Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Monday, August 10, 2026

حادثے سے ابھرنا بھی ایک حوصلہ ہے

#حادثے_سے_ابھرنا
#دھوکے_سے_سبق
#اللہ_سے_امید

حادثے سے ابھرنا بھی ایک حوصلہ ہے
تحریر فیصل مقصود

حادثے سے ابھرنا بہت دلیری کا کام ہوتا ہے۔

لوگوں کا کیا ہے، وہ تمہارے حالات جانے بغیر، تمہارے مسائل سمجھے بغیر، تمہارے وسائل دیکھے بغیر تمہیں مشورے دے جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے صبر کرو، کوئی کہتا ہے دوبارہ شروع کرو، کوئی کہتا ہے جو ہوا اسے بھول جاؤ۔

مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ حادثے کے بعد دوبارہ کھڑا ہونا صرف ایک مشورے سے ممکن نہیں ہوتا۔

تگ و دو تو تمہیں ہی کرنی پڑتی ہے۔
راتیں تمہیں جاگ کر گزارنی ہوتی ہیں۔
درد تمہیں سہنا ہوتا ہے۔
اور زندگی کو دوبارہ سنبھالنے کی کوشش بھی تمہیں ہی کرنی ہوتی ہے۔

بس اتنا یاد رکھو کہ زندگی کی آخری سانس تک تمہیں باہمت رہنا ہے، اپنے فرائض نبھانے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات تمہاری ذات صرف تمہاری ذات نہیں ہوتی؛ کئی لوگوں کی امیدیں تم سے وابستہ ہوتی ہیں، کئی گھروں کا سکون تمہاری ذمہ داریوں سے جڑا ہوتا ہے، کئی لوگوں کا مستقبل تمہارے کردار اور فیصلوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

اس لیے زندگی کی تلخیوں کی بھٹی میں کبھی کبھی تمہیں خود کو جھلسانا پڑتا ہے، تاکہ تم سے وابستہ لوگ محفوظ رہ سکیں۔

میرے ایک جاننے والے دوست ہیں۔ کاروبار میں انہیں تقریباً پونے دو کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

پراپرٹی کا بیعانہ کروایا گیا، رقم ادا کی گئی، اور بیعانہ لینے والا شخص فرار ہوگیا۔

پونے دو کروڑ کا نقصان صرف پونے دو کروڑ کا نقصان نہیں ہوتا۔
اس کے پیچھے برسوں کی محنت ہوتی ہے، خواب ہوتے ہیں، مستقبل کے منصوبے ہوتے ہیں، خاندان کی ضروریات ہوتی ہیں اور انسان کے اپنے خون پسینے کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔

میں اس شخص کی تڑپ سمجھ سکتا ہوں۔

وہ چاہتا تو دنیا کی بھیڑ میں کھڑے ہو کر دھاڑیں مار مار کر رو سکتا تھا کہ زندگی بھر کا سرمایہ ایک ہی لمحے میں ڈوب گیا۔

مگر شاید اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس نقصان کے بعد جب ہم نے اس معاملے کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ قانونی طور پر بھی اس کے ہاتھ تقریباً خالی کر دیے گئے تھے۔

رقم کی رسید ایک جعلی اسٹامپ پیپر پر لی گئی۔
نہ ویڈیو ثبوت موجود تھا، نہ اصل شناختی کارڈ کی کاپی، نہ ایسے مضبوط شواہد جنہیں دیکھ کر معاملہ آسانی سے آگے بڑھایا جاسکے۔

اور حیرت انگیز طور پر فراڈ کرنے والا شخص خود بھی لوگوں کے سامنے خود کو فراڈ سے متاثرہ ظاہر کرتا ہے۔

ہم اکثر ایسے معاملات ڈیل کرتے ہیں۔ فراڈ کے کیسز کو غور و فکر سے دیکھتے ہیں، قانونی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں اور بہت سے لوگوں کی رقم فراڈ سے ریکور کروانے کی کوششیں بھی کی ہیں۔

لیکن اس معاملے میں جب ہم نے ان کے لیے کوشش شروع کی تو ایک تلخ حقیقت سامنے آئی:

وہ شخص جس نے دھوکا دیا، وہ تو اپنا کام کر ہی گیا تھا؛ لیکن متاثرہ شخص نے بھی لاعلمی اور اعتماد میں اپنے ہاتھ کاٹ کر خود ان کے حوالے کر دیے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کا دکھ صرف رقم کے ضائع ہونے کا دکھ نہیں تھا۔

اس شخص نے ایک موقع پر مجھ سے کہا:

"میں نے تو اب اپنے رب سے ہی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ مجھے نہیں پتا مزید کتنی سانسیں قدرت نے میرے حصے میں رکھی ہیں، پر سچ پوچھو تو اس دنیا اور لوگوں کے دھوکے سے دل اٹھ چکا ہے۔ میں جب لوگوں سے دھوکے کا سنتا ہوں تو مجھے بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ اللہ سے لوگوں کی ہدایت کی اور متاثرین کے صبر کی دعا کرتا ہوں۔ میں تمہیں نہیں بتا سکتا، میں کس حد تک بےبس ہوں۔"

یہ الفاظ سن کر احساس ہوا کہ بعض اوقات انسان کو صرف اس کی رقم نہیں توڑتی، لوگوں کا کردار توڑ دیتا ہے۔

پیسہ شاید دوبارہ کمایا جاسکتا ہے، مگر جب انسان کسی پر اعتماد کرتا ہے اور وہ اعتماد اس کے لیے تباہی بن جائے تو دل کے اندر ایک ایسی دراڑ پڑتی ہے جسے رقم سے نہیں بھرا جاسکتا۔

اور شاید اسی لیے اس نے کہا کہ اب اس نے اپنے رب سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔

کبھی کبھی انسان دنیا کے سہاروں سے اتنا تھک جاتا ہے کہ اسے پہلی مرتبہ حقیقی سہارے کی پہچان ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ"

"اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔"
(الطلاق: 3)

لیکن توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان احتیاط چھوڑ دے۔

اللہ پر بھروسا اپنی جگہ، دنیا کے معاملات میں احتیاط اپنی جگہ۔

نیکی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرلیا جائے۔
حسنِ ظن کا مطلب یہ نہیں کہ ثبوت کی ضرورت ہی نہ رہے۔
اور کسی کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے احتیاط کرنا بدگمانی نہیں، عقل مندی ہے۔

خاص طور پر جب معاملہ کروڑوں روپے کا ہو تو صرف زبان کے وعدے، تعلق، اعتماد اور یقین پر نہیں بلکہ تحریری معاہدے، مکمل شناخت، قابلِ تصدیق دستاویزات، ادائیگی کے واضح شواہد اور قانونی تحفظ پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

کیونکہ بعض لوگ آپ کے اعتماد کو آپ کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار بنا لیتے ہیں۔

اور پھر جب حادثہ ہوجاتا ہے تو لوگ دور بیٹھ کر کہتے ہیں:

"اتنی بڑی رقم دیتے وقت احتیاط کیوں نہیں کی؟"

یہ سوال پوچھنا آسان ہے۔

مگر جس انسان نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کی جمع پونجی ڈوبتے دیکھی ہو، وہ جانتا ہے کہ ایک غلط اعتماد کی قیمت کتنی بھیانک ہوسکتی ہے۔

اس دوست کے لیے میرے دل میں صرف ہمدردی نہیں، دعا بھی ہے۔

اللہ اس کے نقصان کا ازالہ فرمائے، اس کے دل کو سکون دے، اسے دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرے، اور اگر اس کے لیے اس رقم کی واپسی میں کوئی راستہ باقی ہے تو وہ راستہ بھی کھول دے۔

اور جو لوگ لوگوں کا مال دھوکے سے کھاتے ہیں، ان کے لیے بھی دعا ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔

کیونکہ حرام مال کبھی صرف مال نہیں ہوتا،
وہ کسی کے خواب کا قتل ہوتا ہے،
کسی کے بچوں کے مستقبل پر ڈاکا ہوتا ہے،
کسی کے برسوں کے خون پسینے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔

اور مظلوم کے لیے شاید سب سے بڑا سہارا یہی ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے:

دنیا کی عدالت سے کوئی بچ بھی جائے، رب کی عدالت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

اس لیے اگر زندگی میں کبھی ایسا حادثہ آجائے کہ تمہیں لگے سب کچھ ختم ہوگیا ہے تو یاد رکھنا:

حادثہ تمہاری زندگی کا ایک باب ہوسکتا ہے، پوری کتاب نہیں۔

رو لینا، اگر دل چاہے۔
ٹوٹ جانا، اگر لمحہ اجازت دے۔
مگر ہمیشہ کے لیے بکھر مت جانا۔

کیونکہ تم سے کچھ لوگ وابستہ ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر—

تمہارا رب تم سے وابستہ ہے۔

دنیا کے دھوکے سے دل اٹھ جائے تو اٹھ جانے دو،
مگر اللہ سے امید کبھی مت اٹھنے دینا۔

کیونکہ جب دنیا کے سارے دروازے بند دکھائی دیں، تب بھی رب کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp