#خبرگیری
#انسانیت
#ہمدردی
موت کے بعد ہمدردی، زندگی میں بے حسی
تحریر فیصل مقصود
ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں زندگی اور موت کی آنکھ مچولی چل رہی ہے۔ کبھی زندگی، موت کے شکنجے سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک جان بچا لے جاتی ہے اور کبھی موت، زندگی سے بازی جیت جاتی ہے۔ کچھ لوگ زندگی سے تنگ ہیں اور کچھ انسانوں سے۔ کچھ حالات سے ہارے ہوئے ہیں اور کچھ اپنوں کی بے حسی سے۔
عجیب بات یہ ہے کہ جب کوئی انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے بعد ہمدردی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے صاحبِ حیثیت لوگ دعوے کرتے ہیں کہ اگر ہمیں اس کے حالات کا علم ہوتا، اگر ہمیں خبر ہوتی کہ وہ کس مشکل میں تھا، تو ہم ضرور اس کی مدد کرتے۔ ایسے دعوے سن کر واقعی حیرت ہوتی ہے کہ زندہ انسان کی خبر لینے کے لیے جن کے پاس وقت نہیں تھا، مرنے کے بعد اس کے حالات جاننے کا وقت کہاں سے آ گیا؟
یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو کاروباری معاملات میں کسی شخص کی چال، لہجے، نیت اور کردار تک بھانپ لینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ کون شخص فراڈ کر سکتا ہے، کون کاروبار میں نقصان دے سکتا ہے اور کون سا آدمی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، مگر عجیب اتفاق ہے کہ اپنے ہی عزیز و اقارب، اپنے خاندان اور اپنے اردگرد کے ضرورت مند انسانوں کے حالات سے بے خبر رہتے ہیں۔
بڑی بڑی نامی گرامی کاروباری شخصیات بہترین کاروبار، شاندار ملازمتوں اور آسودہ زندگی کے ساتھ رہ رہی ہوتی ہیں، مگر کبھی ان کے اپنے خاندان میں کوئی بہن ضرورت کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے، کوئی بھائی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوتا ہے، کسی کے گھر میں فاقے ہوتے ہیں اور کسی کے بچے بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں۔ قربان جائیں ان کی بے خبری پر کہ دنیا بھر کے مالی معاملات کی خبر رکھتے ہیں، مگر اپنے ہی لوگوں کی خاموش بھوک ان تک نہیں پہنچتی۔
کسی کی بیٹی گھر سے چلی جائے، کسی کا طلاق کا معاملہ ہو، کسی کا بیٹا غلط راستے پر نکل جائے یا خاندان میں کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جس سے عزتِ نفس مجروح ہوتی ہو تو خبریں پہنچانے کے لیے لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے نکل آتے ہیں۔ لیکن جب کسی گھر میں راشن ختم ہو جائے، کسی کے بچے فیس کے لیے ترس رہے ہوں یا کوئی شخص بیماری اور بے روزگاری کے ہاتھوں ٹوٹ رہا ہو تو یہی مخبر اچانک خاموش ہو جاتے ہیں۔
ہمیں شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر ضرورت مند مدد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ بہت سے لوگ اپنی خودداری کے باعث اپنی تکلیف چھپا لیتے ہیں۔ وہ فاقہ کر لیتے ہیں مگر کسی کے سامنے اپنی غربت کا اعلان نہیں کرتے، بچوں کی خواہشیں دبا دیتے ہیں مگر کسی سے قرض مانگنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مدد کے لیے ان کے دروازے پر دستک سے پہلے ان کے حالات کو سمجھنے والی نظر چاہیے۔
اصل ہمدردی یہ نہیں کہ کسی کے مرنے کے بعد اس کی تصویر کے ساتھ افسوس کے الفاظ لکھ دیے جائیں، اس کے لیے دعائیں کی جائیں اور یہ کہا جائے کہ "کاش ہمیں پہلے معلوم ہوتا۔" اصل ہمدردی تو یہ ہے کہ انسان کے زندہ رہتے ہوئے اس کی خاموش پریشانی محسوس کی جائے، اس کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر اس کا ہاتھ تھاما جائے اور اسے اس مقام تک پہنچنے سے پہلے سہارا دیا جائے جہاں زندگی اسے موت کا راستہ آسان دکھانے لگے۔
کسی انسان کے مرنے کے بعد اس کے لیے آنسو بہانا آسان ہے، مگر اس کے زندہ رہتے ہوئے اس کے آنسو پونچھنا اصل انسانیت ہے۔ اس لیے اپنے اردگرد دیکھیں، اپنے عزیزوں کی خبر لیں، اپنے رشتہ داروں کے حالات پوچھیں، اپنے ملازمین، پڑوسیوں اور دوستوں کو صرف ان کے کام یا حیثیت سے نہیں بلکہ انسان سمجھ کر دیکھیں۔ ممکن ہے آپ کے ایک سوال، ایک فون کال، ایک خاموش مدد یا بروقت ساتھ سے کسی کی زندگی بدل جائے۔
کیونکہ مرنے والے کے لیے ہمدردی جتانا کوئی کمال نہیں؛ اصل کمال یہ ہے کہ کسی کو مرنے سے پہلے جینے کی وجہ دے دی جائے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment