Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Saturday, August 29, 2026

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ اول)


#پاکستان_کا_مستقبل
#عوام_کا_پاکستان
#اصلاح_نظام

پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ اول)
ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف منصوبے بنا رہے ہیں؟
تحریر فیصل مقصود

کبھی ایک لمحے کے لیے اپنے سیاسی تعصبات، جماعتی وابستگیوں، پسندیدہ لیڈروں، سوشل میڈیا کی لڑائیوں اور ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی مسلسل کوشش سے باہر نکل کر پاکستان کو ایک عام پاکستانی کی آنکھ سے دیکھیں۔ اس شخص کی آنکھ سے جو صبح گھر سے نکلتا ہے، سارا دن محنت کرتا ہے، مہینے کے آخر میں بجلی، گیس، پٹرول، موبائل، اشیائے خورونوش اور نہ جانے کتنی چیزوں پر براہِ راست یا بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے، لیکن جب وہ ریاست سے اپنے حصے کی بنیادی سہولت مانگتا ہے تو اسے مہنگی تعلیم، مہنگا علاج، بجلی کے بھاری بل، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، نکاسیٔ آب کے مسائل، صاف پانی کی کمی، بے روزگاری، سفارش اور انصاف کے لیے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر اسی شخص کو بتایا جاتا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں منصوبے بن رہے ہیں یا نہیں۔ یقیناً منصوبے بنتے ہیں، سڑکیں بنتی ہیں، پل بنتے ہیں، عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں، بجلی کے منصوبے لگتے ہیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں کا نتیجہ عام آدمی کی زندگی میں کتنا ظاہر ہوتا ہے؟ اگر ایک خوبصورت سڑک کے ساتھ چند گلیاں ہر بارش میں ندی بن جائیں، اگر ہسپتال کی عمارت موجود ہو مگر ڈاکٹر، نرس، بستر، مشین یا دوا دستیاب نہ ہو، اگر اسکول کی عمارت موجود ہو مگر وہاں ایسی تعلیم نہ ملے جو بچے کو مستقبل کے مقابلے کے قابل بنا سکے، تو ہمیں منصوبے کی تصویر سے زیادہ اس کے نتیجے پر سوال کرنا چاہیے۔

ترقی صرف یہ نہیں کہ حکومت نے کتنے ارب روپے خرچ کیے۔ ترقی یہ ہے کہ اس خرچ کے بعد کتنے بچے بہتر تعلیم حاصل کر سکے، کتنے مریض بروقت علاج سے صحت یاب ہوئے، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا، کتنے کسانوں کی پیداوار بڑھی، کتنے گھروں کو صاف پانی ملا، کتنے علاقوں میں سیوریج بہتر ہوا اور کتنے خاندانوں کی زندگی آسان ہوئی۔ اگر سرکاری بجٹ بڑھتا رہے مگر عام آدمی کی بنیادی مشکلات اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو ہمیں یہ پوچھنے کا حق ہے کہ ہماری ترجیحات درست ہیں یا نہیں؟

پاکستان کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم پانچ سالہ سیاسی ادوار میں پچاس سال کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت بدلتی ہے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں، منصوبوں کے نام بدل جاتے ہیں، تختیاں بدل جاتی ہیں اور بعض اوقات پہلے سے جاری منصوبے بھی سیاسی وابستگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اب ایسے قومی منصوبوں کی ضرورت ہے جو حکومتوں سے بڑے ہوں؛ پانی، تعلیم، صحت، توانائی، زراعت، صنعت، برآمدات، آبادی، ماحول اور نوجوانوں کے لیے ایسی پالیسی جو کسی ایک حکومت کے آنے یا جانے سے ختم نہ ہو۔

دنیا میں وہ قومیں آگے نکل گئیں جنہوں نے اپنی سیاست سے اوپر اپنے قومی مفادات کو رکھا۔ ہم نے اکثر سیاست کو قومی ترجیحات پر فوقیت دے دی۔ ہم اس بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ کس لیڈر نے کیا کہا، کس جماعت نے کس کے خلاف بیان دیا، کس نے کس کو شکست دی، مگر اس دوران ہماری اصل بحث پیچھے رہ جاتی ہے کہ پاکستان کو اگلے دس، بیس اور پچاس سال میں کہاں کھڑا ہونا ہے۔

آج بھی ہمارے سامنے موقع موجود ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، زراعت، صنعت، سمندر، معدنی وسائل، انسانی صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت سب کچھ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان وسائل کو مستقل، شفاف اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت ابھی تک ہماری سب سے بڑی طاقت نہیں بن سکی۔

اور شاید ہماری سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ہم ان تمام مسائل کے بیچ ایک ایسے بحران کو نظرانداز کر رہے ہیں جو آنے والے برسوں میں ہماری معیشت، زراعت، خوراک، شہروں اور گھروں تک کو متاثر کر سکتا ہے۔

وہ بحران ہے پانی کا۔

یہ صرف پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں، یہ آنے والی نسلوں کے وجود کا سوال ہے۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

فیس بک پر ہمارا پیج لائک اور فالو کرنا مت بھولیں 
https://www.facebook.com/share/p/1JRHPYnBL6/

No comments:

Post a Comment

WhatsApp