے والا دراصل دوسروں سے زیادہ اپنی تربیت کا تعارف کروا رہا ہوتا ہے۔ انسان کی اصل نسل اس کا خاندانی نام نہیں، بلکہ اس کا کردار بتاتا ہے۔ زبان سے شرافت کا دعویٰ کرنا آسان ہے، مگر معاملات میں دیانت داری ہی اصل حسب و نسب کا پتہ دیتی ہے۔

آپ نے انسان اور بچھو کی وہ مشہور حکایت ضرور سنی ہوگی۔ ایک شخص بار بار بچھو کو ڈوبنے سے بچاتا ہے، اور بچھو ہر بار اپنی فطرت کے مطابق اسے ڈنگ مار دیتا ہے۔ لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ وہ پھر بھی اسے کیوں بچا رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: "اگر وہ اپنی فطرت نہیں چھوڑ سکتا تو میں اپنی انسانیت کیوں چھوڑ دوں؟"

لیکن اس حکایت کا ایک رخ اور بھی ہے۔ اگر کوئی شخص بچھو کی طرح ڈنگ مارنے، دھوکہ دینے اور احسان فراموشی کو ہی اپنی فطرت بنا لے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کائنات کا ایک خاموش مگر اٹل قانون ہے جسے مکافاتِ عمل کہتے ہیں۔ انسان دوسروں کے لیے جو راستہ بناتا ہے، ایک دن خود بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ جو اعتماد توڑتا ہے، ایک دن اس کا اپنا اعتماد بھی ٹوٹتا ہے، اور جو دوسروں کو دھوکے سے رلاتا ہے، وقت ایک دن اس کی آنکھوں میں بھی وہی نمی اتار دیتا ہے۔

اس لیے مکر، فریب یا فراڈ کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے ضرور رکیں۔ وقتی فائدہ شاید آپ کی جیب بھر دے، مگر کردار کو ہمیشہ کے لیے مفلس کر دیتا ہے۔ اور یاد رکھیے، قدرت کی عدالت میں نہ سفارش چلتی ہے، نہ دلیل۔ وہاں صرف اعمال بولتے ہیں۔ چاہے انسان اپنی کہانی میں خود کو سب سے بڑا مظلوم ثابت کرتا رہے، انصاف کا ترازو آخرکار کردار کے وزن پر ہی جھکتا ہے، دعووں کے شور پر نہیں۔

رشتے ضرورت سے نہیں، کردار سے زندہ رہتے ہیں۔ اور رزق صرف محنت سے نہیں بڑھتا، بلکہ دیانت، حسنِ اخلاق، وعدے کی پاسداری اور لوگوں کے اعتماد کی حفاظت سے بھی اس میں برکت اترتی ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp