Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Saturday, September 5, 2026

اولاد کو بچاتے بچاتے، اپنا بڑھاپا نہ ہار دینا

#اولاد_کی_تربیت
#والدین
#تلخ_حقیقت

اولاد کو بچاتے بچاتے، اپنا بڑھاپا نہ ہار دینا
تحریر فیصل مقصود

ہمارے ایک دوست اکثر اپنے والدِ مرحوم کی ایک نصیحت سنایا کرتے تھے کہ اگر بچہ دس فرمائشیں کرے تو ان دس میں سے جو دو تین واقعی ضروری ہوں، وہ پوری کر دو۔ ہر خواہش پوری کرنے کی عادت نہ ڈالو، کیونکہ جس بچے کو ہر چیز مانگنے پر مل جائے، وہ آہستہ آہستہ چیزوں کی نہیں، محرومی کی قدر کرنا بھول جاتا ہے۔ اور اگر ہر جائز خواہش بھی مسلسل ٹھکرا دی جائے تو پھر وہ اپنی خواہشوں کے لیے گھر سے باہر راستے تلاش کرتا ہے۔ تربیت شاید اسی توازن کا نام ہے؛ محبت بھی ہو، مگر حدود کے ساتھ، سہولت بھی ہو، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔

اولاد کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ زندگی میں کیا حاصل کرنا ہے، اسے یہ بھی سکھانا پڑتا ہے کہ زندگی میں کیا برداشت کرنا ہے، کس کا احترام کرنا ہے، اپنی غلطی کہاں تسلیم کرنی ہے اور اپنی ذمہ داری سے کب بھاگنا نہیں۔ بچپن ہی سے اسے گھر کے کاموں میں شریک کرنا، عبادات کی عادت ڈالنا، بڑوں کے سامنے لہجہ درست رکھنا، اپنی چیزیں خود سنبھالنا اور اپنے عمل کے نتائج قبول کرنا سکھانا پڑتا ہے۔ کیونکہ جس بچے کو بچپن میں ذمہ داری سے بچایا جاتا ہے، وہ بڑا ہو کر ذمہ داری سے بھاگنے کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔

میں آج کل بعض بچوں کو راہِ راست سے دور ہوتا دیکھتا ہوں تو عجیب سی بےچینی محسوس کرتا ہوں۔ نہ ان کا بگڑنا میرے لیے کوئی نقصان ہے، نہ ان کا سدھرنا میرے لیے کوئی ذاتی فائدہ۔ مگر مجھے ان بچوں سے زیادہ ان کے والدین کا مستقبل دکھائی دینے لگتا ہے۔ مجھے وہ آج کا بگڑا ہوا بچہ نہیں، کل کا وہ بوڑھا ماں باپ دکھائی دیتا ہے جو اپنی اولاد کے سامنے بےبس کھڑا ہوگا اور سوچ رہا ہوگا کہ جس بچے کے لیے ہم نے دنیا سے لڑ کر اسے ہر مشکل سے بچایا تھا، آج وہی ہمارے لیے دو قدم چلنے کو کیوں تیار نہیں؟

مجھے ان کے بڑھاپے سے خوف آتا ہے۔ اس عمر سے جب انسان کو دولت سے زیادہ اپنائیت، سہولت سے زیادہ سہارا اور دنیا سے زیادہ اپنی اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے اس وقت کا خوف آتا ہے جب وہی والدین اپنی اولاد سے وہ محبت، احترام اور ذمہ داری مانگیں گے جو انہوں نے کبھی اپنے بچوں سے مانگنے کی ہمت ہی نہیں کی تھی۔ کیونکہ انہوں نے ساری عمر اولاد کی غلطیوں کو "بچپن" کہہ کر ٹالا، بدتمیزی کو "عمر کا تقاضا" سمجھا، نافرمانی کو "آج کل کے بچے" کہہ کر چھوڑ دیا اور ہر شکایت کے جواب میں دنیا کو قصوروار ٹھہرا دیا۔

سب سے خطرناک محبت وہ ہے جو بچے کو اس کی اپنی غلطی سے بھی بچا لے۔ ماں یا باپ جب ہر غلطی پر بچے کا دفاع کرتے ہیں، ہر شکایت پر دوسروں کو برا کہتے ہیں اور ہر بار اپنے بچے کو بےقصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ بچے کو دنیا کی سختی سے نہیں، اصلاح کے آخری موقع سے محروم کر رہے ہیں۔

بچے کو ہر بار بچا لینا محبت نہیں ہوتی۔ کبھی اسے اس کی غلطی کے سامنے تنہا کھڑا ہونے دینا بھی محبت ہوتی ہے۔ کبھی اس کی خواہش پوری نہ کرنا بھی محبت ہوتی ہے۔ کبھی اس کی بدتمیزی پر اسے روک دینا، اس کی غلطی پر اسے شرمندہ نہیں بلکہ ذمہ دار بنانا، اور اسے یہ بتانا کہ "تم ہمارے بچے ہو، مگر تمہاری ہر حرکت درست نہیں" — یہی وہ تربیت ہے جو کل اسے انسان بناتی ہے۔

ورنہ وقت بہت بےرحم استاد ہے۔ والدین جس سبق کو محبت کے نام پر آج پڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں، زندگی وہی سبق کل بہت مہنگی فیس کے ساتھ پڑھاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس وقت والدین کے پاس اپنی اولاد کو سمجھانے کی طاقت نہیں رہتی اور اولاد کے پاس انہیں سمجھنے کا وقت نہیں رہتا۔

اور شاید اس سے زیادہ خوفناک انجام کوئی نہیں کہ والدین اپنی اولاد کو زمانے کی ہر ٹھوکر سے بچاتے بچاتے اس قابل بنا دیں کہ آخرکار وہی اولاد ان کے بڑھاپے کی سب سے بڑی ٹھوکر بن جائے۔

تب شاید انہیں احساس ہو کہ وہ بچے کی غلطیاں نہیں چھپا رہے تھے؛
وہ دراصل آنے والے کل کی ایک ایسی حقیقت چھپا رہے تھے جس کا سامنا ایک دن انہیں خود کرنا تھا۔

کبھی کبھی والدین اولاد کو بچاتے بچاتے، جیتے جی اپنے بڑھاپے کی قبر کھود دیتے ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp