Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Saturday, August 22, 2026

اطاعت میں ہی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے

#اللہ_کی_اطاعت
#رسولﷺ_کی_اتباع
#دنیا_اور_آخرت

اطاعت میں ہی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے
تحریر فیصل مقصود

کل کسی کام سے تھانے جانا ہوا تو وہاں ایک ایسی درخواست نظر سے گزری جسے پڑھ کر دنگ رہ گیا۔ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف درخواست دے رکھی تھی اور معاملہ میاں بیوی کے درمیان ایک تیسرے شخص کے داخل ہونے، تعلقات، باہمی الزامات اور یہاں تک کہ جان کو خطرے تک جا پہنچا تھا۔ ایک گھر جو سکون، اعتماد اور پردے کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے تھا، وہ ایسی الجھن میں تبدیل ہو چکا تھا جہاں ہر شخص دوسرے کے خلاف درخواست لیے کھڑا تھا۔

یہ واقعہ دیکھ کر ایک بات بار بار ذہن میں آئی کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ جب ہمیں کسی چیز سے روکتے ہیں تو محض روکنے کے لیے نہیں روکتے۔ اس ممانعت کے پیچھے ایسی حکمت ہوتی ہے جس کا ہم شاید اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہر حکم کی حکمت اپنی عقل کے ترازو میں تولنا چاہتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ ایسا کیوں؟ اس میں کیا برائی ہے؟ اگر میں احتیاط کروں تو کیا حرج ہے؟ اگر نیت صاف ہو تو کیا مسئلہ ہے؟ لیکن ایمان کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم اللہ کے ہر حکم کو اپنی عقل سے درست ثابت ہونے کے بعد مانیں۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جب ہمیں معلوم ہو جائے کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو ہم سر جھکا دیں۔

اللہ تعالیٰ نے نامحرموں کے درمیان حدود قائم کیں، نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، پردے کا حکم دیا، بے حیائی کے راستوں سے دور رہنے کا حکم دیا۔ اب ایک مسلمان کا کام یہ نہیں کہ وہ اپنی عقل سے فیصلہ کرے کہ فلاں شخص تو بھائی جیسا ہے، فلاں سے تو برسوں سے جان پہچان ہے، فلاں کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنے میں کیا حرج ہے یا ہماری نیت تو صاف ہے۔ حکم اللہ کا ہے تو ہماری نیت، ہماری پسند اور ہماری رائے اس کے مقابلے میں دلیل نہیں بن سکتی۔

ہم شاید آج اس حکم کی پوری حکمت نہ سمجھ سکیں، لیکن زندگی کے واقعات ہمیں بار بار دکھاتے ہیں کہ جن راستوں کو انسان معمولی سمجھتا ہے، وہی آگے چل کر بڑے فتنے، بدگمانی، خیانت، گھریلو تباہی اور رشتوں کی بربادی کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دین ہمیں صرف گناہ سے نہیں روکتا بلکہ ان راستوں سے بھی دور رہنے کا حکم دیتا ہے جو گناہ تک لے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ اس انجام کو جانتا ہے جسے ہم اپنی محدود نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے۔

اسی لیے مسلمان کا اصل رویہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے حکم دیا، تو مان لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تو مان لیا۔ ہر حکم کی حکمت سمجھ آ جائے تو بھی اطاعت، اور حکمت سمجھ نہ آئے تو بھی اطاعت۔

اگر اللہ نے نامحرم سے پردے کا حکم دیا ہے تو پردہ کریں گے۔ اگر نگاہیں جھکانے کا حکم دیا ہے تو نگاہیں جھکائیں گے۔ اگر کسی تعلق سے دور رہنے کا حکم دیا ہے تو اس سے دور رہیں گے۔ اس لیے نہیں کہ ہمیں ہر حکم کی مکمل حکمت معلوم ہے، بلکہ اس لیے کہ ہمیں اپنے رب پر اپنی عقل سے زیادہ یقین ہے۔

یاد رکھیں، اطاعت صرف آخرت کی کامیابی کا راستہ نہیں بلکہ دنیا کے سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ بہت سے فتنے ان لوگوں کی زندگی میں داخل ہی نہیں ہوتے جو اللہ کی قائم کردہ حدود کے اندر رہتے ہیں۔ جو دروازہ اللہ نے بند کر دیا، اگر ہم اسے بند ہی رہنے دیں تو شاید ہمیں کبھی معلوم بھی نہ ہو کہ اس کے پیچھے کتنی آزمائشیں ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔

اس لیے دین کے کسی حکم کے سامنے یہ نہ کہیں کہ اس میں کیا حکمت ہے؟ بلکہ پہلے یہ کہیں کہ حکم دینے والا کون ہے؟

اگر حکم اللہ کا ہے تو یقین رکھیں، اس میں حکمت بھی ہے، خیر بھی ہے اور ہمارے لیے بھلائی بھی۔

بندے کی کامیابی ہر حکم کی حکمت جان لینے میں نہیں، بلکہ حکمت پوری طرح سمجھ میں نہ آنے کے باوجود اپنے رب کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے میں ہے۔

دنیا میں بھی آسانی اسی میں ہے، دل کا سکون بھی اسی میں ہے، عزت کی حفاظت بھی اسی میں ہے، اور آخرت کی کامیابی بھی اسی اطاعت میں ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp