#پاکستان_کا_مستقبل
#عوام_کا_پاکستان
#اصلاح_نظام
پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ دوم)
پانی — آج کا ضائع کیا ہوا قطرہ کل کی پیاس بن سکتا ہے
تحریر فیصل مقصود
ہم بجلی کے بحران پر بات کرتے ہیں، مہنگائی پر بات کرتے ہیں، پٹرول پر بات کرتے ہیں، ڈالر پر بات کرتے ہیں، مگر ایک ایسا بحران ہماری طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات ان تمام بحرانوں سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں، اور وہ ہے پانی کا بحران۔
پاکستان میں پانی کا مسئلہ اب مستقبل کی کہانی نہیں رہا۔ سرکاری منصوبہ بندی کے ادارے نے بھی حالیہ برسوں میں groundwater depletion، آبادی میں اضافے، تیز شہری پھیلاؤ، غیر یقینی بارشوں اور climate stress کو پاکستان کی water security کے لیے سنجیدہ خطرات قرار دیا ہے۔ اپریل 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بھی واضح کیا کہ پاکستان کو صرف water crisis management سے آگے بڑھ کر water security planning کی طرف جانا ہوگا۔
مگر ہمارا المیہ دیکھیے۔ بارش آتی ہے تو ہم اسے مصیبت سمجھتے ہیں، پانی کم ہوتا ہے تو بحران کہتے ہیں، اور جو پانی چند گھنٹوں میں شہروں، نالوں اور دریاؤں سے بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے اسے ہم قومی دولت کے طور پر محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی بہت کم کرتے ہیں۔
ہر سال بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں پانی جمع ہوتا ہے، سڑکیں ڈوبتی ہیں، گلیاں ندیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، گھروں اور کاروباروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ پھر چند ماہ بعد یہی معاشرہ زیرِ زمین پانی کی گرتی سطح، خشک ٹیوب ویل، پانی کے مہنگے ذرائع اور پینے کے پانی کی قلت کی شکایت کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم بارش کے پانی کو صرف نکاسیٔ آب کا مسئلہ کیوں سمجھتے ہیں؟ اسے قومی آبی ذخیرے کے طور پر کیوں نہیں دیکھتے؟
ہمیں بڑے ڈیم ضرور چاہئیں۔ ہمیں بڑے آبی ذخائر، hydropower اور قومی سطح کے water infrastructure کی بھی ضرورت ہے، لیکن صرف بڑے ڈیموں کے انتظار میں ہر بارش کا پانی ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہر، ہر قصبے، ہر گاؤں، ہر مسجد، ہر اسکول، ہر کالج، ہر یونیورسٹی، ہر ہسپتال، ہر سرکاری عمارت اور ہر نئی ہاؤسنگ اسکیم میں rainwater harvesting اور groundwater recharge کو لازمی کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ سرکاری منصوبہ بندی کی دستاویزات میں خود rainwater harvesting، runoff harvesting اور groundwater recharge جیسے طریقوں کی ضرورت تسلیم کی جا چکی ہے۔
سوچیے، اگر کسی شہر میں بارش کا پانی نالی میں بہہ کر ضائع ہونے کے بجائے مناسب filtration کے بعد زمین میں اتارا جائے، اگر اسکول کی چھت کا پانی محفوظ کیا جائے، اگر مسجد کے صحن اور چھت سے آنے والے پانی کو ذخیرہ کیا جائے، اگر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کو اجازت ہی اس شرط پر ملے کہ وہ بارش کے پانی کو ضائع نہیں کرے گی، اگر صنعتوں میں wastewater recycling لازمی ہو، تو ہم صرف آج کا پانی نہیں بچا رہے ہوں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے زیرِ زمین ذخیرہ بھی بنا رہے ہوں گے۔
اور یہاں ایک سوال ہمارے بااثر اور مالدار طبقے سے بھی ہے۔ جن لوگوں کے پاس انتخابات لڑنے، مہم چلانے، جلسے کرنے، اثر و رسوخ قائم رکھنے اور سیاست پر خطیر رقم خرچ کرنے کی استطاعت موجود ہے، کیا وہ اپنے علاقے میں ایسا منصوبہ نہیں بنا سکتے جس سے ہزاروں لوگوں کو مستقل پانی ملے؟ کسی چوک پر اپنا نام لکھوانے، کسی تقریب کی تشہیر کرنے یا سیاسی بینر لگانے سے کہیں بڑی عوامی خدمت یہ ہے کہ کسی علاقے میں پانی کا ذخیرہ بنا دیا جائے جو کئی نسلوں تک لوگوں کے کام آئے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پانی صرف پینے کا مسئلہ نہیں۔ پانی زراعت ہے، خوراک ہے، صنعت ہے، بجلی ہے، روزگار ہے، صحت ہے اور قومی سلامتی ہے۔ اگر پانی کم ہوگا تو کسان متاثر ہوگا، خوراک مہنگی ہوگی، صنعت متاثر ہوگی، شہروں پر دباؤ بڑھے گا اور بالآخر غریب سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔
یہ مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں۔ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔
لیکن اگر ہم نے آج اس مسئلے پر سنجیدہ قومی اتفاقِ رائے پیدا نہ کیا تو آنے والے وقت میں شاید ہمارے پاس ہر چیز کی قیمت معلوم کرنے کے لیے پیسہ ہو، مگر پانی خریدنے کے لیے پانی ہی نہ ہو۔
اور پانی کے بعد ہماری توانائی کی کہانی بھی کم تلخ نہیں۔
کیونکہ جس عوام کو کبھی بجلی کے بحران سے نکالنے کے لیے سولر کی طرف بھیجا گیا، اسی عوام نے اپنی جیب سے توانائی کے نظام میں اربوں روپے لگا دیے۔
اب سوال یہ ہے کہ ریاست نے اس عوامی سرمایہ کاری کو قومی توانائی پالیسی کا حصہ کتنا بنایا؟
#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks
No comments:
Post a Comment