Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Thursday, August 13, 2026

اللہ کو صرف دکھوں میں نہیں، خوشیوں میں بھی یاد کریں

#اللہ_کی_یاد
#نعمت_کا_شکر
#خوشی_میں_اللہ_کو_یاد_کریں

اللہ کو صرف دکھوں میں نہیں، خوشیوں میں بھی یاد کریں
تحریر فیصل مقصود

انسان کی فطرت میں ایک عجیب کمزوری ہے؛ جب زندگی اسے گھیر لیتی ہے، راستے بند ہوجاتے ہیں، بیماری آتی ہے، کوئی نقصان پہنچتا ہے یا کوئی ایسی مشکل سامنے آتی ہے جس کا حل اپنے اختیار میں نظر نہیں آتا تو اسے اپنے رب کی یاد بہت شدت سے آنے لگتی ہے۔ وہ ہاتھ اٹھاتا ہے، دعائیں کرتا ہے، سجدوں میں گڑگڑاتا ہے اور اپنے رب سے مدد مانگتا ہے۔ لیکن جب وہی رب اس کی تکلیف دور کردیتا ہے، حالات بدل دیتا ہے اور اسے دوبارہ راحت و آسائش عطا کرتا ہے تو انسان اکثر اسی رب سے غافل ہوجاتا ہے جسے ابھی کچھ دیر پہلے اپنی نجات کا واحد سہارا سمجھ رہا تھا۔

قرآن نے انسان کی اسی کمزوری کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا ہے: ﴿وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ﴾ یعنی جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، لیٹا ہو، بیٹھا ہو یا کھڑا؛ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو وہ اس طرح گزر جاتا ہے گویا اس نے اس تکلیف کے دور ہونے کے لیے ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ (سورۂ یونس، 10:12)

یہ صرف کسی ایک زمانے کے انسان کی تصویر نہیں، بلکہ انسانی کمزوری کی ایک ایسی حقیقت ہے جسے قرآن ہمارے سامنے آئینے کی طرح رکھتا ہے۔ سورۂ زمر میں بھی فرمایا گیا کہ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتا ہے، لیکن جب اللہ اسے اپنی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس ذات کو بھول جاتا ہے جسے وہ پہلے پکار رہا تھا۔ (سورۂ زمر، 39:8)

اور سورۂ اسراء میں انسانی مزاج کے اسی تضاد کو یوں بیان کیا گیا: ﴿وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا﴾ یعنی جب ہم انسان کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا اور دور ہوجاتا ہے، اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ (سورۂ اسراء، 17:83)

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اللہ ہمارے لیے صرف مصیبت کے وقت ضروری ہے؟ کیا بیماری میں شفا مانگنے والا رب صحت ملنے کے بعد یاد رکھنے کے قابل نہیں؟ کیا تنگ دستی میں رزق مانگنے والا رب کشادگی کے بعد شکر کا مستحق نہیں؟ کیا اولاد، گھر، صحت، عزت، کاروبار، کامیابی اور امن جیسی نعمتیں ملنے کے بعد ہمارا اپنے رب کے ساتھ تعلق مزید مضبوط نہیں ہونا چاہیے؟

قرآن کا جواب بالکل واضح ہے: ﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ — "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔" (سورۂ ابراہیم، 14:7) شکر محض زبان سے "الحمدللہ" کہہ دینے کا نام نہیں؛ نعمت کو پہچاننا، اسے اللہ کی عطا سمجھنا اور پھر اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کرنا بھی شکر کا تقاضا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خوشی بھی انسان کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امتحان صرف بیماری، غربت، نقصان اور پریشانی کا نام ہے، حالانکہ قرآن بتاتا ہے کہ نعمت بھی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ — "ہم تمہیں برائی اور بھلائی، دونوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔" (سورۂ انبیاء، 21:35)۔ یعنی بیماری بھی امتحان ہے کہ ہم صبر کرتے ہیں یا نہیں، اور صحت بھی امتحان ہے کہ ہم شکر کرتے ہیں یا نہیں؛ غربت بھی آزمائش ہے اور مال بھی؛ غم بھی امتحان ہے اور خوشی بھی۔

رسول اللہ ﷺ نے مومن کی اسی متوازن کیفیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا: "مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کے ہر معاملے میں اس کے لیے خیر ہے؛ اگر اسے خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔" (صحیح مسلم، حدیث 2999)

یعنی مومن کا تعلق اللہ سے حالات کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا۔ وہ مصیبت میں بھی اللہ کا بندہ رہتا ہے اور نعمت میں بھی اللہ کا بندہ رہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مصیبت میں اس کا ہتھیار صبر ہوتا ہے اور نعمت میں اس کا رویہ شکر۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ حالات بدلیں مگر رب سے تعلق نہ بدلے۔

افسوس کہ ہمارے ہاں خوشی کے مواقع پر ہم بعض اوقات شکر کے بجائے غفلت کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔ شادی ہو، اولاد کی خوشی ہو، کاروباری کامیابی ہو، نئی گاڑی یا نیا گھر ہو یا کوئی اور خوشی کا موقع؛ ہم اللہ کی نعمت پر شکر ادا کرنے کے بجائے ایسی رسومات، فضول خرچی، بے حیائی اور گناہ کے کاموں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ پھر ہم اسی نعمت کو اپنے لیے شکر کا ذریعہ بنانے کے بجائے نافرمانی کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔

ذرا غور کیجیے، جس رب نے ہمیں خوشی دی، کیا اسی خوشی کو اس کی نافرمانی کے ذریعے منانا شکر ہوسکتا ہے؟ جس نے بیٹی عطا کی، کیا اس کی خوشی میں جہیز کے نام پر ظلم کرنا شکر ہے؟ جس نے شادی کا موقع دیا، کیا اس موقع پر اس کی حدود پامال کرنا شکر ہے؟ جس نے مال دیا، کیا اس مال کو دکھاوے، اسراف یا حرام کاموں میں خرچ کرنا شکر ہے؟ جس نے صحت دی، کیا اسی صحت کو گناہ کے راستوں میں استعمال کرنا شکر ہے؟

نعمت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ نعمت ہمیں منعم سے دور کرنے کے بجائے منعم کے قریب کردے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾ — "تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔" (سورۂ بقرہ، 2:152)۔ پس خوشی کے وقت اللہ کو یاد کرنا محض ایک اضافی نیکی نہیں، بلکہ نعمت کے ساتھ مطلوبہ رویہ ہے۔

ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے: میں اللہ کو صرف اس وقت یاد کرتا ہوں جب مجھے اس سے کچھ چاہیے، یا اس وقت بھی یاد رکھتا ہوں جب اللہ نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہو؟

مصیبت میں سجدہ کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ انسان مجبور ہوتا ہے؛ اصل امتحان تو کبھی کبھی اس وقت ہوتا ہے جب زندگی آرام میں ہو، جیب بھری ہو، صحت اچھی ہو، گھر میں خوشی ہو اور کوئی پریشانی نہ ہو۔ ایسے وقت میں اگر انسان نماز کی پابندی کرے، حرام سے بچے، اللہ کا شکر ادا کرے، اپنے مال میں دوسروں کا حق پہچانے اور اپنی خوشی کو اللہ کی نافرمانی کا ذریعہ نہ بنائے تو یہی حقیقی شکر ہے۔

یاد رکھیے، اللہ کو صرف دکھوں میں یاد کرنا تعلقِ ضرورت ہے، لیکن دکھ اور خوشی دونوں میں اللہ کو یاد رکھنا تعلقِ بندگی ہے۔

مصیبت میں "یا اللہ" کہنا اچھی بات ہے، لیکن راحت میں "الحمدللہ" کہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بیماری میں شفا مانگنا اچھی بات ہے، لیکن صحت ملنے کے بعد اللہ کی اطاعت میں صحت استعمال کرنا شکر ہے۔ رزق کے لیے دعا کرنا اچھی بات ہے، لیکن رزق ملنے کے بعد اس میں حلال و حرام کی تمیز کرنا شکر ہے۔ اولاد کے لیے دعائیں مانگنا اچھی بات ہے، لیکن اولاد ملنے کے بعد اسے صحیح تربیت دینا شکر ہے۔

لہٰذا اپنی خوشیوں کو اللہ سے دوری کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اپنی شادیوں میں، اپنی کامیابیوں میں، اپنے گھروں میں، اپنی محفلوں میں اور اپنی ذاتی خوشیوں میں بھی اپنے رب کو یاد رکھیں۔ خوشی منائیں، لیکن ایسی خوشی نہ منائیں جس کے بعد شرمندگی ہو؛ نعمت استعمال کریں، لیکن ایسی نافرمانی میں نہیں جو نعمت دینے والے کو ناراض کردے۔

کیونکہ زندگی کا کمال یہ نہیں کہ انسان کو کبھی دکھ نہ ملے؛ کمال یہ ہے کہ دکھ آئے تو صبر کرے، خوشی آئے تو شکر کرے، اور دونوں حالتوں میں اپنے رب کو نہ بھولے۔

اور شاید ہمیں سب سے زیادہ اسی بات کی فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم ان لوگوں میں تو شامل نہیں جنہیں قرآن نے مصیبت میں اللہ کو پکارنے اور راحت ملنے کے بعد اسے بھول جانے کی مثال بنا کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔

اے اللہ! ہمیں ایسا بندہ بنا دے جو مصیبت میں تجھے پکارے، نعمت میں تیرا شکر کرے، خوشی میں تیری حدود نہ توڑے، اور ہر حال میں تجھے یاد رکھے۔ آمین۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

فیس بک پر ہمارے پیج کو لائک اور فالو کرنا مت بھولیں 

No comments:

Post a Comment

WhatsApp