#راہ_حق
#دعوت_حق
#فکر_آخرت
دو راستے
تحریر فیصل مقصود
انسان کی زندگی درحقیقت ہزاروں راستوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ صرف دو راستوں کا انتخاب ہے۔ باقی تمام راستے انہی دو میں سے کسی ایک کی طرف جا کر ختم ہوتے ہیں۔
جس راستے کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے، آہستہ آہستہ اسی راستے کے لوگ، اسی جیسی سوچ، ویسی ہی گفتگو، ویسی ہی ترجیحات اور ویسا ہی انجام اس کا مقدر بننے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا حلقۂ احباب اس کے نظریات کا آئینہ ہوتا ہے۔
قرآن نے اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ ایک راستہ ان لوگوں کا ہے جن پر اللہ نے اپنا انعام فرمایا:
﴿صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ﴾
اور دوسرا ان لوگوں کا جن پر اللہ کا غضب ہوا یا جو گمراہی میں بھٹک گئے:
﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾
(سورۃ الفاتحہ: 6-7)
گویا راستے صرف دو ہیں۔
ایک سچ کا، دوسرا جھوٹ کا۔
ایک عدل کا، دوسرا ظلم کا۔
ایک تقویٰ کا، دوسرا خواہشِ نفس کا۔
ایک حق کا، دوسرا باطل کا۔
تیسرا کوئی راستہ نہیں۔
لیکن افسوس! نفس اور شیطان ہمیشہ دوسرے راستے کو خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
﴿وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ﴾
"شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں مزین کر دیا۔"
(سورۃ النحل: 63)
اسی لیے آج انسان گناہ کو آزادی، بے حیائی کو ترقی، جھوٹ کو سیاست، سود کو معیشت، ظلم کو طاقت، منافقت کو حکمت اور حق گوئی کو انتہا پسندی سمجھنے لگا ہے۔
یہی وہ دھوکا ہے جس میں ہر باطل پرست مبتلا ہوتا ہے۔ اسے اپنے قدموں کی چاپ تو سنائی دیتی ہے، مگر قبر کی خاموشی سنائی نہیں دیتی۔ اسے اپنی طاقت پر غرور ہوتا ہے، مگر موت کی آہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ اسے اپنے منصوبوں پر یقین ہوتا ہے، مگر اللہ کی پکڑ یاد نہیں رہتی۔
اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی ہدایت کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ انہوں نے بادشاہوں کے درباروں میں بھی حق کہا، ظالموں کے سامنے بھی حق بلند کیا، مشرکین کو بھی توحید کی دعوت دی اور سرکش قوموں کو بھی اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ ان کا مقصد لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا، حق کو واضح کرنا، باطل کا رد کرنا، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا تھا۔ ان کے بعد علماءِ حق اور صالحین نے اسی دعوتِ حق کی تبلیغ، تعلیم اور اصلاح کا فریضہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جاری رکھا۔
تاریخ کا ہر ورق گواہی دیتا ہے کہ قومِ نوح، عاد، ثمود، قومِ لوط اور فرعون—کسی کو بھی صرف اس لیے ہلاک نہیں کیا گیا کہ وہ کمزور تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ ظلم، تکبر، سرکشی، نافرمانی اور حق کے انکار میں اپنی حدیں پار کر چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلت دی، بار بار سمجھایا، مگر جب انہوں نے مہلت کو آزادی سمجھ لیا تو پھر عذاب نے انہیں اس طرح گھیر لیا کہ وہ دوسروں کے لیے عبرت بن گئے۔
قرآن فرماتا ہے:
﴿وَتِلْكَ الْقُرَىٰ أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا﴾
"اور یہ وہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ ظلم پر اتر آئیں۔"
(سورۃ الکہف: 59)
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾
"بے شک تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔"
(سورۃ البروج: 12)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص یہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔"
(سنن ابی داؤد: 4833، حسن)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ راستے کا انتخاب صرف نظریہ نہیں، بلکہ صحبت کا انتخاب بھی ہے۔ کیونکہ انسان جن لوگوں کے ساتھ چلتا ہے، آخرکار انہی جیسا بن جاتا ہے۔
آج بھی اللہ کی سنت نہیں بدلی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قومیں بدل گئی ہیں، گناہوں کی شکلیں بدل گئی ہیں اور گمراہی نے جدید لباس پہن لیا ہے۔ مگر انجام وہی ہے جو پہلے تھا۔
یاد رکھو! اللہ کی رسی دیر سے کھینچتی ہے، ٹوٹتی کبھی نہیں۔ اس کی مہلت کو اپنی کامیابی مت سمجھو، کیونکہ قرآن فرماتا ہے:
﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾
"کافر یہ گمان نہ کریں کہ ہماری دی ہوئی مہلت ان کے لیے بہتر ہے، ہم تو انہیں صرف اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔"
(سورۃ آل عمران: 178)
آخرکار فیصلہ ہر انسان نے خود کرنا ہے۔ یا وہ ان لوگوں کے قافلے میں شامل ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یا ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوگا جنہوں نے چند دن کی خواہشات کے بدلے ہمیشہ کی آخرت کا سودا کر لیا۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment