#مرد_کی_معاشی_خودمختاری
#معاشی_استحکام
#مرد_کا_وقار
مرد کی اصل خوبصورتی
تحریر فیصل مقصود
دیکھو پیارے! میں تمہیں اس دنیا، اس معاشرے اور حتیٰ کہ تمہارے قریبی لوگوں کے حوالے سے وہ سچ بتاتا ہوں جو شاید تم نہیں جانتے، اور اگر جانتے بھی ہو تو شاید ماننا نہیں چاہتے۔
مرد کی خوبصورتی ہمیشہ اس کے چہرے، لباس، قد یا شخصیت میں نہیں دیکھی جاتی؛ ہمارے معاشرے میں اکثر مرد کی اصل خوبصورتی اس کی معاشی حیثیت ہوتی ہے۔ اس کی جیب میں پیسہ ہو، اس کے پاس مستقل روزگار ہو، وہ اپنے اخراجات اور اپنے گھر کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو تو اس کی بات میں وزن ہوتا ہے، اس کی موجودگی میں وقار محسوس کیا جاتا ہے اور لوگ اسے اہمیت دیتے ہیں۔
لیکن جب مرد معاشی طور پر کمزور پڑ جائے، روزگار چھن جائے، آمدنی کا ذریعہ ختم ہو جائے یا وہ دوسروں کا محتاج ہو جائے تو بہت کچھ بدلنے لگتا ہے۔ جو لوگ کل تک اس کی بات غور سے سنتے تھے، آج اسے نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ جو دوست اس کے گرد بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے تھے، وہ مصروف ہو جاتے ہیں۔ رشتے داروں کے رویّے بدل جاتے ہیں، اور بعض اوقات تو اپنے ہی گھر میں اس کی بات کی وہ قدر نہیں رہتی جو اس وقت تھی جب اس کی جیب بھری ہوئی تھی۔
اور سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض مردوں کو یہ احساس باہر کی دنیا سے نہیں بلکہ اپنے ہی گھر سے ہوتا ہے۔ بیوی، بچے اور قریبی رشتے دار بھی انجانے میں مرد کو اس کی معاشی حیثیت کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں۔ جب وہ کمانے کے قابل ہو، ضروریات پوری کر رہا ہو اور گھر کے لیے وسائل لا رہا ہو تو اس کی بہت سی کمزوریاں بھی نظر انداز کر دی جاتی ہیں؛ لیکن جب اس کے ہاتھ خالی ہو جائیں تو وہی انسان بعض اوقات اپنی ہی چھت کے نیچے اپنی اہمیت کم ہوتی محسوس کرتا ہے۔
ممکن ہے تم سوچو کہ نہیں، ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ تو پیارے! زندگی کے کسی موڑ پر روزگار سے محروم ہو کر، اپنی جمع پونجی گنوا کر اور دوسروں کا محتاج ہو کر دیکھ لینا۔ تمہیں بہت سے ایسے رویّے نظر آئیں گے جن کا آج تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ محتاجی صرف جیب خالی نہیں کرتی، بعض اوقات انسان کی سماجی حیثیت، خود اعتمادی اور گھر میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔
دیکھو پیارے! جتنی جلدی تم اس حقیقت کو تسلیم کر لو گے، اتنی ہی جلدی تم خود مختار، خود کفیل اور اپنے فیصلوں میں مضبوط بننے کی طرف بڑھو گے۔ اگر تم معاشرے، اپنے خاندان اور اپنے حلقۂ احباب میں خود کو بے بسی اور محتاجی کی ذلت سے بچانا چاہتے ہو تو محنت کرو، ہنر سیکھو، اپنے روزگار کو مضبوط کرو اور اپنی آمدنی کا مستقل ذریعہ بناؤ۔ کیونکہ خالی جیب مرد کے لیے صرف مالی مسئلہ نہیں ہوتی، وہ اسے بہت سے ایسے حالات کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جہاں اسے دوسروں کے فیصلوں اور رحم و کرم کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔
مرد کے لیے معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ہونا محض عیش و عشرت کا معاملہ نہیں۔ یہ اس کے اپنے وقار، اس کے خاندان کی ضروریات، اس کی فیصلہ سازی کی آزادی اور مشکل وقت میں اپنے پیروں پر کھڑے رہنے کی صلاحیت کا معاملہ بھی ہے۔ مرد کو صرف خوبصورت نظر آنے، اچھا لباس پہننے یا بڑی بڑی باتیں کرنے کی فکر نہیں ہونی چاہیے؛ اسے اس قابل ہونے کی فکر بھی ہونی چاہیے کہ کل اگر دنیا اس سے منہ موڑ لے تو وہ اپنے گھر والوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہو۔
یاد رکھو، ہر رشتہ پیسے سے نہیں بنتا اور ہر انسان پیسے کا پجاری نہیں ہوتا؛ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ معاشی کمزوری مرد کو وہاں بھی کمزور کر دیتی ہے جہاں اسے مضبوط ہونا چاہیے۔ اس لیے کمانا صرف پیسہ جمع کرنا نہیں، اپنے لیے ایک ایسا سہارا بنانا ہے جس کے ہوتے ہوئے زندگی کے مشکل دنوں میں تمہاری عزت، تمہارا اختیار اور تمہارے اپنوں کا بھروسہ مکمل طور پر دوسروں کی جیب کا محتاج نہ ہو۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment