Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Monday, August 31, 2026

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ سوم)

#پاکستان_کا_مستقبل
#عوام_کا_پاکستان
#اصلاح_نظام

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ سوم)
بجلی، سولر اور IPPs — عوام کو صرف بل نہیں، مکمل حساب چاہیے
تحریر فیصل مقصود

ایک وقت تھا جب پاکستان بجلی کے شدید بحران سے گزر رہا تھا۔ لوڈشیڈنگ نے گھروں، دکانوں، کارخانوں، کاروبار اور زراعت سب کو متاثر کیا۔ عوام کو بتایا گیا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے۔ پھر ایک بڑی تعداد نے ریاست کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت حل تلاش کیا۔ لوگوں نے اپنی جمع پونجی سے سولر پینل خریدے، انورٹر خریدے، بیٹریاں خریدیں، تاریں، بریکر، اسٹینڈ اور تنصیب کے اخراجات برداشت کیے۔ کسی نے قرض لے کر سولر لگایا، کسی نے کئی سال کی بچت خرچ کر دی۔

یہ صرف سولر خریدنے کی کہانی نہیں تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ پاکستانی شہری مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے اور اگر اسے موقع ملے تو اپنی جیب سے بھی قومی توانائی کے مسئلے کا حصہ حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر لاکھوں صارفین اپنی بجلی خود پیدا کرنے کی طرف جا رہے تھے تو کیا ہماری قومی توانائی پالیسی نے اس تبدیلی کو بروقت سمجھا؟ کیا transmission، distribution، storage، grid management اور prosumer framework کو اسی رفتار سے تبدیل کیا گیا؟ کیا rooftop solar کو قومی energy mix کا باقاعدہ حصہ سمجھ کر طویل المدتی منصوبہ بنایا گیا؟ یا ہم ایک ایسے نظام میں پھنسے رہے جہاں بجلی پیدا کرنے، خریدنے، منتقل کرنے اور صارف تک پہنچانے کے الگ الگ مسائل ایک دوسرے پر بوجھ ڈالتے رہے؟

عوام کا ایک اور بنیادی سوال بجلی کی قیمت کے بارے میں ہے۔ اگر بجلی کے بل میں صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت شامل نہیں بلکہ power purchase، capacity-related charges، transmission، distribution، losses، taxes اور مختلف adjustments بھی شامل ہیں تو عام شہری کو اس پورے نظام کی سادہ زبان میں وضاحت کیوں نہیں دی جاتی؟ NEPRA کے موجودہ tariff اور power-sector records میں بجلی کی قیمت کے مختلف components اور periodic adjustments باقاعدگی سے سامنے آتے ہیں۔

اسی طرح IPPs کا مسئلہ بھی صرف یہ کہہ دینے سے حل نہیں ہوتا کہ "حکومت مہنگی بجلی خریدتی ہے"۔ اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ مختلف power purchase agreements کیسے بنے، capacity payments کی ضرورت اور لاگت کیا ہے، کن شرائط پر معاہدے ہوئے، ان معاہدوں نے قومی خزانے اور صارف پر کیا اثر ڈالا، کون سے معاہدے تبدیل یا ختم ہو سکتے ہیں، اور مستقبل میں ایسی planning کیسے کی جائے کہ بجلی کی قیمت قابلِ برداشت رہے۔ NEPRA کی اپنی تاریخی رپورٹس میں بھی capacity payments اور power-sector کے دیرینہ مسائل زیرِ بحث رہے ہیں۔

عوام کو کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نعرہ نہیں چاہیے۔ عوام کو ایک یونٹ بجلی کا مکمل حساب چاہیے۔

یہ بجلی کہاں پیدا ہوئی؟ کس قیمت پر پیدا ہوئی؟ کس قیمت پر خریدی گئی؟ transmission میں کیا خرچ آیا؟ distribution میں کیا خرچ آیا؟ losses کتنے ہوئے؟ capacity charges کتنے ہیں؟ taxes اور surcharges کتنے ہیں؟ اور آخرکار صارف کے بل تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت اتنی کیوں بن گئی؟

اگر حکومت یہ حساب شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھ دے تو شاید بہت سے سیاسی تنازعات خود ختم ہو جائیں۔

اور سولر کے بارے میں بھی ہمیں جذبات کے بجائے عقل سے کام لینا ہوگا۔ سولر صارف کو ریاست کا دشمن نہیں بلکہ energy transition کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ اگر عوام نے اپنی جیب سے rooftop solar میں سرمایہ کاری کی ہے تو حکومت کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو grid stability، consumer fairness اور renewable investment تینوں کو متوازن کرے۔ مستقبل کی generation planning میں بھی renewable sources، demand، storage اور grid requirements کو ایک مربوط انداز میں دیکھنا ہوگا؛ NEPRA کا 2025-35 IGCEP اسی نوعیت کی indicative planning کا ایک بنیادی دستاویز ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ سولر اچھا ہے یا برا، IPPs اچھے ہیں یا برے، سرکاری بجلی اچھی ہے یا نجی بجلی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پورا نظام عوام کے لیے سستا، قابلِ اعتماد، شفاف اور طویل المدتی طور پر پائیدار بنایا جا رہا ہے؟

اور یہی سوال تعلیم اور صحت کے بارے میں بھی اٹھتا ہے۔

کیونکہ بجلی کا بل انسان کی جیب خالی کرتا ہے، مگر ناقص تعلیم اور ناقص صحت انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

فیس بک پر ہمارا پیج لائک اور فالو کرنا مت بھولیں 
https://www.facebook.com/share/p/1K7Kcib3kZ/

No comments:

Post a Comment

WhatsApp