Faisal Maqsood
YouTube TikTok Twitter Snapchat Facebook Page Political WhatsApp
Latest Posts

Friday, August 28, 2026

جب ایک شخص کا نشہ پورے گھر کو کھا جائے

#نشہ_صرف_فرد_نہیں_خاندان_برباد_کرتا_ہے
#اولاد_کی_ذمہ_داری
#معاشرتی_تلخ_حقائق

جب ایک شخص کا نشہ پورے گھر کو کھا جائے
تحریر فیصل مقصود

ہمارے جاننے والوں میں ایک خاتون ہیں جن کے شوہر نامدار، عزت مآب صاحب نشے کی ایسی لت میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ اب انہیں اپنے گھر، اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے زیادہ اپنے نشے کی فکر رہتی ہے۔ تعجب اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ ان کے والد صاحب اپنے علاقے کے ایک باعزت اور خدمت گزار انسان تھے۔ بیوہ خواتین، ضرورت مند خاندانوں اور مجبور لوگوں کے لیے ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھیں، مگر کبھی کبھی انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک نیک باپ کی اولاد میں بھی ایسی تباہ کن عادتیں کیسے جنم لے لیتی ہیں۔ حقیقت شاید یہی ہے کہ والدین کی نیکی اولاد کے لیے راستہ تو بنا سکتی ہے، مگر اولاد کو اس راستے پر چلانا صرف نسب سے ممکن نہیں ہوتا۔

موصوف کے تین بیٹے ہیں، ابھی اتنے بڑے بھی نہیں کہ گھر کی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں۔ باپ کبھی کہیں ملازمت کرتا بھی ہے تو دو چار دن، زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ کام کر پاتا ہے، پھر سستی، کاہلی اور نشہ اسے دوبارہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ گھر میں راشن ہو یا بچوں کی فیس، بجلی کے بل ہوں یا روزمرہ کی ضروریات، ان سب سے زیادہ اہم اس کے لیے نشے کا انتظام بن چکا ہے۔ کئی مرتبہ اس کی بیوی کو کھانا پکانے کا سامان یا بچوں کے لیے ضروری چیزیں لا کر دی گئیں کہ کم از کم گھر کا چولہا جلتا رہے، مگر وہ پیسے یا سامان بھی چوری کر کے نشے کی نذر کر دیتا ہے۔ ذرا سوچیے، جس عورت کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دی گئی چیز بھی اپنے ہی شوہر سے چھپانی پڑے، اس عورت کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟

اس عورت کی سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی حرکتوں کو برداشت کرنے کے سوا بظاہر کچھ کر بھی نہیں سکتی۔ تین بچے زیرِ تعلیم ہیں، گھر کے اخراجات الگ، بل الگ، راشن الگ اور مستقبل کی فکر الگ۔ مسلسل پریشانی، خوف، بے بسی اور ذہنی اذیت نے اسے اندر ہی اندر بیمار کر دیا ہے۔ طبیعت بیزار رہتی ہے، جسم ساتھ نہیں دیتا، مگر گھر کی ذمہ داریاں اسے آرام بھی نہیں کرنے دیتیں۔ دوسری طرف شوہر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اسے اس بات کی فکر نہیں کہ بچے کیا کھائیں گے، ان کی فیس کیسے جائے گی یا گھر کا خرچ کہاں سے آئے گا؛ اسے فکر ہے تو صرف اس چیز کی جس نے اس کے اپنے جسم، عقل، عزت اور گھر سب کو کھوکھلا کر دیا ہے۔

اور المیہ صرف یہیں ختم نہیں ہوتا۔ نشے نے اس شخص کی اپنی صحت بھی تباہ کر دی ہے۔ کہیں مدہوش پڑا ملتا ہے، کہیں بے ہوش ہو جاتا ہے۔ چند روز پہلے نشے کی حالت میں سڑک پر نکلا تو ایک گاڑی سے ٹکر ہو گئی، زخمی ہوا اور اپنی تکلیف کا ایک نیا باب کھول بیٹھا۔ نشہ صرف انسان کے پیسے نہیں کھاتا، یہ پہلے اس کی صحت کھاتا ہے، پھر اس کی عزت، پھر اس کے رشتے، پھر اس کے گھر کا سکون اور آخرکار اس کے بچوں کا مستقبل بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اس کے بہن بھائی بھی اب اس کی زبان اور رویے سے تنگ آ کر ملنا جلنا کم کر چکے ہیں۔ جب انسان اپنے قریب ترین لوگوں کو بھی اپنے رویوں سے دور کر دے تو اسے ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ مسئلہ دنیا میں نہیں، کہیں نہ کہیں اس کے اپنے اندر بھی ہے۔

والدین جب تک حیات تھے، شاید اس شخص کی سستی، کاہلی اور ناکارہ پن کے کئی پردے قائم رہے۔ باقی بہن بھائی ماں باپ کا سہارا بنتے، ماہانہ خرچا بھیجتے اور یوں کسی نہ کسی طرح گھر کا بھرم قائم رہتا۔ مگر والدین کے دنیا سے چلے جانے کے بعد وہ سہارا بھی ختم ہو گیا اور بہن بھائیوں نے بھی اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو کر اس شخص سے فاصلہ اختیار کر لیا۔ اب وہ تمام پردے چاک ہو چکے ہیں جن کے پیچھے برسوں سے ایک ناکام زندگی چھپی ہوئی تھی۔ یہ منظر ہمیں ایک اور تلخ حقیقت بتاتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کو ساری عمر سہارا نہیں دے سکتے۔ ایک دن وہ چلے جاتے ہیں، پھر انسان کو اپنے اعمال کے ساتھ تنہا کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے کتنے ہی گھر ہیں جہاں ایک نشئی شخص کی سزا پوری فیملی بھگت رہی ہے۔ کسی گھر میں بیوی خاموشی سے آنسو بہا رہی ہے، کسی گھر میں بچے باپ سے نظریں چرا رہے ہیں، کسی گھر میں ماں اپنی اولاد کا مستقبل سوچ سوچ کر بیمار ہو رہی ہے۔ بعض اوقات خاندان لاکھوں روپے خرچ کر دیتا ہے، علاج کرواتا ہے، بحالی کے مراکز تک لے جاتا ہے، بار بار موقع دیتا ہے، مگر نتیجہ بہت معمولی نکلتا ہے۔ کچھ لوگ واقعی سنبھل جاتے ہیں، اپنی زندگی واپس حاصل کر لیتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سدھرنے کے بجائے اپنے ساتھ اپنے پورے خاندان کو ہلکان کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔

ہمیں یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نشے کے عادی شخص پر صرف لعنت بھیج دینا مسئلے کا حل نہیں۔ نشہ ایک تباہ کن بیماری اور عادت ہے جس کے علاج کے لیے پیشہ ورانہ مدد، مسلسل نگرانی اور خود اس شخص کی سنجیدہ کوشش ضروری ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک شخص کی غلطی کی قیمت اس کی بیوی اور معصوم بچوں سے ہمیشہ نہیں وصول کی جا سکتی۔ اگر کوئی شخص بار بار علاج سے انکار کرے، گھر کا خرچ برباد کرے، بیوی بچوں کو بھوکا رکھے یا ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے تو خاندان اور معاشرے کو صرف تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے۔ مدد ضرور کیجیے، مگر ایسی مدد جو گھر کو بچائے، نہ کہ نشے کو پالے۔

اور شاید اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اولاد کو صرف جائیداد، پیسہ اور نام ورثے میں دینا کافی نہیں، انہیں کردار بھی ورثے میں دینا پڑتا ہے۔ باپ کتنا ہی عزت دار کیوں نہ ہو، اگر اولاد کو محنت، ذمہ داری، خودداری، حلال روزی اور اپنے فیصلوں کے نتائج برداشت کرنے کا شعور نہیں دیا گیا تو ایک نسل کی عزت اگلی نسل کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ انسان کا اصل سرمایہ اس کا کردار ہے۔ دولت ختم ہو سکتی ہے، جائیداد چھن سکتی ہے، خاندان کا سہارا بھی ایک دن اٹھ سکتا ہے، لیکن اگر انسان نے اپنے اندر ذمہ داری پیدا نہیں کی تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی ہی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔

نشہ کرنے والا شاید چند لمحوں کے لیے اپنی حقیقت سے بھاگ جاتا ہے، مگر اس کی بیوی اور بچے ہر لمحہ اس حقیقت کے ساتھ جیتے ہیں۔ اس لیے نشے کو صرف ایک فرد کی عادت سمجھنا چھوڑنا ہوگا؛ یہ پورے خاندان کی تباہی کا راستہ بن سکتا ہے۔ اور جو شخص اپنے بچوں کی آنکھوں میں مستقبل دیکھنے کے بجائے نشے کے دھوئیں میں اپنی دنیا تلاش کرتا ہے، اسے ایک دن ضرور سمجھ آتا ہے کہ نشہ اس کا دوست نہیں تھا، وہ اس کی زندگی کا سب سے خاموش دشمن تھا۔

#اعوانیات
#MFA
#AwanTalks

No comments:

Post a Comment

WhatsApp