Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Tuesday, September 1, 2026

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ چہارم)

#پاکستان_کا_مستقبل
#عوام_کا_پاکستان
#اصلاح_نظام

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ چہارم)
تعلیم، صحت اور نوجوان — ملک کا اصل سرمایہ کہاں جا رہا ہے؟

کسی بھی ملک کی اصل دولت اس کی عمارتیں، موٹر ویز یا بڑے بڑے منصوبے نہیں ہوتے۔ اصل دولت اس کے انسان ہوتے ہیں۔ اگر انسان تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنرمند، باکردار اور معاشی طور پر فعال ہوں تو محدود وسائل رکھنے والا ملک بھی ترقی کر سکتا ہے، لیکن اگر ایک ملک اپنے انسانوں کو معیاری تعلیم، صحت اور روزگار فراہم نہ کر سکے تو اس کے پاس کتنے ہی منصوبے کیوں نہ ہوں، ترقی کا سفر ادھورا رہتا ہے۔

ہماری تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف مہنگے نجی اسکولوں کا نظام ہے اور دوسری طرف بہت سے سرکاری اسکول بنیادی معیار اور سہولیات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ غریب والدین اپنے بچے کو بہتر تعلیم دینے کے لیے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں۔ فیس، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ، ٹیوشن اور دیگر اخراجات ایک ایسے خاندان پر مسلسل بوجھ بنتے ہیں جس کی آمدنی پہلے ہی محدود ہو۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایسے سرکاری اسکول کیوں نہیں بنا سکتے جہاں ایک غریب آدمی اپنے بچے کو بھیجتے ہوئے یہ محسوس کرے کہ اسے کسی دوسرے درجے کی تعلیم نہیں مل رہی؟

سرکاری اسکول کی عمارت بنا دینا کافی نہیں۔ وہاں بہترین استاد، مسلسل teacher training، سائنس لیبارٹری، لائبریری، کھیل، ٹیکنالوجی، صاف پانی، واش روم، محفوظ ماحول اور جدید نصاب بھی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل بنا رہا ہے یا زندگی اور معیشت کے لیے تیار کر رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کی حالت بھی الگ سوال ہے۔ ایک نوجوان بارہ، چودہ یا سولہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی تک پہنچتا ہے اور فیس اس کے سامنے دیوار بن جاتی ہے۔ پھر بڑی مشکل سے ڈگری حاصل کر بھی لے تو روزگار کی ضمانت نہیں۔ ہمیں ایسی یونیورسٹیاں چاہیے جو صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی، artificial intelligence، engineering، agriculture، entrepreneurship اور global markets سے جڑی ہوں۔ ڈگری کے ساتھ ہنر، تحقیق کے ساتھ روزگار اور تعلیم کے ساتھ معاشی مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔

یہاں پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آتا ہے: نوجوانوں کی بڑی تعداد اور ان کے لیے محدود معاشی مواقع۔ پاکستان کی معیشت کو ہر سال بڑی تعداد میں نئے کارکنوں کو absorb کرنا ہوگا۔ Pakistan Bureau of Statistics کے Labour Force Survey جیسے سرکاری ذرائع اسی لیے labour force participation، employment اور unemployment کو قومی planning کے لیے بنیادی indicators قرار دیتے ہیں۔

اگر ہم نوجوان کو تعلیم دیں مگر روزگار نہ دیں، ڈگری دیں مگر ہنر نہ دیں، موبائل اور انٹرنیٹ دیں مگر productive digital economy نہ دیں تو ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہوں گے جس کے پاس خواہشات بہت ہوں گی مگر مواقع کم۔

صحت کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے کیونکہ یہاں تاخیر کا مطلب کبھی کبھی موت ہوتا ہے۔ کہیں ہسپتال موجود ہے مگر ڈاکٹر نہیں، کہیں ڈاکٹر ہے مگر بستر نہیں، کہیں بستر ہے مگر مشین خراب ہے، کہیں مشین موجود ہے مگر trained staff نہیں، کہیں علاج موجود ہے مگر دوا نہیں، اور کہیں علاج موجود ہونے کے باوجود غریب مریض اسے afford نہیں کر سکتا۔

ہمیں ہسپتالوں کی تعداد گننے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنے ہسپتال واقعی functional ہیں، کتنے مریضوں کو بروقت علاج مل رہا ہے، emergency response کتنا مؤثر ہے، ادویات کتنی دستیاب ہیں، diagnostic facilities کتنی فعال ہیں اور بنیادی صحت مراکز لوگوں کو بڑے ہسپتال پہنچنے سے پہلے کتنا سہارا دے رہے ہیں۔

اور اس پورے نظام میں ایک اور مسئلہ ہے جس پر کم بات ہوتی ہے: آبادی میں اضافہ اور انسانی ترقی کی رفتار۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھے اور تعلیم، صحت، روزگار، پانی، خوراک اور شہری سہولیات اسی رفتار سے نہ بڑھیں تو فی کس وسائل کا دباؤ بڑھتا جائے گا۔ World Bank بھی پاکستان کے لیے بلند آبادی میں اضافے، محدود fiscal space اور poverty reduction کے چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس لیے ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکومت نے کتنے اسکول اور ہسپتال بنائے۔ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اگلے بیس سال میں پاکستانی بچے، نوجوان اور خاندان کس معیارِ زندگی کے ساتھ زندہ ہوں گے؟

اور جب تعلیم، صحت اور روزگار کمزور ہوں تو اگلا بحران خود بخود سامنے آتا ہے:

غربت، مہنگائی، قرض، ٹیکس اور روزگار کا بحران۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp