Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Sunday, August 9, 2026

دوسروں کے عیب گنوانے والے

#غیبت_اور_بہتان
#کردار_کا_احتساب
#معاشرتی_منافقت

دوسروں کے عیب گنوانے والے
تحریر فیصل مقصود

فلاں کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی، فلاں کی بیٹی کا فلاں کے بیٹے سے چکر ہے، فلاں کی بیٹی بانجھ ہے، فلاں کی بیٹی کو طلاق ہو گئی، فلاں کی بیٹی کا رشتہ نہیں ہو رہا۔ فلاں کا بیٹا نااہل، نکما اور ناکارہ ہے، فلاں کا بیٹا نشئی ہے، فلاں کا بیٹا جواری ہے۔۔۔ ہمارے معاشرے میں نہ جانے کتنے گھروں کی عزت، کتنی اولادوں کی زندگیاں اور کتنی مجبوریوں کو زبانوں کا موضوع بنا کر گلی، محلوں، چوراہوں اور محفلوں میں اچھالا جاتا ہے۔

مگر کبھی غور کیا ہے کہ دوسروں کے عیبوں کی فہرستیں رکھنے والے لوگ اپنے کردار کا حساب کب کرتے ہیں؟ کسی کی بیٹی کے کردار پر بات، کسی کے بیٹے کی ناکامی پر طنز، کسی کی طلاق پر مذاق، کسی کی بے اولادی پر پھبتی اور کسی کی لغزش کو پورے معاشرے میں نشر کرنا آخر کس شرافت کا نام ہے؟

قرآن تو ہمیں اس کے بالکل برعکس تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں؛ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔" پھر اسی مقام پر عیب جوئی، برے القاب، بدگمانی، تجسس اور غیبت سے بھی روکا گیا ہے۔
(سورۃ الحجرات: 11-12)

لیکن ہمارے ہاں عجیب کردار ہیں؛ زبان پر توبہ و استغفار کا ورد، چہرے پر شرافت کا لبادہ اور مجلس میں بیٹھ کر دوسروں کے گھروں کی عزتوں کے بخیے ادھیڑنے کا شوق۔ کسی کی بیٹی کا قصہ مل جائے تو محفل گرم، کسی کے بیٹے کی لغزش مل جائے تو قہقہے، کسی کی طلاق کا ذکر ہو تو تبصرے، اور کسی کی کمزوری ہاتھ لگ جائے تو اسے ایک دوسرے تک پہنچانا گویا فرضِ منصبی بن جاتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے غیبت کی حقیقت واضح کرتے ہوئے فرمایا: "تمہارا اپنے بھائی کا اس چیز کے ساتھ ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو۔" صحابہؓ نے عرض کیا: اگر وہ بات واقعی اس میں موجود ہو؟ فرمایا: "اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ بات اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔"
(صحیح مسلم: 2589)

یعنی کسی کے بارے میں سچی بات کہنا بھی ہر حال میں جائز نہیں، اگر وہ اس کی عدم موجودگی میں ایسی بات ہو جو اسے ناگوار گزرے؛ اور اگر بات سچی ہی نہ ہو تو پھر غیبت کے ساتھ بہتان کا گناہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ ذرا سوچیے، ہم روزانہ کتنی باتیں صرف اس لیے دوسروں تک پہنچاتے ہیں کہ ہمیں انہیں پہنچانے میں مزہ آتا ہے۔

اور پھر ذرا اپنے گھروں کی طرف بھی دیکھیے۔ کیا کسی گھر کو آزمائش سے استثنا حاصل ہے؟ آج جو شخص دوسروں کی اولاد کے کردار کے فیصلے سناتا پھر رہا ہے، اسے کیا خبر کل اس کے اپنے گھر میں کون سا امتحان آ جائے؟ آج کسی کی بیٹی کی طلاق پر ہنسنے والے کو کیا معلوم کہ زندگی اسے کبھی اسی درد کے سامنے لا کھڑا کرے۔ آج کسی کے بیٹے کو نشئی، جواری یا ناکارہ کہنے والے کو کیا معلوم کہ آزمائش کس دروازے پر کب دستک دے۔

یہ کہنا مقصود نہیں کہ جو شخص دوسروں کے عیب بیان کرتا ہے وہ لازماً خود بھی انہی عیبوں میں مبتلا ہو جائے گا۔ اصل بات اس سے زیادہ گہری ہے: آزمائش کسی کی میراث نہیں، اور کسی دوسرے کی لغزش انسان کو پاکیزہ ثابت نہیں کرتی۔ تمہارا کسی کے گھر میں خرابی دیکھ لینا تمہارے اپنے گھر کے لیے کوئی ضمانت نہیں۔

بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خطرناک بات یہ ہے کہ انسان دوسروں کے عیب دیکھتے دیکھتے اپنے عیب دیکھنے کی صلاحیت کھو دے۔ اسے دوسروں کی اولاد کا کردار دکھائی دے، اپنی زبان کی غیبت دکھائی نہ دے؛ دوسروں کی لغزش دکھائی دے، اپنی نیت کا فتور دکھائی نہ دے؛ دوسروں کے گھر کی خرابی دکھائی دے، مگر اپنی مجلس میں بیٹھ کر کسی کی عزت خراب کرنا یاد نہ رہے۔

آج کے موبائل کے دور میں تو یہ فتنہ اور بھی خطرناک ہو چکا ہے۔ کیا خبر جنہیں دوسروں کے بچوں کے کردار کے قصے سنانے کا شوق ہے، ان کے اپنے گھروں کی کتنی تصاویر، ویڈیوز یا نجی گفتگوئیں کسی غیر کے موبائل تک پہنچ چکی ہوں۔ کیا خبر جس بیٹی کے بارے میں یہ لوگ محفل میں فیصلے سنا رہے ہیں، ان کے اپنے گھر میں کوئی ایسا معاملہ موجود ہو جس کی انہیں ابھی خبر ہی نہ ہو۔

اور یہی زندگی کا عجیب سبق ہے کہ جن لوگوں کو دوسروں کی آزمائشیں تماشا دکھائی دیتی ہیں، کبھی کبھی زندگی انہیں بھی کسی ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں دوسروں کا درد سمجھ میں آتا ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ جس طلاق پر ہم نے قہقہہ لگایا تھا، وہ کسی کی زندگی کا المیہ تھا؛ جس بے اولادی پر ہم نے طنز کیا تھا، وہ کسی کے دل کا زخم تھا؛ جس بچے کی لغزش کو ہم نے محفل کا قصہ بنایا تھا، وہ کسی ماں باپ کی راتوں کی نیند تھی۔

قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: "عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ" — ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔
(سورۃ الحجرات: 11)

یعنی جسے تم اپنی نظر میں کمتر سمجھ رہے ہو، ضروری نہیں کہ اللہ کے ہاں بھی وہ کمتر ہو۔ تمہیں اس کی ایک لغزش دکھائی دیتی ہے، اللہ اس کی توبہ بھی جانتا ہے؛ تمہیں اس کا ایک کمزور لمحہ دکھائی دیتا ہے، اللہ اس کے دل کی کیفیت بھی جانتا ہے۔

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
(صحیح بخاری: 6018)

تو پھر زبان پر استغفار اور اسی زبان سے کسی کی عزت کی دھجیاں؟ یہ کیسی دینداری ہے؟ اپنے گھر کے لیے پردہ چاہیے اور دوسروں کے گھر کا پردہ چاک کرنے میں کوئی حرج نہیں؟ اپنی اولاد کی غلطی پر عذر تلاش کیے جائیں اور دوسروں کی اولاد کی غلطی پر فیصلے سنائے جائیں؟

دوسروں کا بیٹا ناکام ہو جائے تو تم کامیاب نہیں ہو جاتے۔
کسی کی بیٹی کا گھر اجڑ جائے تو تمہارا گھر محفوظ نہیں ہو جاتا۔
کسی کی اولاد کسی فتنے میں مبتلا ہو جائے تو تمہاری اولاد کو کوئی ضمانت نہیں مل جاتی۔

ہاں، ایک چیز ضرور بدل جاتی ہے: جب تم کسی کی آزمائش کو طنز، مذاق، غیبت اور بہتان کا ذریعہ بناتے ہو تو تم اپنے کردار میں ایک نیا عیب ضرور پیدا کر لیتے ہو۔

اس لیے دوسروں کے گھروں کی خبریں جمع کرنے، دوسروں کی اولاد کے کردار پر فیصلے سنانے اور دوسروں کی لغزشوں کو محفل کا چٹخارہ بنانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اپنے آپ سے پوچھ لیجیے:

کیا میں واقعی اتنا پاکیزہ ہوں کہ دوسروں کا حساب لے سکوں؟

یا پھر میں صرف اس خوش فہمی میں مبتلا ہوں کہ میرے گھر کے پردے مضبوط ہیں، اس لیے میرے عیب عیب نہیں اور دوسروں کے عیب پوری دنیا کی خبر ہیں؟

یاد رکھیے، کسی کے عیب کو اچھالنے سے آپ کا کردار بلند نہیں ہوتا؛ صرف آپ کی زبان بے نقاب ہوتی ہے۔

اور شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ
ہم دوسروں کے گھروں کے پردے اٹھانے میں اتنے مصروف ہیں کہ اپنے کردار کا پردہ کب کا اٹھ چکا ہے، ہمیں خبر ہی نہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

فیس بک پر ہمارے پیج کو لائک اور فالو کرنا مت بھولیں 
https://www.facebook.com/share/p/1Kc1BxFeT1/

No comments:

Post a Comment

WhatsApp