Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Wednesday, August 12, 2026

یومِ آزادی — جشن نہیں، شعور کا دن

#یوم_آزادی
#آزادی_کا_شعور
#کردار_ہی_حب_الوطنی

یومِ آزادی — جشن نہیں، شعور کا دن
تحریر فیصل مقصود

یومِ آزادی کی مناسبت سے محفلیں ضرور ہونی چاہئیں، خوشیاں بھی منائی جانی چاہئیں، مگر ایسی محفلیں جہاں نئی نسل کو صرف ملی نغمے، جھنڈے اور نعرے نہ سکھائے جائیں بلکہ یہ بھی بتایا جائے کہ اس آزادی کے پیچھے کتنی جدوجہد، کتنی ہجرتیں اور کتنی قربانیاں موجود ہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ ہجرت صرف ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہونے کا نام نہیں تھی؛ کتنے گھر اجڑے، کتنے لوگ اپنے پیاروں سے بچھڑے، کتنی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے اور کتنے خاندان اپنی زمین، گھر، کاروبار اور برسوں کی یادیں چھوڑ کر ایک نامعلوم مستقبل کی طرف نکل پڑے۔ یومِ آزادی دراصل اُن قربانیوں کو یاد کرنے، آزادی کی قدر سمجھنے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کا دن ہونا چاہیے۔

مگر نجانے ہم نے کب یہ طے کر لیا کہ باجے بجانا، بغیر سائلنسر کے موٹر سائیکلیں گلیوں، چوراہوں اور سڑکوں پر دوڑانا، لوگوں کے سکون کو برباد کرنا اور سڑکوں پر ہلڑ بازی کرنا حب الوطنی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس اُس وقت ہوتا ہے جب نوجوانوں کے گروہ باہر نکلی ہوئی فیملیز اور خواتین کو ہراساں کرتے ہیں، راستے روکتے ہیں، آوازیں کستے ہیں اور کسی خاندان کی خوشی کو اپنی چند لمحوں کی تفریح کے لیے اذیت میں بدل دیتے ہیں۔

ذرا سوچیے، یہ کیسا یومِ آزادی ہے جہاں اپنی آزادی مناتے ہوئے ہم دوسروں کے سکون، عزت اور سلامتی کی آزادی چھین لیتے ہیں؟

آزادی کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہمیں جو دل چاہے کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ آزادی کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے، اور آپ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے انسان کے حق، عزت، سکون اور سلامتی کی پامالی شروع ہوتی ہے۔

شاید مسئلہ یہ بھی ہے کہ جس چیز کے حصول میں انسان نے کوئی مشقت نہ اٹھائی ہو، کوئی تکلیف نہ جھیلی ہو اور کوئی قربانی نہ دی ہو، وہ اکثر اُس کی قدر نہیں جانتا۔ ہماری نسل نے آزادی حاصل ہوتے نہیں دیکھی؛ ہم نے اسے پہلے سے حاصل شدہ حالت میں دیکھا ہے۔ اس لیے شاید ہمیں اُس درد کا اندازہ نہیں جس سے گزر کر یہ وطن وجود میں آیا۔

ہماری دادی، اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے، اُن لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے تقسیم کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ اُن کی والدہ نے بھی وہ حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ ہر سال جب 14 اگست آتا تو دادی کی طبیعت بگڑ جاتی۔

ہمارے لیے 14 اگست ایک جشن تھا، مگر اُن کے لیے یہ اُن یادوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا دن بھی تھا جنہیں وقت بھی اُن کے دل سے مٹا نہیں سکا تھا۔ اُن کے اپنے بھائی اُن لوگوں میں شامل تھے جو وہاں سے نکلنے کی جدوجہد کے دوران مارے گئے۔

جس خاندان نے آزادی کی قیمت اپنے پیاروں کی جانوں سے ادا کی ہو، اُس کے لیے 14 اگست کا مفہوم شاید ہم سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

ہمارے لیے پرچم شاید ایک علامت ہے، مگر اُن کے لیے اُس پرچم کے پیچھے بچھڑنے والے چہرے، اجڑے ہوئے گھر اور کھوئے ہوئے اپنے بھی موجود تھے۔

اور پھر آج کے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے خوشی اور بدتمیزی، آزادی اور بے لگامی، جشن اور ہلڑ بازی کے درمیان فرق ہی مٹا دیا ہے۔ ہم نے حب الوطنی کو چند گھنٹوں کے شور، جھنڈوں، پٹاخوں اور موٹر سائیکلوں کے ہنگامے تک محدود کر دیا ہے۔

مگر مسئلہ صرف سڑکوں پر شور کرنے والوں تک محدود نہیں۔

اصل سوال تو ہمارے اجتماعی کردار کا ہے۔

آج بہت سے لوگ آزادی کا جشن منائیں گے، مگر اُنہی میں کوئی بجلی چوری کر رہا ہوگا، کوئی رشوت لے رہا ہوگا، کوئی اپنے منصب کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہوگا، کوئی سرکاری وسائل کو اپنا حق سمجھ کر ضائع کر رہا ہوگا اور کوئی قانون کو صرف اُس وقت یاد کرے گا جب قانون اُس کے مفاد میں ہو۔

پھر یہی لوگ 14 اگست کو سبز ہلالی پرچم اٹھا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیں گے۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان زندہ باد کیوں کہا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے کردار میں بھی پاکستان زندہ ہے؟

اگر ہم اس ملک کی بجلی چوری کرتے ہیں، اس کے وسائل کو نقصان پہنچاتے ہیں، رشوت کے ذریعے اپنے کام نکلواتے ہیں، اپنے منصب کو امانت کے بجائے ذاتی فائدے کا ذریعہ بناتے ہیں، قانون کو پامال کرتے ہیں، دوسروں کی عزت اور سکون کا خیال نہیں رکھتے تو صرف ایک دن پرچم لہرانا ہماری حب الوطنی کا مکمل ثبوت کیسے بن سکتا ہے؟

قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں۔

قومیں اُن افراد کے کردار سے بنتی ہیں جو روزمرہ زندگی میں اپنے حصے کی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرتے ہیں۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ وطن سے محبت صرف 14 اگست کو سبز لباس پہننے، گاڑی پر جھنڈا لگانے، موٹر سائیکل پر پرچم باندھنے یا بلند آواز میں نعرے لگانے کا نام نہیں۔

وطن سے محبت یہ بھی ہے کہ بجلی چوری نہ کی جائے، رشوت نہ لی جائے، اپنے منصب کو امانت سمجھا جائے، وعدہ پورا کیا جائے، قانون کا احترام کیا جائے، کسی عورت کو راستے میں ہراساں نہ کیا جائے، کسی خاندان کا سکون برباد نہ کیا جائے اور اپنے حصے کی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کی جائے۔

ملک سے محبت کا اصل امتحان 14 اگست کو نہیں، 15 اگست سے شروع ہوتا ہے۔

14 اگست کو پرچم لہرانا آسان ہے؛ پورا سال اپنے کردار کو پرچم کی حرمت کے مطابق رکھنا مشکل ہے۔

14 اگست کو پاکستان زندہ باد کہنا آسان ہے؛ روزمرہ زندگی میں پاکستان کے قانون، وسائل، شہریوں اور اداروں کے ساتھ دیانت داری سے پیش آنا اصل امتحان ہے۔

اس لیے یومِ آزادی کو جشن ضرور بنائیے، مگر اسے شعور کا جشن بنائیے۔

اپنے بچوں کو اُن لوگوں کی داستانیں سنائیے جنہوں نے اس وطن کے لیے اپنے گھر، اپنی زمینیں اور اپنے پیارے چھوڑے۔ انہیں بتائیے کہ آزادی کوئی معمولی نعمت نہیں اور اسے بے مقصد شور، بدتمیزی اور دوسروں کے سکون کی پامالی میں ضائع کرنا اُن قربانیوں کے ساتھ انصاف نہیں۔

پرچم ہاتھ میں لینے سے پہلے اپنے کردار کو بلند کیجیے۔

پاکستان زندہ باد کہنے سے پہلے اپنے عمل کو زندہ کیجیے۔

آزادی کا جشن منانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اپنے آپ سے پوچھیے:

کیا ہم واقعی اُس آزادی کے اہل ثابت ہو رہے ہیں جس کی قیمت ہمارے بزرگوں نے اپنے خون، اپنے گھروں اور اپنے پیاروں کی قربانی سے ادا کی تھی؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمارا جشن بامعنی ہے۔

اور اگر جواب نہیں ہے تو شاید اس 14 اگست ہمیں شور کچھ کم اور محاسبہ کچھ زیادہ کرنا چاہیے۔

کیونکہ وطن سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہ نہیں کہ ہم ایک دن کتنا شور کرتے ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ پورا سال ہم اس ملک کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہماری دادی، اُن کے والدین، اُن کے بھائی اور تقسیم و ہجرت کے دوران جانیں قربان کرنے والے تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے، اور ہمیں ایسا کردار عطا فرمائے کہ ہم صرف آزادی کے وارث نہ رہیں بلکہ آزادی کی ذمہ داری کے بھی اہل ثابت ہوں۔ آمین۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

فیس بک پر ہمارے پیج کو لائک اور فالو کرنا مت بھولیں 

No comments:

Post a Comment

WhatsApp