#شادی_اور_ذمہ_داری
#اولاد_کی_تربیت
#رشتے_اور_اخلاق
شادی صرف رشتہ نہیں، ذمہ داری ہے
تحریر فیصل مقصود
شادی اگرچہ ایک صحت مند اور خوشحال زندگی کے لیے بہت اہم رشتہ ہے، لیکن شادی صرف اس خواہش کا نام نہیں کہ انسان کو ایک ساتھی مل جائے، کوئی اس کا خیال رکھے اور زندگی خوشیوں میں گزرے۔ شادی دراصل دو انسانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کی ذمہ داریاں بانٹنے کا عہد ہے۔
ایک ایسا شخص جو خود کفیل نہیں، محنت سے جی چراتا ہے، ذمہ داریوں سے بھاگتا ہے اور اپنی زندگی سنوارنے کی کوشش نہیں کرتا، اس کی شادی صرف یہ سوچ کر نہیں کر دینی چاہیے کہ شادی کے بعد وہ ذمہ دار ہو جائے گا۔ یہ ایک خطرناک خوش فہمی ہے۔ کیا ضمانت ہے کہ شادی کے بعد وہ بدل جائے گا؟ اور اگر وہ نہ بدلا تو اس کے ساتھ ایک اور انسان کی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔
اسی لیے والدین اگر اپنی اولاد کی شادی کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہیں شادی سے پہلے ان کی اخلاقی تربیت، ذمہ داری کا احساس اور عملی زندگی کی سمجھ پیدا کرنی چاہیے۔ بیٹے کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ اچھی بیوی تلاش کرنی ہے؛ اسے یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ اچھا شوہر کیسے بننا ہے۔ اسے محنت، خود کفالت، برداشت، حسنِ سلوک اور گھر کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی تربیت دینی ہوگی۔
بیٹیوں کے معاملے میں بھی والدین کی کچھ ایسی کوتاہیاں ہوتی ہیں جو آنے والے وقت میں خود ان کی بیٹی کے لیے مشکلات بن جاتی ہیں۔ جو لڑکی اپنے والدین کے گھر میں ماں کا ہاتھ نہیں بٹاتی، گھر کے کاموں کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی اور ہر کام سے جی چراتی ہے، تو والدین کو کم از کم یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ شادی کے بعد وہ نئے گھر کی ذمہ داریوں کو کس طرح نبھائے گی۔
اسی طرح اگر ایک لڑکی اپنے والدین یا گھر کے دوسرے افراد سے بدتمیزی، سخت لہجے یا نامناسب انداز میں گفتگو کرنے کی عادی ہے تو صرف یہ امید رکھنا کہ شادی کے بعد وہ اپنے سسرال میں بہت نرم مزاج بن جائے گی، حقیقت پسندانہ سوچ نہیں۔ انسان کا اصل اخلاق اس وقت سامنے آتا ہے جب اسے اختلاف ہو، غصہ آئے یا اس کی بات نہ مانی جائے۔
یقیناً بیٹی کو نوکرانی بنانا تربیت نہیں، اور نہ ہی گھر کے تمام کام صرف لڑکی کی ذمہ داری ہیں۔ اسی طرح بیٹے کو صرف کمانے والی مشین سمجھنا بھی درست نہیں۔ اصل تربیت یہ ہے کہ دونوں کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری، تعاون، صفائی، سلیقہ، برداشت اور ایک دوسرے کے احترام کا شعور دیا جائے۔
پیار، محبت اور لاڈ اپنی جگہ بہت ضروری ہیں، لیکن محبت اگر اخلاق اور تربیت کے بغیر ہو تو بعض اوقات اولاد کی کمزوریوں کو چھپانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ والدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کی اولاد اختلاف کیسے کرتی ہے، غصے میں کیسے بات کرتی ہے، بڑوں کا احترام کیسے کرتی ہے، چھوٹوں سے کیسا برتاؤ کرتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے کس حد تک وفادار ہے۔
شادی کے لیے صرف تعلیم، خوبصورتی، خاندان، آمدنی یا ظاہری رکھ رکھاؤ نہیں دیکھنا چاہیے؛ کردار بھی دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ شادی کے بعد انسان کا اصل امتحان چہرے، لباس اور میٹھی باتوں سے نہیں بلکہ اخلاق، برداشت، ذمہ داری اور مشکل وقت میں رویے سے ہوتا ہے۔
والدین اگر اولاد کو شادی کے قابل بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف رشتہ تلاش کرنے سے پہلے اولاد کو رشتہ نبھانے کے قابل بنانا ہوگا۔ کیونکہ شادی کسی غیر ذمہ دار انسان کو ذمہ دار بنانے کی فیکٹری نہیں؛ شادی دو ذمہ دار انسانوں کے مل کر ایک زندگی تعمیر کرنے کا نام ہے۔
اور شاید والدین کو شادی سے پہلے اپنے بیٹے یا بیٹی سے صرف یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ تمہیں کیسا شریکِ حیات چاہیے؟ بلکہ یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ تم خود کسی کے لیے کیسے شریکِ حیات بننے جا رہے ہو؟
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment