#حقوق_اور_فرائض
#ذمہ_داری
#تلخ_حقیقت
کچھ لوگ بوجھ اٹھاتے ہیں، کچھ بوجھ بن جاتے ہیں
تحریر فیصل مقصود
"جو سب کو سنبھالتا رہا، اسے کس نے سنبھالا؟"
کچھ خواب ادھورے رہ جائیں تو غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ زندگی کا ہر خواب پورا ہونے کے لیے نہیں ہوتا؛ کچھ خواب انسان کو منزل تک پہنچانے کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ اسے راستے میں اپنے آپ سے ملوانے کے لیے۔ اس لیے کسی خواہش کا پورا نہ ہونا اپنی شکست مت سمجھو۔ اگر تم نے اپنی نیت، محنت اور استطاعت کے مطابق کوشش کی ہے تو تمہارا حصہ ادا ہو چکا، باقی فیصلہ اس ذات کا ہے جو ہماری خواہش سے زیادہ ہمارے حق میں جانتی ہے۔
مگر زندگی کا ایک عجیب تضاد بھی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ گھر کا جو فرد ذمہ دار ہوتا ہے، بوجھ بھی اکثر اسی پر لاد دیا جاتا ہے۔ جو بیٹا کمانا شروع کر دے، اسی سے گھر کی مزید ضروریات وابستہ کر دی جاتی ہیں؛ جو بھائی سمجھدار ہو، اسی سے دوسرے بھائیوں کو سنبھالنے کی توقع رکھی جاتی ہے؛ جو بیٹی خاموشی سے گھر کا خیال رکھے، اسی سے مزید قربانی کی امید کی جاتی ہے۔ یوں ذمہ داری رفتہ رفتہ خوبی نہیں رہتی، ایک ایسی سزا بن جاتی ہے جس کا مجرم صرف اس لیے قرار پاتا ہے کہ وہ سمجھدار تھا۔
اور اس ناانصافی میں بعض اوقات والدین کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض والدین انجانے میں ایک بچے کو اپنا نورِ نظر بنا لیتے ہیں۔ اس کی بدتمیزی کو شرارت، اس کی ضد کو خواہش، اس کی خود غرضی کو معصومیت اور اس کی غیر ذمہ داری کو "ابھی بچہ ہے" کہہ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ وہ اس سے بحث نہیں کرتے، اسے ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں، اس کی ہر سہولت کا خیال رکھتے ہیں؛ مگر گھر کا دوسرا بچہ اگر سمجھدار اور تابعدار ہو تو اس کے لیے ایک ہی جملہ کافی ہوتا ہے: "تم تو سمجھدار ہو، تم سمجھ جاؤ گے۔"
یہی جملہ بعض اوقات ایک بچے کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتا ہے۔ اسے اپنی خواہش سے پہلے گھر کی ضرورت دیکھنا سکھا دیا جاتا ہے، اپنی خوشی سے پہلے دوسروں کا سکون سوچنا سکھا دیا جاتا ہے، اور پھر اس کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جس بچے نے کبھی شور نہیں کیا، اس کے حصے میں شور کرنے والوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جاتا ہے۔ جس نے کبھی حق مانگ کر گھر کا سکون خراب نہیں کیا، اس سے اس کا اپنا حق بھی خاموشی سے قربان کرنے کی توقع کی جانے لگتی ہے۔
دوسری طرف جو بچہ منہ پھٹ، بدتمیز، بدلحاظ اور بدزبان ہو، بات بات پر جواب دے اور ہر ذمہ داری سے بچنے کا ہنر جانتا ہو، اکثر گھر والے اس سے بحث سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اس کی ناراضی سے بچنے کے لیے اس کی بات مان لی جاتی ہے، اس کی سہولت کا خیال رکھا جاتا ہے اور اسے زیادہ ٹوکنے سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے۔ یوں ایک خطرناک سبق گھر کے اندر خاموشی سے سکھایا جاتا ہے: جو مزاحمت کرے گا اسے رعایت ملے گی، اور جو تابعداری کرے گا اس سے مزید قربانی لی جائے گی۔
پھر یہی غیر متوازن تربیت بڑے ہو کر رشتوں کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ ذمہ دار بچہ ہر بار سمجھوتہ کرتا ہے اور غیر ذمہ دار ہر بار اپنے لیے جگہ بناتا ہے۔ ایک کو کہا جاتا ہے "تم برداشت کرو"، دوسرے کو کہا جاتا ہے "اس سے بحث نہ کرو"۔ ایک کو فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، دوسرے کے حقوق۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں محبت کے نام پر برابری ختم ہو جاتی ہے؛ اور والدین شاید یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ گھر کا سکون بچا رہے ہیں، حالانکہ کبھی کبھی وہ ایک بچے کو دوسرے بچوں کے مقابلے میں غیر محسوس طور پر ترجیح دے کر پورے خاندان کے اندر محرومی، شکوے اور فاصلے بو رہے ہوتے ہیں۔
میرے ایک دوست کاروبار کرتے ہیں۔ اکثر پریشان رہتے تھے کہ بھائی ذمہ دار نہیں ہو رہے، کاروبار نہیں کرتے، محنت سے جی چراتے ہیں اور کام کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ وہ چاہتے تھے کہ بھائی اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، کچھ سیکھیں، محنت کریں اور گھر کی ذمہ داریوں میں شریک ہوں۔ مگر صورتِ حال یہ تھی کہ محنت سے بھاگنا بھی تھا اور محنت کے نتیجے میں ملنے والی آسائشیں بھی پوری چاہییں تھیں۔ کام نہیں کرنا، مگر شادی بھی کرنی ہے؛ ذمہ داری نہیں اٹھانی، مگر اپنے حقوق پورے چاہیے؛ کاروبار میں ہاتھ نہیں بٹانا، مگر اپنا حصہ چاہیے؛ اپنی زندگی بنانے کے لیے جدوجہد نہیں کرنی، مگر دوسروں کی کمائی اور محنت میں اپنا حق ضرور یاد رکھنا ہے۔
وہ اپنے حقوق گنواتے تھے، مگر جب بات اپنے فرائض کی آتی تو خاموشی چھا جاتی۔ شادی چاہیے تھی، مگر شادی کے بعد کی ذمہ داریوں کے لیے محنت نہیں؛ حصہ چاہیے تھا، مگر اس حصے کو بنانے والی جدوجہد میں شریک ہونے کی آمادگی نہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، ہمارے معاشرے کا ایک وسیع مسئلہ ہے: ہم نتائج میں برابری چاہتے ہیں، مگر کوشش میں برابری کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
میرا دوست اسی امید میں خود کو کھوتا رہا کہ شاید ایک دن بھائی سمجھ جائیں گے، کام کریں گے، ذمہ دار ہوں گے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔ وہ دوسروں کے مستقبل کی فکر میں اپنے حال کا سکون کھوتا گیا۔ مسلسل سوچ، پریشانی اور توقعات نے اس کی صحت تک متاثر کر دی۔ مگر یہاں اسے بھی یہ سیکھنا تھا کہ کسی بالغ انسان کی ذمہ داری اپنے سر اٹھائے رکھنا ہمیشہ محبت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کسی کو اس کی ذمہ داری واپس کرنا ہی اس کے لیے سب سے بڑی خیرخواہی ہوتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ والدین کی محبت بھی انصاف سے بے نیاز نہیں ہونی چاہیے۔ اولاد میں محبت کم زیادہ ہو سکتی ہے، مزاج مختلف ہو سکتے ہیں، ضرورتیں مختلف ہو سکتی ہیں؛ مگر حقوق، عزت، تربیت اور انصاف میں جانبداری گھر کے اندر ایسی دراڑ ڈال دیتی ہے جو برسوں بعد بھی پوری نہیں ہوتی۔ کسی ایک بچے کو نورِ نظر بنانا صرف دوسرے بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں، کبھی کبھی اس نورِ نظر کے ساتھ بھی زیادتی ہوتی ہے، کیونکہ اسے اپنی غلطیوں کے نتائج سے بچاتے بچاتے ہم اسے زندگی کی حقیقتوں کے لیے کمزور بنا دیتے ہیں۔
اسی لیے اپنی خواہشوں اور امیدوں کا مدار اللہ پر رکھو، انسانوں پر نہیں۔ اپنے لوگوں سے محبت کرو، ان کے لیے آسانیاں پیدا کرو، مگر ہر شخص کے حصے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے مت پھرو۔ جو تمہارے حصے کا فرض ہے اسے پوری دیانت سے ادا کرو، مگر دوسرے کے حصے کا فرض اس کی جگہ ادا کرتے کرتے اپنی زندگی مت گنوا دو۔ ہر حق کے ساتھ ایک فرض ہے، ہر خواہش کے ساتھ ایک ذمہ داری اور ہر حصے کے ساتھ ایک محنت۔
اور شاید زندگی کا سکون اسی مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان یہ فرق سمجھ لیتا ہے کہ کون سا بوجھ واقعی اس کے حصے میں ہے اور کون سا وہ صرف اپنی محبت، اپنی توقع یا اپنے خاندان کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے اٹھائے پھر رہا ہے۔ کچھ لوگوں کو ان کی ذمہ داری واپس کرنا پڑتی ہے، کچھ توقعات کو دفن کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی اپنے ہی گھر میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ میں ذمہ دار ہوں، مگر سب کا ذمہ دار نہیں۔
کیونکہ انسان کسی خواب کے ادھورا رہ جانے سے ہمیشہ نہیں ٹوٹتا؛ بعض اوقات وہ دوسروں کے خواب پورے کرتے کرتے، دوسروں کی غلطیوں کا ملبہ اٹھاتے اٹھاتے اور دوسروں کے حصے کی ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے اپنی پوری زندگی ہی ادھوری چھوڑ دیتا ہے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment