#زندگی_آخر_کیا_ہے
#فکر_و_فلسفہ
#حقیقت_زندگی
زندگی آخر کیا ہے؟
تحریر فیصل مقصود
میں روز سوچتا ہوں، زندگی آخر کیا ہے؟ کبھی اسے مذہبی نظریے سے دیکھتا ہوں، کبھی دنیاوی نظریے سے۔ دونوں زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر عجیب بات ہے کہ مذہبی نظریہ مجھے دنیاوی نظریے سے کہیں زیادہ پائیدار اور تسکین دہ محسوس ہوتا ہے۔ شاید اس لیے کہ دنیاوی نظریے میں زندگی ایک ایسی دوڑ بن جاتی ہے جس کی کوئی آخری حد نہیں۔ تم اپنے خوابوں کی تکمیل کے پیچھے بھاگ رہے ہو، ایک خواب پورا ہوتا ہے تو دوسرا تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہوتا ہے، ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو کئی نئی خواہشیں جنم لے لیتی ہیں۔ تم بس کما رہے ہو، جمع کر رہے ہو، حاصل کر رہے ہو اور اگر حلال و حرام کی تمیز بھی راستے کی رکاوٹ نہ رہے، ظلم و جبر کی کوئی قید باقی نہ رہے، جزا و سزا کا کوئی خوف نہ ہو اور انسان ہر اس حد سے آزاد ہو جائے جس سے اسے روکا گیا ہے تو پھر دنیا ہی اس کی آخری حقیقت بن جاتی ہے۔ وہ اسی دنیا کو جنت سمجھ بیٹھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے اپنے انجام تک کو بھول جاتا ہے۔
پھر اسی زندگی کو مذہبی نظریے سے دیکھو تو منظر بدل جاتا ہے۔ دنیا ایک مستقل ٹھکانا نہیں رہتی، ایک عارضی مہمان خانہ بن جاتی ہے؛ ایسی جگہ جہاں تمہیں کچھ وقت کے لیے ٹھہرایا گیا ہے، جہاں خواہشیں بھی ہیں اور ان کی محرومیاں بھی، خوشیاں بھی ہیں اور غم بھی، کامیابیاں بھی ہیں اور ناکامیاں بھی، امیدیں بھی ہیں اور مایوسیاں بھی۔ یہاں ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں اور ہر خواب کا حقیقت بن جانا کامیابی کی علامت نہیں۔ لیکن اسی عارضی ٹھکانے میں تمہیں اس کے بنانے والے کے کچھ قوانین دیے گئے ہیں، کچھ حدود بتائی گئی ہیں اور ایک ایسا راستہ دکھایا گیا ہے جس پر چل کر شاید وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے لیے لوگ اس دنیا میں اپنا انجام بھول جاتے ہیں۔ فرق شاید صرف اتنا ہے کہ دنیاوی نظریہ تمہیں حاصل کرنے کی طرف دیکھتا ہے اور مذہبی نظریہ تمہیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آخرکار چھوڑ کر جانا ہے۔
شاید اسی لیے زندگی کا مطلب ہر شخص کے لیے مختلف ہوگا، کیونکہ ہر انسان اسے اپنے تجربے اور اپنے زاویۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ پنکچر والے سے پوچھو گے تو ممکن ہے وہ زندگی کو ٹائر، ٹیوب، ہوا اور پانی کے بلبلے تک محدود کر دے۔ درزی سے پوچھو گے تو وہ کپڑے کے طول و عرض، سوئی کے ٹانکے اور دھاگے کے کچے پکے ہونے کو زندگی کی ڈور سے جوڑ دے۔ لکھاری سے پوچھو گے تو وہ زندگی کو اپنے لفظوں کی گرفت میں قید کرکے دکھا دے گا۔ اسی طرح دنیا کے ہر شعبے میں مہارت رکھنے والے شخص سے زندگی کے بارے میں پوچھو تو غالباً وہ اپنے فن، اپنے تجربے اور اپنے مشاہدے کے آئینے میں زندگی کی کوئی نہ کوئی نئی تصویر دکھا دے گا۔ شاید یہی انسان کی فطرت ہے کہ وہ جس دنیا میں رہتا ہے، زندگی کو بھی اسی دنیا کی زبان میں سمجھنے لگتا ہے۔
لیکن ان تمام زاویوں کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جسے کوئی شخص اپنی مرضی کی طرف موڑ نہیں سکتا۔ کوئی اسے کسی تیسری طرف لے جا کر نہیں دکھا سکتا، کوئی ایسا نظریہ پیش نہیں کر سکتا جو اسے موت سے آزاد کر دے۔ پنکچر والا ہو یا درزی، لکھاری ہو یا فلسفی، دولت مند ہو یا فقیر، طاقتور ہو یا بےبس؛ سب اپنی اپنی زندگی کو الگ الگ معنی دے سکتے ہیں، مگر اپنی موت کو الگ معنی نہیں دے سکتے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے لیے یہ انجام نہیں۔ کوئی اپنی مہارت سے موت کو چکمہ نہیں دے سکتا، کوئی دولت سے اسے خرید نہیں سکتا، کوئی طاقت سے اسے روک نہیں سکتا اور کوئی فلسفہ بنا کر اس حقیقت سے باہر نہیں نکل سکتا۔
نظریے الگ ہو سکتے ہیں، زاویے مختلف ہو سکتے ہیں، زندگی کو سمجھنے کے واسطے جدا ہو سکتے ہیں، مگر نتیجہ سب کا ایک ہی ہے۔ کوئی دنیا کو سب کچھ سمجھ کر جئے گا، کوئی اسے ایک عارضی ٹھکانا سمجھ کر؛ کوئی اپنی خواہشوں کا غلام ہوگا، کوئی اپنے اصولوں کا پابند؛ کوئی حاصل کرنے میں زندگی گزار دے گا اور کوئی خود کو سمجھنے میں۔ مگر وقت سب کو ایک ہی مقام تک لے جائے گا، جہاں انسان کے تمام نظریے، تمام دلیلیں، تمام خواہشیں اور تمام تعارف پیچھے رہ جائیں گے۔
شاید زندگی کی اصل الجھن یہی ہے کہ انسان کے پاس اسے سمجھنے کے لیے بےشمار نظریے ہیں، مگر اسے گزارنے کے لیے صرف ایک زندگی۔ ہم اسے جس زاویے سے چاہیں دیکھ سکتے ہیں، جس نام سے چاہیں پکار سکتے ہیں، اس کے معنی اپنے تجربے کے مطابق نکال سکتے ہیں، مگر ایک حقیقت ہمارے اختیار سے باہر ہے: ہمیں اس زندگی کے بعد ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔ شاید اسی لیے زندگی کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم جس چیز کو زندگی کہہ رہے ہیں، کہیں وہ صرف اس عارضی قیام گاہ کا نام تو نہیں جسے ہم نے اپنی پوری حقیقت سمجھ لیا ہے۔
آخر میں شاید فرق صرف نظریے کا نہیں رہتا، فرق اس بات کا رہ جاتا ہے کہ انسان نے اپنی زندگی کو کس حقیقت کے تابع رکھا۔ کیونکہ دنیا سب کو اپنے حصے کا فریب دے سکتی ہے، خواہش سب کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے، اور وقت سب کو اپنے ساتھ بہا سکتا ہے؛ مگر موت کے سامنے پہنچ کر ہر انسان کو اپنے اختیار کردہ نظریے کا آخری نتیجہ ضرور دیکھنا ہوگا۔ اور شاید زندگی کو سمجھنے کا سب سے مشکل سوال یہی ہے کہ جب آخرکار سب کچھ چھوڑ دینا ہے تو پھر ہم ساری عمر کس چیز کو اپنا سمجھ کر جیتے رہے؟
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment