#خود_احتسابی
#ظاہر_اور_باطن
#اللہ_کا_خوف
ظاہر کی نیکی، باطن کا اندھیرا
تحریر فیصل مقصود
ناجانے یہ اعمال کی کیسی دوڑ ہے کہ انسان ایک طرف نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری، دھوکہ، فراڈ، شراب اور خواہشِ نفس سے وابستہ ہر اس کام میں مبتلا رہتا ہے جس سے اسے باز رہنے کو کہا گیا، جبکہ دوسری طرف اسی حرام سے کمائے ہوئے مال، حرام سے مزین زندگی اور انہی گناہوں کے بوجھ کے ساتھ مذہب کو بھی اپنی زندگی میں شامل رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے انسان اپنے اندر کے اندھیرے کو باہر کی عبادتوں سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔
مطلب، کیا تم کسی ایسے شخص کی ایمانی کمزوری کو سمجھ سکتے ہو جو کسی سے آٹھ، دس یا پندرہ لاکھ کا فراڈ کر کے پھر حج و عمرہ جیسی عبادات بھی انجام دے؟ جو زنا کا عادی ہو اور لوگوں کو زنا سے بچنے کی تلقین کرے؟ جو دین و دنیا کا چور ہو اور دوسروں کو چوری سے باز رہنے کی بات کرے؟ جس کی اپنی زندگی دنیا بھر کے عیبوں سے بھری ہو مگر وہ دوسروں کو انہی عیبوں سے بچنے کی نصیحت کرتا پھرے؟ سوال یہ نہیں کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی نصیحت درست ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ وہ خود اپنے الفاظ کے سامنے کہاں کھڑا ہے؟
لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہم کسی انسان کی عبادات اور اعمال کو دیکھ کر اس کی آخری جزا و سزا کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہم کسی کو جنتی یا جہنمی قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتے، نہ یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ کس کی کون سی نیکی اللہ کے ہاں قبول ہوئی اور کس کا کون سا عمل رد کر دیا گیا۔ حقیقی حساب، نیتوں کا علم اور آخری فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ہمارا کام کسی کے انجام کا فیصلہ سنانا نہیں، البتہ ہم اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا ظاہر اور باطن ایک دوسرے کے بالکل برعکس نہیں ہونا چاہیے۔
اگر زبان پر تقویٰ ہے تو کردار میں بھی اس کی کچھ جھلک ہونی چاہیے۔ اگر ہم دوسروں کو حرام سے بچنے کی نصیحت کرتے ہیں تو خود بھی حرام سے بچنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اگر ہم لوگوں کو حقوق العباد کا درس دیتے ہیں تو کسی کا حق کھاتے ہوئے ہمارا دل بھی بے چین ہونا چاہیے۔ انسان کامل نہیں، اس سے گناہ بھی ہوتے ہیں، وہ کمزور بھی پڑتا ہے اور نفس کے ہاتھوں شکست بھی کھا سکتا ہے؛ مگر گناہ پر شرمندہ ہونا اور گناہ کو زندگی کا معمول بنا کر پھر دوسروں کو محض زبان سے نصیحت کرتے رہنا، دونوں ایک جیسی چیزیں نہیں۔
ممکن ہے اس کی نصیحت اچھی ہو، ممکن ہے کوئی اس کی ایک بات سے راہِ راست پر آ جائے، ممکن ہے اس کے الفاظ کسی کی زندگی بدل دیں۔ مگر ایسے انسان کو خود بھی ایک لمحے کے لیے رک کر یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ دوسروں کو جس راستے کی طرف بلا رہا ہے، خود اس راستے پر کہاں کھڑا ہے؟ اور کیا وہ یہ پسند کرے گا کہ اس کا مسلمان بھائی اس کی زبان سے جنت کا راستہ سن کر خود اس راستے پر چل پڑے، جبکہ وہ اپنی ہی زندگی کے اعمال سے اپنے لیے آخرت کا خسارہ مول لے رہا ہو؟ کیا یہ عجیب المیہ نہیں کہ انسان دوسروں کو جنت کا راستہ دکھاتا رہے، مگر اپنے نفس کے پیچھے چل کر خود کو جانے انجانے میں جہنم کے راستے پر ڈال دے؟ کیونکہ دوسروں کو گناہ سے روک دینا شاید آسان ہے، مگر اپنے نفس کو اسی گناہ سے روکنا اصل امتحان ہے۔
اور شاید ہم سب کو دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ زبان سے تقویٰ کا درس دیتے ہیں مگر تنہائی میں اپنے نفس کے سامنے ہار جاتے ہیں؟ کتنے ہیں جو دوسروں کے عیب بڑی آسانی سے دیکھ لیتے ہیں مگر اپنے کردار کے داغ نظر انداز کر دیتے ہیں؟ شاید سب سے خطرناک کیفیت یہ ہے کہ انسان اپنی ظاہری نیکیوں سے اتنا مطمئن ہو جائے کہ اسے اپنے باطن کی خرابی دکھائی ہی نہ دے۔ ممکن ہے ہم بھی کہیں نہ کہیں اسی کیفیت کا شکار ہوں۔
اسی لیے دعا ہے کہ اللہ ہمیں صرف نصیحت کرنے والا نہیں بلکہ اپنی نصیحت پر عمل کرنے والا بھی بنائے، صرف دوسروں کے عیب دیکھنے والا نہیں بلکہ اپنے عیب پہچاننے والا بنائے، اور ہماری زبان، ہمارا ظاہر اور ہمارا باطن ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں۔ کیونکہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ آج کے فتنوں کے اس دور میں وہی شخص خود کو گناہ سے بچا سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو، جسے یقین ہو کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، کوئی جان پائے یا نہ جان پائے، انسان کے لیے یہی احساس کافی ہونا چاہیے کہ ایک نگاہ ایسی ہے جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔
شاید اصل نیکی بھی یہی ہے کہ انسان لوگوں کے سامنے نیک بننے کے بجائے تنہائی میں بھی اللہ کا بندہ رہ سکے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment