#پیسہ_اور_کردار
#آزمائش_اور_صبر
#انسان_کی_حقیقت
پیسہ، بہادری اور حکمت
تحریر فیصل مقصود
سیانوں سے سنا تھا: "پیسہ دینا بہادری ہے، اور لینا حکمت ہے۔" وقت نے اس ایک جملے کا مفہوم کچھ اس طرح سمجھایا کہ اب لگتا ہے مال صرف جیب نہیں آزماتا، یہ انسان کا صبر، ظرف، تعلق، اعتماد اور کردار بھی آزماتا ہے۔ میں اسے بارہا سمجھاتا رہا کہ دیکھو، تمہاری یہ وقتی ضرورت یا خواہش، جسے تکمیل تک پہنچانے کے لیے تم قرض لے رہے ہو، کل ہماری دوستی کے درمیان ایسی دراڑ ثابت ہو سکتی ہے جسے پھر کوئی تعلق پُر نہ کر سکے۔ مگر وہ بضد تھا؛ کبھی قسمیں دیتا، کبھی گھر والوں کی مجبوریاں سناتا، کبھی اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتا اور کبھی ڈپریشن سے مر جانے تک کی باتیں کرتا۔ آخرکار جیسے تیسے کر کے وہ مجھ سے سات لاکھ روپے لینے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے رقم دیتے ہوئے ایک اسٹامپ بھی جاری کروایا، واپسی کی ایک مقررہ مدت طے کی اور اسے پابند کیا کہ دیکھو، یہ رقم مقررہ وقت پر واپس کرنا ہوگی۔ وہ آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے رقم لے گیا اور میں اس اطمینان کے ساتھ رہ گیا کہ شاید میں نے ایک ضرورت مند کا ہاتھ تھاما ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں رقم کے ساتھ اپنے سکون کا ایک حصہ بھی اس کے حوالے کر چکا ہوں۔
وقت گزرتا رہا۔ میں اکثر باتوں ہی باتوں میں اسے احساس دلاتا کہ رقم واپس کرنی ہے، مگر وہ ہر بار کسی نہ کسی حیلے، بہانے یا نئی بات کے پیچھے چھپ کر راستہ بدل لیتا۔ میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا کہ تعلق خراب نہ ہو، لیکن وقت جیسے جیسے مقررہ تاریخ کے قریب آتا گیا، میری ٹینشن بڑھتی گئی اور اس کی بے فکری بڑھتی گئی۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ شاید اس نے رقم مقررہ وقت پر واپس نہیں کرنی۔ تب احساس ہوا کہ اسٹامپ پیپر بھی ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ کاغذ میرے پاس تھا، حق میرا تھا، مگر عملی بے بسی بھی میری ہی تھی۔ گھر پہلے ہی گروی ہے، دکان کرائے پر ہے، پاس کوئی ایسا اثاثہ نہیں جس پر قبضہ کر کے اپنی رقم وصول کر سکوں، اور قانون بھی رقم کے بدلے کسی کے گردے، پھیپھڑے یا دل بیچنے سے رہا۔ یوں ایک شخص کا قرض صرف رقم کا قرض نہیں رہتا؛ وہ آپ کے وقت، سکون، تعلق اور عزت کو بھی اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔
پیسے دینے سے پہلے وہ میرے پیچھے پیچھے تھا اور میں اسے نظر انداز کرتا تھا؛ پیسے لینے کے بعد اب میں اس کے پیچھے پیچھے ہوں اور وہ مجھے نظر انداز کر رہا ہے۔ بلکہ باتوں ہی باتوں میں متعدد مرتبہ مجھے یہ باور کروانے کی کوشش بھی کر چکا ہے کہ اگر پیسے نکلوا سکتے ہو تو نکلوا لو۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ پیسہ کسی کو ہمیشہ بدلتا نہیں، کبھی کبھی صرف اس کا اصل چہرہ دکھا دیتا ہے۔ جس شخص کی مجبوری دیکھ کر آپ نے اپنی جیب کھولی تھی، وہی شخص بعد میں آپ کے حق کو ایسے دیکھنے لگتا ہے جیسے آپ اس سے اپنا مال نہیں، کوئی احسان مانگ رہے ہوں۔ پیسے دینے سے پہلے تعلق سامنے ہوتا ہے، پیسے لینے کے بعد مفاد سامنے آ جاتا ہے۔ اور بعض اوقات سات لاکھ روپے کی قیمت سات لاکھ نہیں ہوتی؛ اس کے بدلے آپ کو کسی انسان کے کردار کی وہ حقیقت دکھائی دیتی ہے جو شاید برسوں کی دوستی بھی نہ دکھا سکتی۔
سچ کہوں تو یہ دنیا ان لوگوں کے لیے اور بھی عجیب امتحان گاہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، جو اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی پر زیادتی کرنے سے بچتے ہیں۔ ان کے لیے ہر آزمائش بیماری، غربت یا مصیبت کی صورت میں نہیں آتی؛ کبھی آزمائش ایک انسان کی صورت میں آتی ہے۔ آپ "صراط الذین انعمت علیہم" پر چلنے کا عہد کرتے ہیں، مگر سیدھا چلنا اتنا آسان کہاں؟ راستے میں روڑے اٹکانے کے لیے "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" جیسے لوگ قدم قدم پر کھڑے ملتے ہیں۔ آپ حق پر ہوتے ہوئے بھی خود کو روکتے ہیں، غصہ پیتے ہیں، الفاظ نگلتے ہیں، کیونکہ آپ نہیں چاہتے کہ کسی دوسرے کی بدکرداری آپ کو بھی بدکرداری کی طرف دھکیل دے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ صبر صرف خاموش رہنے کا نام نہیں؛ کبھی صبر یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہو اور آپ پھر بھی اپنے ہاتھ کو زیادتی سے روک لیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ رقم کبھی واپس نہیں آ سکتی۔ شاید آ جائے، شاید کسی نہ کسی طرح نکل آئے۔ میں اسے کسی بھی تھانے کچہری میں لے جاؤں، پھر بھی مجھے معلوم ہے کہ شاید وہاں بھی میں اسے لا کر بے بس ہی کھڑا رہوں گا، کیونکہ میں رقم دے چکا ہوں اور وہ رقم استعمال کر چکا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسا اثاثہ نہیں جسے پکڑ کر اپنی رقم پوری کی پوری وصول کر سکوں۔ اب شاید میرے پاس کسی مقررہ وقت تک مزید انتظار کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ ہو، یا پھر وہ میری رقم کو اتنے حصوں میں تقسیم کر دے کہ کبھی سکوں میں، کبھی ہزاروں میں، میرے منہ پر مارتا رہے۔ دونوں صورتوں میں رقم سے زیادہ ذلت کا احساس میرے حصے میں آئے گا۔ عجیب تماشا ہے؛ مال میرا، حق میرا، تقاضا میرا، انتظار میرا اور بے چینی بھی میری—جبکہ بے فکری اس شخص کے حصے میں ہے جس کے ہاتھ میں میرا مال ہے۔
میں کاروبار کر رہا ہوں؛ نفع و نقصان کے ساتھ۔ کاروبار میں کبھی مال ڈوبتا ہے، کبھی فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے اور کبھی انسان کو کسی انسان کو پہچاننے میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ممکن ہے یہ بھی میرے کاروبار کا ایک نقصان ہو، اور ممکن ہے یہ رقم کبھی واپس بھی آ جائے۔ مگر میں یہ سوچ کر خود کو تسلی دیتا ہوں کہ شاید یہ آزمائش اور اس پر صبر کہیں نہ کہیں میرے لیے نجات کا سبب بن جائے۔ شاید اللہ مجھے یہ سکھا رہا ہو کہ آئندہ کسی کی مجبوری پر رحم ضرور کرنا، مگر اپنی بصیرت کو قربان نہ کرنا؛ کسی کا ہاتھ ضرور تھامنا، مگر اپنے اعتماد کو اندھا نہ کرنا۔ ہر نقصان خسارہ نہیں ہوتا؛ بعض نقصانات انسان کو وہ سبق دے جاتے ہیں جو دولت، کتابیں اور تجربات بھی نہیں دے پاتے۔
اور اب میری دعا صرف یہ نہیں کہ میرا مال مجھے واپس مل جائے۔ میری دعا یہ ہے کہ اس آزمائش کے دوران میں اپنا دل، اپنا اخلاق اور اپنے رب سے تعلق نہ ہاروں۔ جانے انجانے میری زبان سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو، میرے ہاتھ یا میرے کسی عضو سے کسی پر زیادتی ہوئی ہو تو اللہ مجھے اس کی سزا سے محفوظ رکھے۔ جو غلطیاں جانتے بوجھتے مجھ سے ہوئیں، ان پر میری ندامت کبھی ختم نہ ہو، اور جو انجانے میں ہوئیں، ان کے لیے میں اپنے رب سے عفو و درگزر کا طلب گار ہوں۔ اگر کسی نے میرا حق دبایا ہے تو اللہ مجھے اپنا حق لینے کی توفیق دے، مگر اس حق کی تلاش میں مجھے خود ظالم بننے سے بھی بچائے۔
کیونکہ شاید آخرکار اصل حساب سات لاکھ روپے کا نہیں ہوگا۔ اصل حساب یہ ہوگا کہ سات لاکھ کے اس امتحان میں میرا مال کتنا بچا، یہ تو وقت بتائے گا؛ مگر میرا ایمان، میرا اخلاق، میرا صبر اور میرے رب کا خوف کتنا بچا—فیصلہ شاید وہیں ہونا ہے۔
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment